Global Editions

مصنوعی ذہانت والی گیم الفاگو زیرو کے موجد

نام: جولین شرٹوائزر
عمر: 25سال
کمپنی: ڈیپ مائنڈ

الفاگو نے دنیا کے بہترین گو پلیئر کو شکست دے دی ۔ انہوں نے ایک ایسے پروگرام کی مدد کی جس نے الفاگو کو چت کر ڈالا۔

کچھ سال پہلے جب جولین نےگوگل کی ملکیت والی انٹیلی جنس فرم ڈیپ مائنڈ کو جوائن کیاتو اس وقت بورڈ گیم گو کو اکثر مشین لرننگ کی ہولی گریل کہا جاتا تھا۔ دو کھلاڑیوں کی گو گیم جو قدیم چین سے شروع ہوئی تھی، قوانین کے حوالےسے اتنی غیر منحصر ہے اور اسے کھیلنے کے لئےاتنی فہم کی ضرورت ہوتی ہے کہ بہت سارے لوگوں نے سوچا کہ مصنوعی ذہانت کو اس گیم کو سمجھنے کے لئے ایک دہائی لگے گی۔ لیکن مارچ 2016 میں جولین اور اس کے ڈیپ مائنڈ کے ساتھیوں کی طرف سے تیار شدہ ایک پروگرام نے جنوبی کوریا کے ورلڈ گوچیمپئن لی سیڈول کو پانچ سیریز میں شکست دے دی۔

جولین شرٹوائزراور اس کی ٹیم نے اس سے بھی زیادہ متاثر کن کامیابی حاصل کی۔ اکتوبر 2017 میں ان کے نئے پروگرام الفاگو زیرو نے ان کے پہلے پروگرام الفاگو کو شکست دی۔ الفا گو کےبرعکس جس نے انسانوں کا مطالعہ کرکے کھیل سیکھا، الفا گو زیرو نے اپنے خلاف کھیل کر سیکھا جو کہ مصنوعی ذہانت میں ایک بہت ہی بڑی کامیابی تھی۔

جولین شرٹوائزرکا کہنا ہے،" الفا گو کے ساتھ ہم نے ایک ایسا نظام بنا دیا ہے جو اپنے طور پر سیکھتا ہے اور اس کا انسانی علم پر انحصار نہیں ہے۔"

جولین شرٹوائزرآسٹریا کے باشندے ہیں اورالفا گو زیرو پروجیکٹ کی قیادت کرنے والے سافٹ وئیرانجینئر ہیں۔ڈیپ مائنڈ کے دوسرے پروجیکٹ الفا زیرو کو بھی وہ چلا رہے ہیں۔ الفا زیرو جنرل الگورتھم ہے جس نے گو، شطرنج اور جاپانی بورڈ گیم شوجی میں مہارت حاصل کی ہوئی ہے۔جولین شرٹوائزر کا کہنا ہے کہ گیم کو عمومی انداز میں لانا ڈیپ مائنڈ کی خواہش ہے تاکہ مشین لرننگ زیادہ سے زیادہ ہو اور انسانی مداخلت نہ ہو۔ اس طرح سے مسائل کو بہتر طریقے سے حل کیا جاسکتا ہے ۔ بالآخر، وہ یقین رکھتا ہے، یہ اپروچ ایک مکمل نئی چیز کی طرف لے کر جائے گی جس میں فارماسوٹیکل سے لے کر میٹریل سائنس تک ہر چیز میں مصنوعی ذہانت والی ایجادات ہو نگی۔

تحریر: جوناتھن ڈبلیو روزن (Jonathan W. Rosen)

Read in English

Authors
Top