Global Editions

سیٹل میں ایمزان کا بغیر کیشیئر کے اشیائے ضرورت کا سٹور کھولا جا رہا ہے

سیٹل کے مرکز میں امیزان کے دفاتر کے سائے میں لوگ ایک چھوٹے سے اشیائے ضرور ت کی دکان میں داخل ہوتے ہیں، جو چیز انہیں چاہیے ہوتی ہے، اٹھا لیتے ہیں اور پھر چل پڑتے ہیں۔ اور کوئی شخص ان کے پیچھےچلاتے ہوئے بھاگتا نہیں ہے۔

ایمزان گو پر شاپنگ اس طرح سے ہوگی۔یہ ایمزان گو ہے اور یہاں شاپنگ اسی طرح سے ہوگی۔ آن لائن ریٹیل کی کمپنی ایمزان کا خواب ہے کہ مستقبل کے حقیقی وجود رکھنے والی دکانیں اسی طرح کی ہوں۔ اس کی بجائے سمارٹ فون کی ایک ایپلی کیشن، چھت پر لگے سینکڑوں عام اور انفراریڈ سے آراستہ کیمرے،کمپیوٹر وژن الگارتھم اور مشین لرننگ، یہ سارے مل کر پتہ لگاتے ہیں کہ آپ کیا چیز اٹھا رہے ہیں اور آپ کے ایمزان سے جڑے کریڈٹ کارڈ سے رقم کی وصولی کرتے ہیں۔

اب تک یہ زیادہ تر ایک تجربہ ہی ہے۔ پورے پچھلے سال، ایمزون کے ہیڈکوارٹرز کے ملازمین پلاسٹک میں لپٹے کئی اشیائے خوردونوش پکڑ پکڑ کر تجربے کرتے رہے۔ اسی دوران، اس کمپنی نے، جوکہ تاریخی طور پر ہر چیز آن لائن بیچنےمیں دلچسپی لیتی رہی ہے، آف لائن کاروبار کی دنیا میں قدم رکھنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ اس کی مثال 2017 میں ہول فوڈز کی خریداری ہے۔ایمزان نے اس میل جول سے حاصل کردہ ڈیٹا استعمال کرکے مصنوعی ذہانت پر مرکوز شاپنگ کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔

لیکن ایمزان اپنے منصوبے کے اگلے مرحلے کی طرف جا رہی ہے یعنی سٹور کو عوام کے لئے کھولنا۔ اس پیر سے، جو کوئی چاہے، سیٹل کے مرکز ایمزان گو ایپ کے ذریعے چیک ان کرنے کے بعد شاپنگ کر سکتا ہے۔

ایمزان گو میں ٹیکنالوجی کے نائب صدر دلیپ کمار نے حال ہی میں محھے ایک صبح سیونتھ ایونیو پر ایک سٹور دکھاتے ہوئے کہا کہ ان کی کمپنی اس جیسے اور سٹورز کھولنے کی امید کرتی ہے۔

کمار نے کہا، "لوگ یہاں آ سکتے ہیں، اس چیز سے ہٹ کر کہ کتنا زیادہ رش ہے یا کتنا کم ہے۔ یہ چیز آپ کے کنٹرول میں ہے کہ آپ کتنا وقت سٹور میں صرف کرتے ہیں۔ آپ زیادہ وقت اس غیر یقینی صورت حال کا شکار نہیں رہیں گے کہ آپ کو شاپنگ میں کتنا وقت لگے گا۔"

ایمزان واحد کمپنی نہیں ہے جو کہ بغیر چیک آؤٹ کے شاپنگ پر کام کر رہی ہے۔ سٹاک ہوم میں واقع کمپنی ویلز (Wheelys)نے چین میں خود مختار سٹور کے ٹیسٹ کیے ہیں، جبکہ سیلیکون ویلی میں ایک سٹارٹ اپ سٹنڈرڈ کاگنیشن (Standard Cognition) بغیر کیشئر کے چیک آؤٹ کے اپنے ورژن پر کام کر رہا ہے۔ تاہم ایمزان بغیر چیک آؤٹ کے شاپنگ پر کام کرنے والی سب سے نمایاں کمپنی ہے۔ ایمزان کا ریٹیل کا آن لائن کے ساتھ آف لائن تجربہ اور بغیر چیک آؤٹ کے شاپنگ کے سٹور بنانے کی صلاحیت اسے مستقبل قریب میں کامیابی کا عندیہ دیتے ہیں۔

حقیقت میں ایمزون گو پر شاپنگ تھوڑی عجیب بھی لگتی ہے۔ایمزون گو ایپ میں ــ"ق آرـــــ" کوڈ کو سکین کرکے آپ انٹری گیٹ کھولتے ہیں اور پھر صرف آپ صرف چلتے ہیں اور اپنا فون دور رکھ دیتے ہیں( کسی وجہ سے یہ میرے لئے بہت مشکل تھا اور مجھے محسوس ہوتا رہا کہ مجھے کام کے لئے فون کی ضرورت ہے)۔ آپ کو جو چاہیے ہوتا ہے آپ پکڑتے ہیں اور اپنے بیگ میں رکھتے ہیں یا اسے دوسری دروازوں میں پھرتے ہوئے اپنے پاس رکھتے ہیں۔

کمار یہ نہیں کہے گا کہ کمپنی کی ٹیکنالوجی کتنی اچھی ہے کہ آپ کو خرید کا بہت، بہت درست حساب رکھے گی لیکن سٹور میں عام فہم اشیا جیسا کہ ڈائیٹ ڈاکٹر پیپر،کیفین فری ڈائیٹ ڈاکٹر پیپر موجود نہیں ہیں۔اور اشیا کی قیمتیں کافی مقابلے کی لگتی ہیں۔

ماسوائے پچھلے کونے کے جہاں ایک آدمی گاہکوں کے شناختی کارڈ چیک کر رہا تھا ان کے پائینٹ گرگو یا شراب کے چھ پیک لینے سے پہلے،کوئی بھی شخص ہماری طرف توجہ کرتا نظر نہیں آ رہا تھا۔ تھیوری میں کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے ۔ جب آپ کوئی چیزشیلف سے اٹھاتے ہیں تو امیزون کے کیمرے اور اے آئی اس بات کا پتا لگاتے ہیں کہ یہ کیا چیز ہے اور اس چیز کی آپ سے قیمت وصول کر لیتے ہیں اور آپ اگر اس چیز کو واپس شیلف میں رکھ دیتے ہیں تو اس چیزکی رقم واپس آپ کے پاس آ جاتی ہے۔

جب ہم چھوڑنے کے لئے تیار تھے توہمیں ایسا لگا کہ ہم چھوڑ چکے ہیں۔ یہ سارا تجربہ بے جوڑ اور تیز تھا اور اسکے باوجود بھی انسانوں کے ساتھ بہت تھوڑا رابطہ ہونے کی وجہ سے اوسان خطا کر دینے والا تھا۔

کیشیئر کی غیر موجودگی نے مجھے اس بات پر حیران کر دیا کہ ان لوگوں کا کیا ہو گا جو یہ نوکری کر رہے ہیں۔ اگر امیزون گو یا اس طرح کی کوئی اور چیز پھلتی ہے تو کیا یہ سٹور ان کیشیئرزکو دربان کے طور پر رکھیں گےیا مکمل طور پر اے آئی سے ہٹا دیں گے۔ اگرچہ جب میں سٹور میں ہوتا ہوں تو اپنے سمارٹ فون میں گم ہو جاتا ہوں لیکن پھر بھی میں سماجی رابطے کو اچھا سمجھتا ہوں۔

کمار اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ لوگوں کو سٹور میں سامان اٹھا کر بس باہر نکلنے کا عادی ہونے میں تھوڑا وقت لگے گا۔ شاید اس اعتبارسے یہ ایمزان ڈاٹ کام پر شاپنگ کی طرح ہو، جسے شروع میں استعمال کرنا عجیب لگے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ آپ کا اس کے بغیر گزارہ ناممکن ہوجائے۔

تحریر: راہیل میٹز(Rachel Metz)

Read in English

Authors
Top