Global Editions

اس ٹیکنالوجی کی مدد سے زلزلوں کے دوران بھی رابطہ برقرار رہے گا

باربریٹا لارا (Barbarita Lara) نے انالاگ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے امتزاج سے ایک ایسا سسٹم ایجاد کیا ہے جسے زلزلوں کی صورت میں مواصلت کے لیے اس وقت بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جب نیٹورکس بند ہوجائيں۔

2010ء میں باربریٹا کے آبائی ملک چلی میں 8.8 کی شدت کا زلزلہ آیا، جس نے ملک بھر کے مواصلتی نظام کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ باربریٹا اس وقت انجنیئرنگ کی تعلیم حاصل کررہی تھیں، اور انہوں نے یہ صورتحال دیکھ کر کچھ کرنے کی ٹھانی۔ ان کے تمام دوست و احباب کا انٹرنیٹ اور اپنے سیل فونز کے بغیر گزارہ نہيں تھا، لیکن زيادہ تر نیٹورکس ڈاؤن ہوچکے تھے۔ چلی کے ساحل پر زلزلے کے باعث پیدا ہونے والی سونامی کی وجہ سے 156 افراد جانبحق ہوگئے تھے، جس کی ایک وجہ یہ تھی کہ انہيں صحیح وقت پر اطلاع موصول نہ ہوسکی۔

آٹھ سال بعد، لارا سمجھتی ہیں کہ وہ ایسی ٹیکنالوجی بنانے میں کامیاب ہوگئی ہیں جس سے آنے والی قدرتی آفات کے دوران انسانی جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔ ان کے ایس آئی ای (SiE) نامی پلاٹ فارم میں انالاگ اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز پر مشتمل اینکریپٹڈ ہائی فریکوینسی آڈیو کا استعمال کیا گیا ہے، جسے خصوصی طور پر اس صورت میں استعمال کیا جاسکتا ہے جب انٹرنیٹ اور فون کے نیٹورکس کام نہ کررہے ہوں۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے سمارٹ فون کے صارفین کو صورتحال کے متعلق پیغامات کے ذریعے مطلع کیا جاسکتا ہے۔ ایس آئی ای کا پلیٹ فارم موجودہ ریڈیو انفراسٹرکچر کا فائدہ اٹھاتا ہے اور اس کے ذریعے سمارٹ فونز کو ريڈیو ٹیکنالوجی پر چلنے والی ایڈہاک نیٹورک میش کے ذریعے مواصلت کرسکتے ہيں۔ لارا کو یہ آئيڈیا مورس کوڈ کی ٹیکنالوجی کو دیکھ کر آیا تھا۔ ان کے والد چلی کے بحری افواج میں کرپٹولوجسٹ کے عہدے پر فائز تھے، اور انہوں نے لارا کو مورس کوڈ کے بارے میں بتایا تھا۔ وہ کہتی ہیں "کبھی کبھار سب سے آسان حل ہی بہترین حل ثابت ہوسکتا ہے۔"

لارا نے اس پلیٹ فارم کو آگے بڑھانے اور فروخت کرنے کے لیے ایمرکام (Emercom) نامی کمپنی قائم کی، اور اس وقت ان کی کمپنی کے چلی میں آفت کے انتظام کے حکام سے مستقبل میں اطلاعات بھیجنے کے لیے ایس آئی اے کے استعمال کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ وہ نئے موبائل فونز پر ایس آئی ای انسٹال کرنے کے سلسلے میں ایک نامور ٹیلی کام کمپنی سے رابطے میں ہے۔

تحریر: جاناتھن ڈبلیو روزن (Jonathan W. Rosen)

Read in English

Authors
Top