Global Editions

2018 ڈی این اے ڈیٹا کے استعمال کے لئے بڑا سال تھا

لاکھوں لوگوں پر جین کی معلومات انقلاب برپا کر رہی ہے کہ کس طرح ہم بیماریوں کی تشخیص کرتے ہیں، مجرموں کو پکڑتے ہیں اور نئی ادویات تلاش کرتے ہیں۔

جینیاتی آئی کیو ٹیسٹ، ڈی این اے کی تشخیص کا کام ، مجازی ادویات کے ٹرائل وغیرہ ڈی این اے کی معلومات کے کچھ حیرت انگیز نئے استعمال تھے جو گزشتہ 12 ماہ کے دوران سامنے آئے ۔ایسا اس لئے ہو رہا ہے کہ جینیاتی مطالعہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑا ہو رہا ہے۔

2003 میں واپس سوچیں۔ ہم نے پہلا انسانی جینوم ڈی کوڈ کیا تھا اور سائنسدانوں نے تب ہر جینیاتی غلطی کو تلاش کرنے کی کوشش کی جس سے کافی سنجیدہ مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اب اگرچہ، ہم لاکھوں جینومز پر معلومات سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں۔ اور جین ہنٹس صرف بڑے نہیں ہیں- وہ بنیادی طور پر مختلف ہیں۔ انہوں نے عام بیماریوں اور شخصیت کےپہلوئوں کی جینیاتی جڑوں کو نکالنا شروع کر دیا ہے، اور وہ جینیاتی رازداری کو ناممکن بنا رہے ہیں۔
گزشتہ سال میں ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کی اپنی کوریج سے ڈی این اے ڈیٹاکے بڑھتے ہوئے رجحانات کویہاں دیکھتے ہیں۔

صارفین: یہ سب کچھ جینیاتی ڈیٹا کے بارے میں ہے۔ اب قومی سطح کی کوششوں کی وجہ سے اور تجارتی پیمانے پر لاکھوں افراد کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ سال فروری میں، ہم نے رپورٹ کیا تھا کہ 12 ملین افراد نے پہلے ہی صارفین کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا ہے۔ چونکہ یہ ڈیٹا ہر سال ناقابل اعتماد حد تک دوگنا ہو رہا ہے، شاید اب تک یہ 25 ملین تک پہنچ چکا ہے۔ دراصل، ڈی این اے رپورٹ اب ایک بڑے پیمانے پر اپیل کی ایٹم ہے۔ شکر ادا کرنے والےہفتے کے اختتام پر AncestryDNA سب سے زیادہ بکنے والی ایٹم تھی کیونکہ یہ لوگوں کو ان کے آبائواجداد کے بارے میں بتاتی ہے۔

بڑا ڈیٹا: سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جینوم کو سمجھنے کے لئے انہیں ایک ہی وقت میں زیادہ سے زیادہ لوگوں پر تحقیق کرنی ہوتی ہے۔2018 میں پہلی جین ہنٹ نے دس لاکھ افراد کا ریکارڈ توڑا۔ان میں بے خوابی کا جینوم ڈھونڈناا اور تعلیمی کامیابی کے جینیاتی جینوم شامل تھے۔ ایسا کرنے کے لئے، محققین نے قومی بائیوبینک اور مقبول جین ٹیسٹ کمپنی 23andMe سے مدد حاصل کی۔یہاں پر صارفین تحقیق میں حصہ لینے کے لئے سائن اپ کر سکتے ہیں۔

پولی جینک سکور: کچھ بیماریاں ایک جین کے غلط ہونے کی وجہ سے ہیں۔ لیکن بڑی بیماریوںجیسا کہ دل کا دورہ پڑنا، کی صورت حال میں ایسا نہیں ہے۔ ان بیماریوں میں سینکڑوں جینیاتی عوامل شامل ہوتے ہیں۔  لہٰذا اسی وجہ سے ایک بندے کی پوری جینوم سے خطرات کی پیشگوئی اس سال کی سب سے اہم سٹوری تھی ۔نئے جینیاتی سکور سے چھاتی کے کینسر کی تشخیص کی جا سکتی ہے، کالج میں داخلہ کو چیک کیا جا سکتا ہےیا این بی اے کے لئے قد کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔ 2019 میں 23andMe اور کلر جینومکس پر نظر ہے کہ وہ تجارتی پیمانوں پرپیشن گوئی کی سروس کب شروع کرتی ہیں۔

جینیاتی آئی کیو ٹیسٹ: جین صرف اس چیز کو متاثر نہیں کرتے کہ ہم کیسے دکھتے ہیں ۔ یہ بتاتے ہیں کہ ہم کون ہیں۔ اب کچھ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ڈی این اے سکور ایک محتاط اندازہ پیش کرسکتے ہیں کہ بچہ بڑا ہو کر زندگی میں کیسا ہوگا۔وہ سوال جس کا جواب نہیں ملا ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں ان معلومات کو کیسے استعمال کرنا چاہیے۔

ایمبریوزکا ٹیسٹ: جی ہاں، یہ بالکل اس طرح ممکن ہے جیسا کہ سائنسی فلم گٹیکا (Gattaca) ،جس میں والدین بچہ اپنے ایک پیٹری ڈش سے حاصل کرتے ہیں۔پہلے سے ہی، والدین آئی وی ایف کے مراکز میں جین ٹیسٹ کراتے ہیں اور والدین کو بعض سنگین بیماری کے خطرات سے بچنے کے لئے ایمبریوز منتخب کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ اب ایک نیو جرسی کی کمپنی جینومک پرڈکشن(Genomic Prediction) جسے ہم نے2017خاص طور پر کور کیا تھا، کا کہنا ہے کہ وہ بچوں میں مستقبل کا تعلیمی پوٹینشل ٹیسٹ کرنے کے لئے ایمبریوز کا ٹیسٹ کرنے کے لئے تیار ہے۔ لہٰذا CRISPR والےبچوں کو بھول جائیں، جین ایڈٹ والے بچے آ چکے ہیں۔

نسلی تعصب: یہاں کچھ ایسا ہے جو کہ اتنا اچھا نہیں ہے: 80 فیصد ڈی این اے ڈیٹا تقریبا ًیورپی آبادی کے سفید فام لوگوں سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ نئی دریافتیں اور تجارتی ٹیسٹ صرف سفید فام لوگوں پر کئے گئے ہیں اور افریقیوں، ایشین، لاطینی یا دیگر لوگوں پر نہیں کئے گئے جن کے ڈی این اے مختلف ہیں۔ سٹینفورڈ یونیورسٹی کے جینیاتی ماہر کارلوس ڈی بسسٹنٹ کہتے ہیں کہ جیناتی تلاش کو بڑھانے کے لئے اچھی سائنسی وجوہات موجود ہیں۔ ہم صحت کے بارے میں کامیابیوں کو بہت تنگی سے دیکھ کر محدود ہو جائیں گے۔

کلینکل ٹرائل کی کاپی کرنا: کیا آپ جانتے تھے کہ آپ ایک بہت بڑے اور بے ترتیب تجربہ کا حصہ ہیں؟ یہ سچ ہے۔ یا کم سے کم کچھ جینیاتی ماہرین آپ کو اس طرح سے دیکھتے ہیں۔ اور اب وہ ایک چالاک طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں جس کو مینڈیلیلین رنڈومائزیش(Mendelian randomization) کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں آپ کی طبی معلومات استعمال کی جاتی ہیں تاکہ پتا چلایا جا سکے کہ کونسی ادویات آپ پر کام کریں گی اور کونسی نہیں۔

جرائم سے لڑنا: زیادہ ڈی این اے ڈیٹا کی موجودگی میں یہ پتا چلانا آسان ہےکہ کونسا مجرم خون کا قطرہ چھوڑ گیا ہے یا بال کس کے ہیں۔اس طریقہ کار کے اپنانے سے گولڈن سٹیٹ کلر اپریل میں گرفتار ہو گیا تھا جب حساس ادارے کے لوگوں نےغیر روایتی طریقہ کار اپناتے ہوئے اس کے ڈی این اے پروفائلز اور جینالوجیکل ٹری کا استعمال کیا۔در حقیقت ریاضی کام دکھاتی ہے جب ڈین این اے ڈیٹا بیس میں ہمارے کسی رشتہ دار کا پہلے سے ڈیٹا موجود ہوتا ہے۔ایک ماہر جینیات سی سی مور(CeCeMoore) نے ہمیں بتایا کہ اس نے اپریل سے 27 قاتلوں اورعصمت دری کرنے والوں کی پہچان کی ہے۔ایک بہت اچھا سال گزرا ہے۔

تحریر: انٹونیو ریگالڈو (Antonio Regalado)

Read in English

Authors

*

Top