Global Editions

مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لئے پانچ جمہوری اصول

ٹرمپ انتظامیہ شاید امریکہ اور کچھ ممالک کے درمیان دیواروں کی تعمیر کر رہی ہے لیکن یہ مصنوعی ذہانت کےحوالے سے اتحاد قائم کرنے کی خواہاں ہے۔

دی آرگنائزیشن فار اکنامک کواپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ )او ای سی ڈی)، جو کہ جمہوریت اورمعاشی ترقی کے فروغ کے لئے ممالک کا اتحاد ہے، نے مصنوعی ذہانت کی ترقی اوراس کے اطلاق کے لئے پانچ اصولوں کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان پیرس میں او ای سی ڈی فورم کی ایک میٹنگ میں ہوا۔

ا و ای سی ڈی میں چین شامل نہیں ہے اور اس گروپ کی طرف سے وضع کردہ اصول چین میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے بر عکس ہیں خاص طور پر سیاسی تنازعات سے منسلک نسلی گروہوں کے چہرے کی شناخت اور نگرانی کے حوالے سے۔ایو

نٹ سے خطاب کرتے ہوئے، امریکہ کے حال ہی میں تعینات کردہ سی ٹی او مائیکل کریٹس نے کہا، "ہم خوش ہیں کہ او ای سی ڈی کی مصنوعی ذہانت کی سفارشات اس طرح کے بہت سے مسائل کو حل کرتی ہیں جو کہ امریکن اے آئی انیشی ایٹوAI Initiative)) نمٹنے کے لئے کر رہی ہے۔"

اوای سی ڈی کے مصنوعی ذہانت کے اصول مندرجہ ذیل ہیں:

مصنوعی ذہانت کو لوگوں اورزمین کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کام کرنا چاہیے۔

مصنوعی ذہانت کے نظام کو اس طرح سے ڈیزائن کیا جانا چاہیے جس میں قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کا احترام کیا جائے اور اس میں مناسب حفاظتی اقدامات شامل ہوں۔
مثال کے طور پر، جہاں ضروری ہووہاں منصفانہ معاشرہ کے لئےانسانی مداخلت کی جائے ۔

 مصنوعی ذہانت کے سسٹم کے ارد گرد شفاف اور ذمہ دار نہ طریقے سے معلومات دینی چاہیے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ لوگ مصنوعی ذہانت کے نتائج کو سمجھ سکیں اور انہیں چیلنج کر سکیں۔

مصنوعی ذہانت کے نظام کو اپنی پوری زندگی کے سائیکل میں مضبوط اور محفوظ طریقے سے کام کرنا چاہیے اور ممکنہ خطرات کا باقاعدہ اندازہ میں پتا لگانا چاہیےاور ان کا سدباب کرنا چاہیے۔

مصنوعی ذہانت کے نظام کو بنا نے والے، لگا نے والے یا چلانے والی تنظیموں اور افراد کو اوپر دئیے گئے اصولوں کے مطابق اس سسٹم کو مناسب طریقے سے چلانے کے لئے جواب دہ ہونا چاہیے۔

تحریر: ول نائٹ (Will Knight)

Read in English

Authors
Top