Global Editions

ایمزان کی گروسری سٹور میں ایک بھی چیک آؤٹ کاؤنٹر نہیں ہے

بس اپنا کھانا اٹھائیں، فون سکین کریں اور چلتے بنیں

کیش نہیں ہے؟ وقت کم ہے؟ قطار میں اور لوگوں کے ساتھ کھڑے نہیں ہونا؟ کوئی بات نہیں۔ ایمزان نے ایک ایسے نئے سٹور کا اعلان کیا ہے جہاں سینسنگ اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے چیک آؤٹ کے پراسیس کو بالکل ہی ختم کردیا گیا ہے۔

فی الحال ایمزان کے مرکز سیٹل میں ایسا ایک ہی سٹور ہے۔ ایمزان گو (Amazon Go) نامی یہ سٹور 1,800 مربع فٹ کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے، اور ان افراد کے لیے بنایا گیا ہے جنھیں ہمیشہ جلدی ہوتی ہے۔ اس کے شیلفوں پر تیار کھانے، سودا سلف اور گھر پر پکائے جانے والے کھانوں کے کٹ بھرے پڑے ہیں۔

یہ سٹور نجی معاملات کے تحفظ کی وکالت کرنے والوں کے لیے نہیں ہے۔ آپ کو دروازے پر ہی ڈیجیٹل بورڈنگ پاس کی طرح ایک ایپ کو سکین کرنے کی ضرورت ہے، جس کے بعد ایپ کو معلوم ہوجاتا ہے کہ آپ سٹور میں کہاں ہیں اور کیا کررہے ہیں؟

ایمزان کے مطابق اس دکان میں آن شیلف سینسنگ اور کمپیوٹر وژن کے ذریعے آپ کی اٹھائی گئی ہر چیز کو ٹریک کیا جاتا ہے، اور جیسے جیسے آپ چیزیں اٹھاتے چلے جاتے ہیں انھیں ایک فہرست میں شامل کردیا جاتا ہے۔ (جب آپ چیزیں واپس رکھ دیتے ہیں، انھیں فہرست سے حذف بھی کردیا جاتا ہے)۔ نکلتے وقت، آپ کیا کیا چیزیں لے کر جا رہے ہیں، ان کو ایک بار پھر چیک کیا جاتا ہے۔

اس کے بعد آپ کے ایمزان کے اکاؤنٹ سے رقم کی کٹوتی ہوجاتی ہے اور آپ کو ایک لمحے کے لیے بھی قطار میں کھڑے رہنے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ لوگ مستقبل میں اسی طرح شاپنگ کریں گے۔

یہ کریانے کے کاروبار کو آٹومیٹ کرنے کی پہلی کوشش نہیں ہے۔ 1937ء میں کی ڈوزل (Keedoozle) نے کنویئر بیلٹ، کانچ کے کیبنٹ اور ذاتی چابیوں کے ذریعے انسانی عمل دخل ختم کرنے کی کوشش کی تھی، یہ اس قدر مقبول ثابت ہوا کہ اس کا بیک اینڈ بوجھ نہ اٹھاسکا، اور بالآخر اسے بند کرنا پڑگیا۔

اس سال کے شروع میں سویڈن میں ایک ایسی سپرمارکیٹ کا افتتاح ہوا جس میں داخلے کے لیے ایک ایپ استعمال ہوتی ہے جس کے لیے لوگوں کو اپنے فون کے ذریعے بار کوڈ سکین کرنے کی ضرورت ہے، سی سی ٹی وی کیمرے تو نصب کیے گئے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی صارفین پر کافی حد تک بھروسہ بھی کیا جاتا ہے۔ ایمزان کی نگرانی زيادہ سخت ہے۔ ممکن ہے کہ ہیکرز تو سسٹم سے بچنے کے طریقے کھوجنے لگ جائیں، لیکن عام آدمی کے لیے ایسے نظام کو دھوکا دینا آسان نہیں ہوگا جس میں سنسر اور کیمرے ان کے ہر قدم پر نظر جمائے بیٹھے ہوں۔

اگر یہ اسی طرح کام کرے جس طرح بتایا جارہا ہے تو ہوسکتا ہے کہ شاپنگ کا مطلب بس شیلف پر سے سامان اٹھا کر چل دینا ہی ہو کر رہ جائے- ایمزان کو امید ہے کہ یہ سٹورسہولت کی وجہ سے صارفین میں کافی مقبول ثابت ہوگا۔

تحریر: جیمی کونڈلیف (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors
Top