Global Editions

سودا سلف کی ادائیگی کیلئے اب لائن میں لگنے کی ضرورت نہیں

یقینی طور پر آپ گھریلو سامان کی خریداری کے لئے سٹورز پر گئے ہونگے اور وہاں پر سامان کی خریداری کے عمل سے گزرنے کے بعد کیش کاؤنٹر پر لگی قطاروں سے گزر کر رقم کی ادائیگی کے بعد سٹورز سے گھروں کی جانب روانہ ہوئے ہونگے یہ ایک ایسا عمل ہے جس سے ہر شخص کو گزرنا پڑتا ہے تاہم اب ایمزون نے لوگوں کو اس کوفت سے نجات دلانے کے لئے مصنوعی ذہانت کی مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایمزون نے اس مقصد کے لئے ایک سٹور تیار کیا ہےجہاں سینسرز اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے آپ خریداری کرتے رہیں اور نیا نظام ازخود اس کی بلنگ کریگا اور رقم آپکے ایمزون اکاؤنٹ سے منہا کر لی جائے گی۔ ایمزون کی جانب سے اس طرح کا پہلا سٹور ایمزون کے ہوم ٹاؤن سیاٹل میں قائم کیا گیا ہے۔ اس سٹور کا نام ایمزون گو رکھا گیا ہے اور یہ سٹور 1800 مربع فٹ کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس سٹور میں صارفین کے لئے تیار کھانا اور بنیادی گھریلو سامان شیلف میں موجود ہوتا ہے۔ اس سٹور میں خریداری کے لئے جانیوالے کو داخلے کے وقت ایک ایپ کے ذریعے سکین کیا جاتا ہے یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے آپ ایک ڈیجیٹل بورڈنگ پاس کے ذریعے داخل ہوتے ہیں۔ داخلے کے مقام کے بعد سے ہی آپ کو مسلسل سینسرز اور کیمروں کی مدد سے ٹریک کیا جاتا ہے۔ ایمزون کے مطابق اس سٹور میں شیلف سینسنگ نظام موجود ہے اور کمپیوٹر کی مدد سے آپ کی نقل وحرکت پر نظر رکھی جاتی ہے اور جیسے ہی آپ کسی شیلف سے کوئی چیز اٹھاتے ہیں تو کمپیوٹر سینسر کی مدد سے آپ کے بل میں وہ آئٹم شامل کر دیتا ہے اور اگر آپ سامان دیکھ کر اسے واپس شیلف میں رکھ دیتے ہیں تو اس چیز کی قیمت آپ کے بل سے نکال دی جاتی ہے۔ سامان کی خریداری کے بعد جب آپ واپسی کا فیصلہ کرتے ہیں تو آپ کی جانب سے خریدے گئے سامان کی دوبارہ پڑتال کی جاتی ہے اور پھر رقم آپ کے ایمزون اکاؤنٹ سے منہا کر لی جاتی ہے۔ اس تمام عمل کے دوران آپ کو بل کی ادائیگی کے قطار میں کھڑا نہیں ہونا پڑتا بلکہ آپ اپنے سینڈوچ کھاتے ہوئے سٹور سے باہر جا سکتے ہیں۔ اس سٹور کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مستقبل میں خریداری کے انداز بدلنے والے ہیں۔ ایمزون کی جانب سے بنائے گئے اس سٹور سے آٹومیٹیڈ سٹورز قائم کرنے کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔ اس سال کے آغاز میں سویڈن کی ایک سپر مارکیٹ میں بھی ایک ایپ کی مدد سے صارفین کو سٹور میں داخل کیا جاتا تھا اور اس کے لئے لوگوں کو بار کوڈ اپنے سمارٹ فون کے ذریعے سکین کرنا پڑتا تھا۔ اس سٹور میں بھی ٹیک اینایبل ماڈل تیار کیا گیا تھا اور صارفین کو نگاہ میں رکھنے کے لئے سی سی ٹی وی کی مدد لی جاتی تھی۔ تاہم ایمزون کی جانب سے تیار کیا جانیوالا ماڈل زیادہ بہتر ہے تاہم یہ نظام ہیکرز کے لئے بھی بہت متاثر کن ہو سکتا ہے اور وہ اس نظام کو دھوکہ دے کر اپنی کاروائیاں کر سکتے ہیں۔ اگر یہ نظام جیسا کہ بتایا گیا ہے کو صحیح معنوں میں عوامی پزیرائی حاصل ہو جاتی ہے تو یہ شاپنگ کا ایک نیا انداز ثابت ہو گا اور اگر اسے ہیکرز سے محفوظ رکھا جائے، اس سے صارفین کو بہت زیادہ سہولیات حاصل ہو سکیں گی۔

تحریر: جیمی کونڈیلفی (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors
Top