Global Editions

بھارت کے 2019ء کے انتخابات میں ای ووٹنگ کا استعمال

شہاب الدین یعقوب قریشی بھارت کے سابق چیف الیکشن کمیشنراورAn Undocumented Wonder – The Making of the Great Indian Election نامی کتاب کے مصنف ہیں۔

ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان نے ان سے بات کرکے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ٹیکنالوجی سے وابستہ اقدام کے متعلق جاننے کی کوشش کی۔ یہ انٹرویو بذریعہ ای میل منعقد کیا گيا تھا۔

سوال: الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں بھارت میں تقریباً دو دہائی پہلے متعارف کی گئی تھیں۔ لیکن اس کے بعد سے انتخابی عمل میں، خاص طور پر نتائج کی ترسیل کے حوالے سے، ٹیکنالوجی کے حوالے سے زيادہ پیش رفت نہيں ہوئی ہے۔ آپ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے سربراہ رہ چکے ہیں اور آپ اصلاحات متعارف کرنے کی خواہش کی وجہ سے کافی مشہور رہ چکے ہیں۔ آپ کی کیا رائے ہے؟

بھارت میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینز کی ٹیسٹنگ سب سے پہلے کیرالہ کے 1982ء کے اسمبلی کے انتخابات کے دوران کی گئی تھی۔ تاہم سپریم کورٹ نے انتخابی قوانین میں ان مشینوں کی گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے ان پر پابندی عائد کردی، جس کی وجہ سے انہیں 1998ء تک دوبارہ استعمال نہیں کیا جاسکا۔
نمائندگی کے قوانین میں ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن آف انڈیا نے نومبر 1998ء میں مدھیا پردیش، راجستھان اور دہلی میں اسمبلی کے 16 حلقوں میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینز کے ذریعے ووٹنگ شروع کروائی اور اب ان مشینوں کا استعمال ہر ریاستی انتخاب میں کیا جاتا ہے۔

2004ء میں لوک سبھا کے عام انتخابات میں پہلی دفعہ مکمل طور پر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر انحصار کیا گيا تھا۔ اس کے بعد سے ان مشینوں میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی میں مسلسل بہتریاں لائی جارہی ہیں۔ اب تک ان مشینوں کے کئی ورژنز استعمال کیے جاچکے ہیں جن میں سے ہر ایک میں سیکورٹی کے حوالے سے اضافی فیچرز شامل کیے گئے تھے۔ 1989ء اور 2006ء کے درمیان M1 مشینیں استعمال کی گئی تھیں۔ اس وقت M2 مشین استعمال کی جارہی ہے جو ووٹرز ویریفائیایبل پیپر آڈٹ ٹریل (Voters Verifiable Paper Audit Trail – VVPAT) ٹیکنالوجی سے مطابقت رکھتی ہے اور جس میں بٹن دبا کر قابل رسائی فیچرز کی انکریپشن اور ٹائم سٹیمپنگ شامل ہیں۔ تاہم M3 ماڈل، جس میں خود کی تشخیص کرنے کے فیچرز شامل ہيں، 2013ء سے دستیاب ہے اور یہ آہستہ آہستہ M2 کی جگہ لے رہا ہے۔ یہ نیا ماڈل عام روٹین میں مداخلت کی صورت میں خودبخود بند ہوجاتا ہے۔

پرتیبھا دیوی سنگھ پاٹل بحیثیت بھارتی صدر 2009ء کے عام انتخابات کے دوران پندرہویں لوک سبھا کے منتخب کردہ پارلیمانی ممبران کے ناموں پر مشتمل نوٹیفیکیشن وصول کرتے ہوئے۔ یہ نوٹیفیکیشن 18 مئی 2009ء کو اس وقت کے چیف الیکشن کمیشنر آف انڈيا نوین چاولا اور الیکشن کمیشنرز ڈاکٹر شہاب الدین یعقوب قریشی اور وی ای سمپتھ کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔

الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں بہت کامیاب ثابت ہوئی ہیں اورVVPAT متعارف ہونے کے بعد ووٹنگ کے نظام میں فریب دہی کی گنجائش بالکل ختم ہوچکی ہے۔ 2017ء سے تمام ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں VVPAT ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جارہا ہے۔ تقریباً 1500 کیسز میں پرچیاں جاری کی گئی ہيں اور اب تک کسی بھی قسم کی بےقاعدگی سامنے نہیں آئی ہے۔

2019ء کے عام انتخابات میں تقریباً بیس لاکھ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال کیا گیا تھا جن میں سے سب میں VVPAT مشینیں لگائی گئی تھیں۔ بیس ہزار سے زیادہ ‎VVPAT مشینوں کو گنا گیا تھا اور اس بار بھی کوئی بھی بے قاعدگی سامنے نہیں آئی۔

یا آپ VVPAT کی دوبارہ گنتی پر سپریم کورٹ کی ہر حلقے میں پانچ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی پابندی سے مطمئن ہیں؟ ایک نظریہ یہ ہے کہ پورے ملک کو مجموعی طور پر شمار کرنے کے بجائے ہر صوبے کو علیحدہ طور پر تصور کیا جائے تاکہ سیمپل کا سائز اعداد و شمار کے لحاظ سے مناسب ہو۔ کیا آپ اس رائے سے متفق ہيں؟

میری نظر میں اسمبلی کے ہر حلقے میں ایک مشین سے گنتی کروانا ہی غلط تھا۔ سپریم کورٹ کا بھی یہی خیال تھا اور انہوں نے الیکشن کمیشن کو اسمبلی کے ہر حصے میں پانچ پولنگ بوتھس کے ساتھ VVPAT کی پرچیوں کی بے ترتیب میچنگ میں اضافہ کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ اس کے بعد 21 مخالف پارٹیوں نے سپریم کورٹ سے کم از کم 50 فیصد حلقوں میں VVPAT پرچیوں کی تصدیق کرنے کا مطالبہ کیا۔ تاہم اس مطالبے کو غیرمناسب قرار دے دیا گیا۔
میرے خیال میں VVPAT کی بیس ہزار سے زیادہ پرچیوں میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی نہ نکلنا ہی ٹیکنالوجی کی کامیابی کا بہت بڑا ثبوت ہے۔ بلکہ 2019ء کے انتخابات کی سب سے بڑی کامیابی VVPAT ہی ہے۔

انتخابات کے روز تک انتخابی عمل میں بہت کچھ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر انتخابی نتائج میں حلقوں کا تعین، ووٹرز کی رجسٹریشن، انتخابی فہرستوں کی تیاری اور انتخابی مہم کے لیے ضابطہ اخلاق کے نفاذ وغیرہ بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان سرگرمیوں میں کئی بے ضابطگیاں بھی پائی جاتی ہیں۔

ٹیکنالوجی کی مدد سے انتخابات سے پہلے کے مراحل کو بہتر بنانے کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟

یہ کہنا غلط نہيں ہوگا کہ الیکشن کمیشن ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بھارت کا سب سے ترقی یافتہ ادارہ ہے۔ ایک طرح سے اس کا وفاقی اداروں کے ٹیکنالوجی سے وابستہ شک و شبہات دور کرنے میں بھی کافی بڑا ہاتھ ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں اور VVPAT ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہمیں پوری دنیا میں سراہا گیا ہے۔

پچھلے چند سالوں میں بوتھ کے انتظام، ضابطہ اخلاق کی نگرانی اور ووٹر کی آگاہی وغیرہ میں کئی مختلف اقسام کی ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا جارہا ہے۔
ووٹرز کے رجسٹریشن کی مثال لے لیں۔ اس وقت اس عمل میں ٹیکنالوجی کی وجہ سے بہت سہولت ہوگئی ہے۔ رجسٹریشن دفتر جائے بغیر خود کو رجسٹر کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ایک نیشنل ووٹر سروس پورٹل متعارف کیا ہے جس میں رجسٹریشن، ایپلیکیشن کی ٹریکنگ اور متعلقہ بوتھ کے افسران کی تفصیلات جیسی معلومات حاصل کرنے کی سہولت شامل ہے۔

ووٹر کے تصویری شناختی کارڈ کے استعمال نے بھی منصفانہ انتخابات کو ممکن بنانے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ انتخابات کے دوران دوسرے قسم کے شناختی کارڈز کی بھی اجازت دی جاتی ہے تاکہ کوئی بھی شخص ووٹ دینے کے حق سے محروم نہ ہو۔
ماضی میں کسی بھی ایک حلقے میں یا مختلف حلقوں میں واقع مختلف پولنگ بوتھس میں ووٹ کے متعدد اندراجات کی وجہ سے انتخابی عمل میں کئی بے ضابطگیاں پائی جاتی تھیں۔ اس وقت انتخابی فہرست کو آدھار (Aadhaar) کارڈ (ہر بھارتی شہری کو جاری کردہ 12 ہندسوں پر مشتمل منفرد نمبر) کی ڈیٹابیس سے لنک کرنے کا کام جاری ہے ۔تاہم اس سے اب تک کافی بہتری آچکی ہے۔

نیشنل انفارمیٹکس سینٹر کے تیار کردہ ایک سافٹ ویئر کی مدد سے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے لیے پولنگ کے عملے کی ڈیٹابیس میں بے ترتیبی متعارف کرانا ممکن ہوگیا ہے۔ اس سے ان پولنگ سٹیشنز کو پوشیدہ رکھا جاسکتا ہے جہاں اس عملے کو پوسٹ کیا جائے گا۔ پولنگ پارٹی کے عملے کو اس طرح سے الٹ پلٹ کیا جاتا ہے کہ دو افراد کا تعلق ایک ہی ڈیپارٹمنٹ سے نہيں ہوتا۔

ضابطہ اخلاق کے مطابق، امیدواروں اور سیاسی پارٹیوں کو انتخابی مہم کے دوران ریلیوں اور پبلک میٹنگز کے لیے اجازت لینے کی ضرورت ہے۔ سوگم نامی پورٹل کی مدد سے اجازت حاصل کرنے کے عمل میں مکمل طور پر شفافیت متعارف ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ شکایات کے حل کے لیے علیحدہ پورٹل بھی موجود ہے۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے انتخابات کی نگرانی کے لیے ویڈیو کانفرنسنگ ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا ہے۔ پورے انتخابی عمل کو پولنگ سٹیشن سے بذریعہ انٹرنیٹ لائیو ویب کاسٹ کیا جاسکتا ہے تاکہ کسی بھی پولنگ سٹیشن پر ملک بھر میں کسی بھی جگہ سے نظر رکھی جاسکے۔
ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے لیے، کمیشن نے ‘‘سی وجل’’ (cVIGIL) نامی ایپ متعارف کی ہے جس کے ذریعے شہری تصویروں اور ویڈیوز کے ساتھ اپنی شکایت درج کرسکتے ہیں۔

کمیشن ہر مرحلے میں ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے انتخابات کو آزاد، منصفانہ اور شفاف بنانے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہے۔ اگر اکیسویں صدی میں انتخابات منعقد کرانے ہیں تو اس رجحان کو جاری رکھنا چاہیے۔

آپ نے سیکورٹی خدشات کی وجہ سے انٹرنیٹ ووٹنگ پر کافی تنقید کی ہے۔ موجودہ نظام میں آن لائن رجسٹریشن ممکن ہے لیکن ریموٹ ووٹنگ کی گنجائش نہيں ہے۔ کیا الیکشن کمیشن آف انڈیا نے بیرون ملک بھارتی شہریوں کے ووٹنگ کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے دوسرے طریقے ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے؟

اس وقت تقریباً 1.3 کروڑ بھارتی شہری بیرون ملک مقیم ہیں، جن میں سے 70 لاکھ افراد بالغ ہیں اور ووٹ ڈالنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ جب 2014ء میں پہلی دفعہ سپریم کورٹ میں بیرون ملک مقیم بھارتی شہریوں کے لیے پراکسی ووٹنگ کا مسئلہ اٹھایا گيا تھا تو الیکشن کمیشن کو اس تجویز پر کام کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کرنے کا حکم جاری کیا گيا تھا۔ اس کے بعد کمیٹی فار ایکسپلورنگ فیزیبلٹی آف آلٹرنیٹوآپشنز فار ووٹنگ بائی اوورسیز الیکٹرز (Committee for Exploring Feasibility of Alternative Options for Voting by Overseas Electors) نامی کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ اس میں دنیا بھر کے موجودہ نظاموں کا معائنہ کرنے کے بعد چار آپشنز سامنے آئے تھے – ایمبیسی میں ووٹ ڈالنا، آن لائن ووٹنگ، ڈاک یا ای پوسٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنا اور پراکسی ووٹنگ۔

کمیٹی کے مشورے کے مطابق ای پوسٹل ووٹ اور پراکسی ووٹنگ کو صرف تین شرائط کے تحت استعمال کیا جاسکتا تھا۔ پہلی شرط یہ تھی کہ کوئی ایک شخص صرف ایک ہی بیرون ملک مقیم ووٹر کے لیے پراکسی کی خدمات انجام دے سکتا ہے۔ دوسری شرط کے مطابق ووٹرز صرف اپنے ہی حلقے میں رہائش پذیر ووٹرز کو اپنے پراکسی کے طور پر نامزد کرسکتے تھے۔ آخر میں پراکسی کی نامزدگی اس وقت تک جائز رہنے والی تھی جب تک ووٹر خود اسے منسوخ کرکے کوئی نیا پراکسی نہيں منتخب کرتا۔

لوک سبھا نے ایک بل کو منظوری دے دی ہے جس میں پراکسی ووٹنگ کی گنجائش ہے۔ تاہم اسے اب تک پارلیمان کے ایوان بالا سے منظوری حاصل نہيں ہوسکی ہے۔

میرے خیال میں پراکسی ووٹنگ کے تصور میں کچھ بنیادی مسائل ہیں۔ مثال کے طور پر، کیا بیرون ملک مقیم بھارتی شہریوں کو فراہم کی جانے والی اس سہولت سے ان لوگوں کے خلاف امتیازی سلوک تو نہيں ہوتا جو کسی دوسرے ملک کے بجائے بھارت کے اندر ہی کسی دوسرے شہر میں منتقل ہوگئے ہيں اور اپنے آبائی حلقوں میں ووٹ ڈالنے کا حق رکھتے ہيں؟ اس کے علاوہ بھارت میں جس ضابطہ اخلاق کا اطلاق کیا جاتا ہے، اسے بیرون ملک میں استعمال کرنا ناممکن ثابت ہوگا۔ کیا یہ بھی امتیازی سلوک کے زمرے میں آئے گا؟ اس کے علاوہ، آجرین کی طرف سے دباؤ اور ترغیبات پر نظر نہیں رکھی جاسکتی جس کی وجہ سے اس بات کی بھی ضمانت نہيں دی جاسکتی کہ بیرون ملک مقیم بھارتی ووٹرز آزاد اور منصفانہ طریقے سے ووٹ ڈالیں گے۔ یاد رکھیں کئی بیرون ملک مقیم افراد غربت کا شکار ہیں اور اپنے آجرین کے رحم و کرم پر ہيں جو ان کے پاس پاسپورٹ تک ضبط کرلیتے ہيں۔ پھر اس بات کی ضمانت کس طرح دی جاسکتی ہے کہ پراکسی ووٹ فروخت نہیں کیے جارہے؟ اور یہ کس طرح چیک کیا جائے گا کہ پراکسی بیرون ملک ووٹر کی خواہشات کے مطابق ووٹ ڈال رہا ہے؟ آخری وجہ یہ ہے کہ پراکسی ووٹنگ سے ووٹ کی رازداری فاش ہوجائے گی۔ یہی وجہ تھی کہ سابقہ چیف الیکشن کمیشنر این گوپال سوامی نے پراکسی ووٹنگ کو بھڑوں کے چھتے سے مشابہت دی تھی۔

بھارتی شہری ووٹ ڈالنے کے لیے قطار میں کھڑے ہو کر اپنے الیکٹر تصویری شناختی کارڈز دکھا رہے ہيں۔

ڈاکٹر شہاب الدین قریشی بحیثیت چیف الیکشن کمیشنر 3 مارچ 2012ء کو پانچ ریاستوں کے انتخابات کی پولنگ کے اختتام پر نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں۔ اس تصویر میں وی ایس سمپتھ اور ایچ ایس براہم بھی موجود ہيں۔

الیکٹرانک ووٹنگ مشین ووٹر ویریفائیڈ پیپر آڈٹ کے لیے استعمال کی جانے والی الیکٹرانک مشین۔

تحریر: عمیر رشید (Umair Rasheed)

مترجم: صوفیہ ضمیر

Read in English

Authors

*

Top