Global Editions

ایک بھارتی سیاست دان کی جعلی ویڈيوز کی مدد سے نئے ووٹرز حاصل کرنے کی کوشش

جریدے وائس (‎Vice) کے مطابق فروری میں دہلی کے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل واٹس ایپ پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے صدر منوج تواری کی ایک جعلی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔ اس قسم کی ویڈيوز کو ڈیپ فیکس (deepfakes) کہا جاتا ہے اور ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ دنیا کی کسی بھی سیاسی پارٹی نے انتخابی مہموں کے لیے ان کا استعمال کیا ہو۔ اصلی ویڈيو میں تواری انگريزی زبان میں اپنے سیاسی مخالف اروند کیجریوال پر تنقید کرنے کے ساتھ دیکھنے والوں کو بی جے پی کو ووٹ دینے کی تلقین کررہے ہيں۔ تاہم جعلی ویڈيو میں ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے تواری کو بی جے پی کے ووٹروں کے ہریانوی لہجے میں بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

اس کا کیا مقصد ہے؟ بی جے پی نے بھارت میں بولی جانے والی 20 سے زائد زبانیں بولنے والوں ووٹروں کے لیے ڈیپ فیکس بنانے کے لیے سیاستی مواصلت کی کمپنی دی آئيڈياز فیکٹری (The Ideaz Factory) کے ساتھ پارٹنرشپ کی ہے۔ بی جے پی نے وائس کو بتایا کہ منوج تواری کی ڈیپ فیک ویڈیو 5،800 واٹس ایپ گروپس میں 1.5 کروڑ افراد تک پہنچ چکی ہے۔

یہ پریشانی کی وجہ کیوں ہے؟ ماضی میں پہلے بھی سیاسی مہموں کے دوران ڈيپ فیکس سامنے آئی ہیں۔ مثال کے طور پر پچھلے سال ریسرچرز نے ایک جعلی ویڈيو بنائی تھی جس میں برطانیہ کے عام انتخاب کے دو امیدوار ایک دوسرے کی حمایت کررہے تھے۔ اس ویڈيو کا مقصد ووٹروں کے ارادے تبدیل کرنا نہيں تھا بلکہ صرف ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے متعلق آگاہی فراہم کرنا تھا۔ تاہم بھارت میں جو ویڈيوز سامنے آئی ہيں ان کا مقصد ووٹ حاصل کرنا ہے۔ اس قسم کی سرگرمیوں کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہوگا کہ ایک دن ایک ایسا وقت آئے گا جب لوگوں کی سچی اور جھوٹی ویڈیوز کے درمیان امتیاز کرنے کی صلاحیت ختم ہوجائے گی۔ اگر ایسا ہوا تو ممکن ہے کہ سچی ویڈيوز کو بھی لوگ جعلی قرار دے دیں گے۔ اس سے ایک نازک سیاسی صورتحال مزيد بگڑ جائے گی۔

تحریر: شارلٹ جی (Charlotte Jee)

تصویر: بے جی پی کا یوٹیوب چینل

Read in English

Authors

*

Top