Global Editions

خودکار گاڑیوں کی ٹیکنالوجی کمرشلائز کرنے کے لئے الفابیٹ نے نئی کمپنی بنا لی

بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کی تیاری کے لئے ٹیکنالوجی کے ضمن میں الفابیٹ ایک قدم آگے بڑھ گئی ہے۔ بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑی کے پراجیکٹ کو اب ایک نئی کمپنی Waymo آپریٹ کرے گی۔ الفابیٹ کو گزشتہ برس گوگل نے قائم کیا تھا اور یہ کمپنی اب الفابیٹ کی جانب سے قائم کی گئی ہے۔ یہ کمپنی بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کی ٹیکنالوجی کو کمرشلائز کرے گی تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کے لئے ٹیکنالوجی کب تک مارکیٹ میں آ سکے گی۔ امریکی ریاست سان فرانسسکو میں ایک بریفننگ کے دوران Waymo کے چیف ایگزیکٹو جان کرافکیک (John Krafcik) جو پہلے اس پراجیکٹ میں آٹو ایگزیکٹو کے طور پرسال 2015 سے کام کر رہے ہیں کا کہنا ہے کہ کمپنی کئی طریقوں سے بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کی ٹیکنالوجی کو مارکیٹ میں متعارف کرانا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کی ٹیکنالوجی کو کئی ایریاز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور سفر میں شراکت، ٹرک کے ذریعے باربرداری اور ذاتی سواری کے طور پر اس سہولت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ کرافکیک کا کہنا ہے کہ ان تمام کاوشوں کا مقصد یہ نہیں ہے کہ یہ کمپنی بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑی خود تیار کرے گی تاہم انہوں نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ کمپنی کس طرح کی پارٹنر شپ اور لائسنس ڈیل کرے گی اور یہ ٹیکنالوجی کب تک صارفین کے لئے دستیاب ہو گی۔ کرافکیک نے ان اطلاعات کی تصدیق کی کہ بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کے حوالے سے پہلے کیا جانیوالا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے جس کے تحت بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں میں سٹئیرنگ وہیل اور بریک پیڈلز نہیں ہونگے اس حوالے سے انکا کہنا تھا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں یہ ایک غیر محفوظ طریقہ ہے کیونکہ بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کو بھی بعض حالات میں انسانی کنٹرول کی ضرورت محسوس ہو سکتی ہے۔ یہ ضرور ہے کہ ہم سو فیصد بغیر ڈرائیور کے چلنے والی ٹیکنالوجی کی تیاری چاہتے ہیں۔ بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑی کی تیاری کے لئے گوگل کی جانب سے گزشتہ کئی برسوں سے جاری تجربات میں کمپنی کے جن ملازمین کو اس گاڑی کے پروٹو ٹائپ میں تجرباتی سفر کرایا گیا وہ اس تجربے سے نہ صرف خاصے لطف اندوز ہوئے بلکہ وہ اس گاڑی سے مطمئن بھی دکھائی دئیے۔ تاہم یہ قابل ذکر ہے کہ الفابیٹ کی ذیلی کمپنی Waymo کے قیام کا فیصلہ اس وقت کیا گیا ہے جب کئی کمپنیاں خودکار گاڑیوں کی تیاری یا اس کے لئے درکار ٹیکنالوجی کی تیاری کے لئے میدان میں ہیں اور اس دوڑ میں گوگل اور دیگر کمپنیوں میں بہت ہی کم فاصلہ باقی رہ گیا ہے۔

تحریر: ٹام سیمونائیٹ (Tom Simonite)

Read in English

Authors
Top