Global Editions

کسی حصے کو حرکت دئیے بغیربرقی جہاز نے پہلی اڑان بھر لی

ٹربائن کے بغیر ڈیزائن کیا گیا جہازالیکٹرو ڈائنامک کا استعمال کرتا ہے اور خاموشی اور بہت تھوڑے گیسوں کے اخراج سے فلائنگ انڈسٹری میں نئی داغ بیل ڈال سکتا ہے۔

آپ کا عام جیٹ طیارہ تیز رفتار بلیڈ وں سے بھرا ہوا ہے۔ ہمیں آسمان پر جانے کے لیے زور پیدا کرنے کے لئے ٹربائنز اور پروپیلرز کی ضرورت ہوتی ہے۔
آج نیچر رسالے میں چھپنے والے ایک پیپر میں ایم آئی ٹی محققین نے رپورٹ کیا ہے کہ انہوں نے پہلا ایسا طیارہ تیار کیا ہے جسے اپنے حصوں کو حرکت دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ 2.45کلوگرام یا 5.4 پائونڈ کا تجرباتی طیارہ تجربہ طیارہ اپنے آپ کو حرکت دینے کے لئے ٹربائن بلیڈز کو 60 میٹر نہیں اچھالتا(200 فٹ جو کہ ایک سکول کے جم کے برابر کی لمبائی ہے): یہ براہ راست بجلی استعمال کرتا ہے۔

ٹیکنالوجی میں تیزی لانے سے مستقبل کے طیارے محفوظ، خاموش اور ان کو سنبھالنا آسان ہو گا۔ سب سے زیادہ اہم ترین بات یہ ہے کہ اس سے گیسوں کا اخراج ختم ہو گاکیونکہ یہ سارا بیٹری پر چلے گا۔

مقناطیسی فیلڈ کے ساتھ مینوفیکچرنگ کا ایک ایسا طریقہ ایجاد کیا گیا ہے جس کے ذریعے بیٹری طیارے کو اڑان بھرنے کے لئے کافی طاقت دیتی ہے۔
افتتاحی پرواز ممکنہ طور پر ایک عمل کے ذریعے لائی گئی جسے الیکٹرواایروڈائنامک پروپلشن کہا جاتا ہے۔ یہ عمل 1960 کی دہائیوں سے معرض وجود میں ہے۔ اس خیال کو عمل میں لانا بہت مشکل کام ہے۔اس عمل میں آئنوک ونڈ کا کافی فائدہ ہے۔

بہت زیادہ وولٹیجز کا استعمال کرتے ہوئے اور طیارے کے کیس میں 40,000 وولٹ سے پھینکنے والا نظام دوالیکٹروڈ کے ارد گرد ہوا میں آئنوں کو پیدا کرتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان بجلی کا فیلڈ ایک چھوٹے الیکٹروڈ سے آئن بڑےالیکٹروڈ پر پھینک دیتا ہے۔یہ آئن چلتے ہوئےنارمل ہوا کے مالیکول کے ساتھ ٹکراتے ہیں، آئن بناتے ہیں اور ہوائی جہاز کے آگے بڑھتے ہیں۔ چونکہ آئن دو ساکن الیکٹروڈکے درمیان چل رہے ہوتے ہیں، ہوائی جہاز کو چلنے کے لئے حرکت کرنے والے حصوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔

ہم نے اس ٹیکنالوجی کو ابھی تک اپنے طیاروں میں استعمال کیوں نہیں کیا؟ جب یہ ٹیکنالوجی 1960میں آئی تو محققین نے یہ نتیجہ نکالاتھا کہ یہ طیارے کو اڑان بھرنے کے لئے مطلوبہ توانائی نہیں دے سکتی۔ جب ایم آئی ٹی کے ایروناٹکس اور آسٹروناٹکس کے پروفیسر سٹیون باریٹ نے اس تحقیق پر قریب سے 2009 میں دیکھا تو وہ ان نتائج سے پریشان نہیں ہوئے۔انہوں نے اس تحقیق میں بے پناہ پوٹینشل دیکھا۔باریٹ کا کہنا ہے ، "میں ہوائی جہازوں اور خلائی جہازوں میں سائنس فکشن کے خیالات سے متاثر تھا۔ "میں نے سوچا کہ کیا طبیعیات اس کی اجازت دے سکتی ہے۔"

بعد میں نو سال اور بہت سی ناکامیوں کے بعد بیریٹ اور ان کے ساتھیوں نے بالاخر طیارہ بنا لیا۔ ذہن میں رکھیے، ٹیسٹ طیارے میں کوئی سوار نہیں تھا۔ اس وقت یہ محض خود کو ہوا میں رکھ سکتا ہے،کارگو چھوڑ دیں۔یہ ٹیسٹنگ ایک بغیر ہوا والے جم میں ہوتی ہےاور طیارہ صرف بارہ سیکنڈچلتا ہے۔

آپ کو اس طیارے پر لاس اینجلس سے نیویارک کے دورے پر ابھی جانے کے لئےایک طویل راستہ طے کرنا ہے لیکن یہ اب بھی ہوا بازی میں ایک بڑاسنگ میل ہے۔ آکسفورڈتھرمو فلوئوڈ انسٹی ٹیوٹ کے ایک محقق پریانکا دھوپیڈے کہتے ہیں، "اگرچہ یہ اب بھی تجارتی گیس ٹربائن پروپولر سے بہت دور ہے … الیکٹر ڈائنامک پروپلشن مختصر رینج اور چھوٹی ڈرون پروازوں کے لئے گیم چینجر ہے۔"

بیریٹ کا خیال ہے یہاں تک کہ اگر اس قسم کی پروپلشن تجارتی طیاروں پر اثر نہیں ڈال سکتی تو پھر بھی اسے جیٹ انجنوں کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکٹروڈائنامک پروٹوکول سسٹم کوایک ہوائی جہاز کی جلد میں لگایا جا سکتا ہے اور ہوائی جہاز کے ساتھ سفر کرنے کے لئے استعمال کیا سکتا ہے۔ فی الحال، ہوا طیارے کے پیچھے ختم ہوجاتی ہے، آہستہ آہستہ چلتی ہے اور اسے واپس گھسیٹا جا سکتا ہے۔ نئے پروپلشن سسٹم کے اس ڈریگ کو ختم کر کے ایندھن کی کارکردگی بڑھا ئی جاسکتی ہے۔

اس چیز پر ایم آئی ٹی کی ٹیم اگلے مرحلے پر توجہ مرکوز کر رہی ہےاور پروٹوٹائپ کرافٹ کو بہتر بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ بیریٹ کا کہنا ہے کہ "ہمارے پاس صرف اس ٹیکنالوجی کو لانے کے لئے چند سال ہیں۔" "روایتی پروپلشن میں 100 سال کا عرصہ لگا ہے، لہٰذا ہمیں کچھ ایسا کرنے کے لئے کچھ وقت لگے گا۔ ہم ایسا کر سکتے ہیں۔"

تحریر: ایرن ونک

Read in English

Authors
Top