Global Editions

فیس بک کی سیاسی اشتہارات سے وابستہ پالیسی کی خامیاں واضح

فیس بک کی پالیسیوں کے مطابق کیلیفورنیا کے گورنر کے عہدے کے امیدوار ایڈریل ہیمپٹن (Adriel Hampton) کو جھوٹ پر مبنی سیاسی اشتہارات چلانے کی اجازت مل جانی چاہیے تھی۔ لیکن ایسا نہيں ہوا: انہيں ایسا کرنے کی اجازت نہیں ملی۔ اس ٹکراؤ سے صاف واضح ہے کہ فیس بک نے سیاسی بیانات کے متعلق اپنے موقف پر کچھ خاص توجہ نہيں دی ہے۔

پس منظر: کئی ہفتوں سے فیس بک کو سیاسی امیدواروں کے اشتہارات میں درج معلومات کی تصدیق نہ کرنے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ فیس بک کمپنیوں اور دیگر افراد کے جھوٹے اشتہارات مکمل طور پر مسترد کردیتی ہے، لیکن سیاست دانوں کے اشتہارات کی جانچ پڑتال نہيں کی جاتی کیونکہ پالیسی کے مطابق سیاسی امیدواروں کے اشتہارات کی تصدیق کروانے کی ذمہ داری ان کی نہيں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم ان کے سیاسی مخالف جو بائيڈن (Joe Biden) اور یوکرین کے درمیان ملی بھگت کے متعلق جھوٹے اشتہارات پوسٹ کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ اس منافقانہ پالیسی کو چیلنج کرنے کے لیے ہیمپٹن نے محض جعلی اشتہارات چلانے کے مقصد سے گورنر کے عہدے کے امیدوار کے طور پر ریجسٹر کیا۔

صرف افواہیں پھیلانے کے مقصد سے انتخابات لڑنے میں کوئی حرج نہيں ہے، بشرطیکہ یہ کام خاموشی سے کیا جائے۔ ہیمپٹن کے اس فیصلے کا مقصد صرف اور صرف فیس بک کی پالیسی کی خامیوں کو اجاگر کرنا ہے۔ پریشان کن بات یہ ہے کہ فیس بک کو کبھی توقع ہی نہيں تھی کہ کوئی بھی شخص ان کی قواعد و ضوابط کا غلط فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔

اس بات سے انکار نہيں کیا جاسکتا کہ فیس بک کے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے کے مقصد سے بطور امیدوار ریجسٹر کرنا ٹھیک بات نہيں ہے۔ لیکن 2016ء کے صدارتی انتخابات کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے ایسے کئی لوگ موجود ہيں جو صرف اور صرف افواہیں پھیلانے کی نیت سے سیاست میں قدم رکھتے ہيں۔ اس وقت ایسی کوئی چیز نہيں ہے جو صدارتی انتخابات لڑنے والے کسی بھی شخص کو دوسروں کا ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے غلط معلومات پر مشتمل اشتہارات چلانے سے روک سکتی ہے۔ فیس بک پر جعلی معلومات پھیلانے کا مسئلہ اس قدر سنگین ہے کہ اتنی بڑی خامی سے ان کی دیگر تمام کوششوں پر پانی پھر سکتا ہے۔ فیس بک نے ہیمپٹن کو صرف اسی وجہ سے ایسے اشتہار چلانے سے روک دیا کیونکہ انہوں نے اپنے ارادوں کا کھلے عام اعلان کیا تھا۔ لیکن دوسروں کو بتائے بغیر اشتہار چلانے والوں کی روک تھام نہيں کی جائے گی جس سے کہیں زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے۔

کمپنی کو اندرونی مخالفت کا سامنا ہے: سیاست دان، صحافی اور کارکنان تو فیس بک کو تنقید کا نشانہ بنا ہی چکے ہيں اور اب کمپنی کے اپنے ملازمین بھی ان کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہيں۔ حال ہی میں سینکڑوں ملازمین نے سیاسی اشتہاروں کی پالیسی کے خلاف ایک خط پر دستخط کیا ہے جس میں انہوں نے یہ موقف بیان کیا ہے کہ ”آزادی اظہار خیال اور رقم کے عوض خیالات کے اظہار میں بہت فرق ہے۔“ ان ملازمین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے عوام الناس کا فیس بک پر اعتبار ختم ہوجائے گا اور ان کے مطابق سیاسی اشتہاروں کی دوسری اقسام کے اشتہاروں کی طرح جانچ پڑتال کرنی چاہیے۔ اس خط میں بتایا گیا ہے کہ یہ ملازمین ”حقیقی تبدیلی“ دیکھنا چاہتے ہيں۔ فیس بک کو ان کی باتوں کو نظرانداز نہيں کرنا چاہیے۔

تحریر: اینجلا چین (Angela Chen)

Read in English

Authors

*

Top