Global Editions

پنجاب آئی ٹی پالیسی کے نمایاں خدوخال

پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی کی پالیسی کا مسودہ صرف آئی ٹی ہی نہیں بلکہ گورننس کے بارے میں بھی ہے۔ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (پی آئی ٹی بی) کے مسودے پر عوامی مشاورت منعقد کی گئی ہے جس کے بعد موصول ہونے والی تجاویز کے تحت اس پر نظر ثانی کی جارہی ہے۔ نظر ثانی شدہ مسودہ کو منظوری کیلئے کابینہ کو بھیج دی جائے گا۔ اس دوران ٹی آر پاکستان نے پالیسی کے مسودے کا جائزہ لیا ہے اور صوبے میں اپنی نوعیت کی پہلی آئی ٹی پالیسی کے بارے میں نمایاں پہلوئوں کو اجاگر کیا جن کے بارے میں آپ کو جاننے کی ضرورت ہے۔

انٹرنیٹ تک رسائی کا بنیادی حق

آئی ٹی پالیسی انٹرنیٹ کی فراہمی کو ایک بنیادی حق کے طور پر تسلیم کرتی ہے اور انٹرنیٹ کو ایک بنیادی ضرورت کا درجہ دیتی ہے۔ اس حق کے تحت یہ تسلیم کیا گیا ہے جو لوگ بھی انٹرنیٹ تک رسائی کا خواہشمند ہوںگے انہیں انکار نہیں کیا جائے گا۔ ایک بنیادی افادیت کے طور پر انٹرنیٹ کی سروس فراہم کرنے والے پر لازمی ہو گا کہ وہ اس کے بنیادی ڈھانچے کو فروغ دے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیوروکریسی کی سرخ فیتہ پالیسی کی وجہ سے جو تاخیر ہوتی ہے اس کا امکان کم ہو جائے۔

مقامی کونٹنٹ اور اضافی رابطے کے ساتھ وسیع رسائی

مسودے میں بڑے شہروں میں مشترکہ وسائل اور خدمات کے مراکز کے قیام پر زور دیا گیا ہے جس میں عوامی سطح پر وائی فائی مقامات ہوں گے اس کے ساتھ ساتھ خواتین کے لئے مخصوص عوامی اور دفتری مقامات پر بھی وائی فائی کی سہولت فراہم کی جائیگی۔ یہ اقدامات نجی شعبے کے اشتراک سے شروع کئے جائیں گے۔

اس میں انٹرنیٹ رسائی کو فروغ دینے کیلئے آن لائن کونٹنٹ کی سہولت طلب کی گئی ہے۔ عوامی مشاورت کے دوران موصول رائے کی بنیاد پر، نظر ثانی شدہ مسودہ میں تمام سرکاری خدمات کے بارے میں معلومات علاقائی زبانوں میں فراہم کی گئی ہیں۔

ٹیکس سے مشروط استثناء

مسودہ میں انٹرنیٹ کے استعمال کو فروغ دینے کے ساتھ تحقیق اور ترقی کے کلچر کی حوصلہ افزائی کیلئے ٹیکس میں چھوٹ کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔ مسودہ میں سیل فونز کے ذریعے انٹرنیٹ کے استعمال کی لاگت کو کم کرنے کیلئے حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ موبائل فونز پر انٹرنیٹ کے استعمال کے لئے سیلولر براڈ بینڈ سروس کو سیلز ٹیکس سے مستثنی قرار دے۔ اس میں حکومت کو آئی ٹی فرموں کیلئے ٹیکسوں میں چھوٹ ،تحقیق و ترقی اور نئی ملازمتیں پیدا کرنے کیلئے فنڈز بھی مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

نئی کمپنیاں اور فری لانسرز

یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ نئی کمپنیوں کو تین سال کیلئے تمام ٹیکسوں سے چھوٹ دی جائے۔ اور چھوٹ کی مدت ختم ہونے کے بعد پانچ سال کیلئے انکم اور سیلز ٹیکس کا خود تشخیصی اختیار دیا جائے۔

مالی معاونت اور سرمایہ کاری

ڈرافٹ میں سرکاری سرپرستی میں وینچر کیپٹل فنڈ قائم کرنے کیلئے کہا گیا ہے تاکہ فری لانسرز اور نئی قائم ہونے والی کمپنیوں اور نئے کاروباری آئیڈیاز کو حاصل کرنے کیلئے مالی ضروریات کو پورا کیا جاسکے ۔ تاہم ان آئیڈیاز کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے کوئی سرمایہ کاری تجویز نہیں کی گئی۔ اس میں نجی وینچر اور غیرملکی سرمایہ کاروں کو مقامی آئی ٹی اور خدمات کی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے بھی کہا گیا ہے۔ یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ حکومت خواتین ، اقلیتوں، شہید فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کے لواحقین کی طرف سے نئی کمپنی کے قیام کے اخراجات پورے کرنے کیلئے مالی مدد فراہم کرے۔

اختراعات کی حوصلہ افزائی

ڈرافٹ میں سوشل انٹر پرینیور شپ کی حوصلہ افزائی کیلئے انوویشن فنڈ کے قیام کیلئے بھی کہا گیا ہے۔ ایسی نئی کمپنیاں جو سماجی اور معاشی مسائل کے حل کیلئے آئیڈیاز متعارف کروائیں انہیں اس فنڈ کے ذریعے مالی معاونت فراہم کی جائے۔ اسی طرح اختراعی آئیڈیاز والی نئی کمپنیوں کو بنیادی فنڈز کی فراہمی کیلئے پنجاب سٹارٹ اپ ایوارڈ شروع کیا جائے گا۔

صلاحیت اور تربیت کی تعمیر کے اقدام

اس میں صرف نئی کمپنیوں کی مالی امداد کی فراہمی کی تجویز نہیں بلکہ تربیت اور صلاحیت کی تعمیر کے پروگراموں کو متعارف کروانے کیلئے بھی کہا گیا ہے۔ انکیوبیٹرز اور ایکسیلریٹرز کمپنیوں کیلئے اپلائیڈ انٹرپرینیور شپ ٹریننگ پروگرام متعارف کروایا گیا ہے۔ یونیورسٹیوں میں تربیت ،صلاحیت کی تعمیر اور تحقیق کو فروغ دینے کیلئے غیرملکی انکیوبیٹرز اور ایکسیلیریٹرز کمپنیوں سے پارٹنر شپ کی جائے گی۔

فری لانسرز

ڈرافٹ فری لانسرز کو آئی ٹی سیکٹر کے رکن کے طور پر شمار کرتا ہے اور انہیں آئی ٹی انڈسٹری کو حاصل تمام سہولتوں کی فراہمی تجویز کرتا ہے۔ فری لانس آمدن کے پراسیس کو آسان بنانےکیلئے سٹیٹ بنک آف پاکستان ملکی ترسیلات زر کی بجائے آئی ٹی ایکسپورٹ آمدن کے طور پر معاونت فراہم کرے گا
آئی ٹی کی صنعت میں ڈیٹا ذخیرہ کرنا معلومات ذخیرہ کرنے کی پالیسی کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئےڈرافٹ میں ملک بھر سے رائے طلب کی گئی ہے اور صوبے میں انکیوبیٹر اور ایکسیلیریٹر کے بارے میں ڈیٹا بیس قائم کی جائے۔

حکومت کی خدمات کو ڈیجیٹل کرنا

یہ مسودہ تمام سرکاری محکموں میں پالیسی کی تشکیل ، ڈیٹا مینجمنٹ اور تجزیہ کی وکالت کرتا ہے۔ پہلی ڈیجیٹل پالیسی کے بارے میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ تمام حکومتی خدمات کو ڈیجٹل طور پر پیش کیا جائے۔ اس میں عوامی سطح پر معلومات اور خدمات کی فراہمی کیلئے پنجاب ڈیٹا سینٹر کے قیام کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس میں تمام سرکاری محکموں سے رابطے کا کہا گیا ہے تاکہ خدمات اور پروویژنز متعلقہ سرکاری افسران سے مشاورت اور تعاون حاصل کی جاسکے اور انہیں آئی سی ٹی کی تربیت فراہم کی جاسکے۔

پبلک تعلیم

یہ مسودہ سہولیات کے استعمال کے ذریعے سرکاری اسکولوں اور تربیتی اداروں میں تدریسی نتائج کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات تجویز کرتا ہے۔ جس میں اسکول اور کالج کی سطح پر جدید سوچ کے مطابق کورس کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ کورسز رابطہ کمیٹی کے ذریعے تعلیمی اداروں اور صنعت کے تعاون سے ڈیزائن کئے جائیں گے۔ علاقائی زبانوں میں تعلیم کے تدریسی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ڈرافٹ میں اساتذہ کو آئی ٹی کی تربیت اور آئی ٹی کے ضروری سازوسامان کیلئے آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کی تجویز دی گئی ہے۔ مزید برآں، اس میں ڈیجیٹل پبلک لائبریریوں کے قیام، علاقائی زبانوں میں دستیاب تحریری، آڈیو یا ویڈیو مواد بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔

آئی ٹی کی تعلیم کیلئے کچھ خصوصی اقدامات بھی تجویز کئے گئے ہیں جن میں دو سو سکالر شپ کے ساتھ آئی ٹی میں ماسٹرز یا ڈاکٹریٹ اور غیر ملکی یونیورسٹیوں سے آئی ٹی ای ایس اور الیکٹرانک ہارڈوئیر مینجمنٹ کے شعبوں میں ہرسال گرانٹ کی فراہم اور آئی ٹی کی جامعات میں مستحق طلبا کو 300وظائف کی فراہمی شامل ہے۔

صحت عامہ

ڈرافٹ میں ٹیلی میڈیسن کا ڈھانچہ تجویز کیا گیا ہے۔ جس کے تحت دور دراز علاقوں میں آئی ٹی سہولتوں کے ساتھ کلینکس کا قیام شامل ہے جس کے ذریعے ملک میں کہیں بھی رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنرز سے مریض کا معائنہ اور دوا کی پریسکرپشن لی جاسکے گی۔
تحقیق، ترقی اور جدت ٹیکس میں چھوٹ اور یونیورسٹی کی صنعت شراکت داری کے علاوہ ڈرافٹ میں تحقیق، ترقی اور انوویشن کیلئے کئی دیگر اقدامات تجویز کئے گئی ہیں ان میں مروجہ تعلیمی شعبوں میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سکالر شپس، کم سے کم شرح سود یا بلاسود قرضوں کی فراہمی کی تجویز ہے۔

خزانہ کی ڈیجیٹل

پالیسی میں نقد ادائیگی کی حوصلہ شکنی اور ڈیجٹیل ادائیگی کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ سرکاری شعبے میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی طرح تنخواہوں اور مالیاتی خدمات کی ادائیگی کو ڈیجیٹل شکل دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس ڈرافٹ سے صوبے میں ای کامرس انڈسٹری کی سہولت کے لئے قانون سازی کی ضرورت کا احساس ہوتا ہے۔

ڈیجیٹل حقوق کیلئے قانونی فریم ورک

ڈرافٹ میں ڈیجیٹل ایڈووکیسی ٹاسک فورس کے قیام کی سفارش کی گئی ہے جس کے ارکان میں سول سوسائٹی ، صنعت اور حکومت کے نمائندے شامل ہوں گے تاکہ انٹر نیٹ استعمال کرنے والوں کے ڈیجیٹل حقوق کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ ٹاسک فورس کی ذمہ داری معلومات اور ڈیٹا سیکورٹی پالیسی کے تحت سائبر دھمکیوں، ہراساں کرنے، سینسر شپ اور نیٹ غیرجانبداری کا جائزہ لینا ہے۔

بین الحکومتی تعاون کو فروغ دینا

ڈرافٹ میں مرکز اور صوبوں میں اشتراک عمل کی ضرورت کو تسلیم کی گیا ہے۔ اس میں آئی ٹی پالیسیوں کے تسلسل اور نفاذ کیلئے مشترکہ صوبائی کمیٹی کے قیام کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کمیٹی کے قیام کیلئے صوبوں سے مشاورت مکمل کرلی گئی ہے۔

تحریر: عمیر رشید (Umair Rasheed)

Read in English

Authors
Top