Global Editions

کیا امیزان اب ہیلتھ کیئر میں داخل ہونے کی کوشش کررہا ہے؟

امیزان نے جہاں اتنا سب کچھ کرلیا ہے، وہاں یہ بھی صحیح۔

مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والے ذاتی اسسٹنٹس، کلاؤڈ سروسز، ٹی وی شوز، فرنیچر، سودا سلف، کتابیں۔ اس وقت شاید ہی ایسا کوئی چیز ہو جس میں امیزان نے ہاتھ ڈالنے کی کوشش نہ کی ہو۔ ہم اگر آپ کو یہ بتائیں کہ اب یہ کمپنی ہیلتھ کیئر کی صنعت میں داخل ہونے کی کوشش کررہی ہے، تو شاید آپ کو حیرت نہ ہو۔

CNBC کے مطابق امیزان نے ہیلتھ کیئر سے تعلق رکھنے والے مختلف ڈیوائسز اور سافٹ وئیر پراجیکٹس پر کام کرنے کے لیے ایک ٹیم قائم کرلی ہے، جس کا نام 1492 ہے۔ ان کی رپورٹ کے مطابق، اس ٹیم کی توجہ ڈیجیٹل طبی ریکارڈ، ڈاکٹروں کے ساتھ آن لائن اپوائنٹمنٹس اور ایکو (Echo) کے سمارٹ سپیکرز جیسے ڈیوائسز کے لیے صحت کی سہولیات پر مرکوز ہے۔

اس وقت ہیلتھ کیئر کی صنعت میں انوویشن کی کافی گنجائش ہے، اور کئی ٹیکنالوجی کی کمپنیاں اس میں داخل ہونے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔ گوگل کی کمپنی ویرلی لائف سائنسز (Verily Life Sciences) صحت کی ٹریکنگ کے ڈیوائسز بنارہی ہے، اور وسیع پیمانے پر طبی ریسرچ شروع کرنے والی ہے۔ ایپل بھی صحت کے ڈیٹا کی ٹریکنگ کے ڈیوائسز فروخت کرنے میں لگا ہوا ہے، اور FDA کی باتوں سے ایسا لگ رہا ہے کہ ایپل اور بھی بہت کچھ کرنے والا ہے۔

امیزان جن پراجیکٹس پر کام کررہا ہے، وہ کچھ خاص انقلابی نہیں ہیں۔ مملکت متحدہ میں ڈاکٹر تھام (Dr Thom) جیسی کمپنیاں ڈاکٹرز کے ساتھ آن لائن مشاورت کی سہولت فراہم کررہی ہیں، اور ‌‌‌‌‌فزیکل تھراپی جیسی سہولیات کے لیے ایمزان سے زيادہ پیچیدہ سہولیات کی ٹیسٹنگ پہلے ہی ہوچکی ہے۔ ڈیپ مائنڈ (DeepMind) نامی کمپنی لندن کے ہسپتالوں کے ڈیجیٹل ریکارڈز کے لیے بلاک چین کی طرح کے ایک سسٹم پر کام کررہی ہے۔ اس کے علاوہ ایپل اور گوگل کے پراجیکٹس جو ڈیوائسز استعمال کررہے ہیں، وہ کافی عرصہ پہلے ہی مارکیٹ میں دستیاب ہوچکے تھے۔

اب تک کوئی بھی ٹیک کمپنی ہیلتھ کیئر کی صنعت میں انقلاب لانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے، اور اس وقت اس صنعت میں انوویشن کی کافی گنجائش ہے۔ امیزان کا اپنے اعلیٰ قسم کے ریٹیل اور تقسیم کے نیٹورک کی وجہ سے بازی لے جانے کا امکان ہے۔ بلکہ کچھ عرصہ پہلے CNBC نے اپنی ایک رپورٹ میں یہ بھی بتایا تھا کہ امیزان ادویات فروخت کرنے پر غور کررہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایمزان سے ایپل یا گوگل سے بہتر اور زيادہ وسیع پیمانے پر سہولت فراہم کرنے کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔

تحریر: جیمی کونڈلیف (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors
Top