Global Editions

علی پے:چین کے ڈیجیٹل فنانس کے شعبےمیں انقلاب

علی بابا پر خریداری میں مدد فراہم کرنے والی یہ سہولت اب فنانس کی ایک اہم کمپنی کی شکل اختیار کرچکی ہے۔

چند سال پہلے، بیجنگ میں مقیم 26 سالہ سول سرونٹ جین یانگ (Jane Yang) اپنے گھر کا کرایہ ادا کرنے کے لیے 100 یوان کے ڈھیر سارے نوٹ استعمال کرتی تھیں۔ وہ تین مختلف بینکس پر جا کر کیش سے بجلی، پانی اور انٹرنیٹ کے بل ادا کیا کرتی تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اس سب میں بہت وقت بھی لگتا تھا اور الجھن الگ ہوتی تھی۔ چین کے دارالحکومت میں اونچی عمارتوں اور شاپنگ مالز کی چمک دمک کے باوجود مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے ایسے کئی افراد تھے جنھوں نے نہ تو کبھی کوئی چیک بک استعمال کی اور نہ ہی دیکھی تھی۔

آج وہ اپنے سمارٹ فون پر چین کی مقبول ترین ادائیگی کی سہولت علی پے (Alipay) ایپ سے اپنے مالک مکان کے اکاؤنٹ میں رقم بھیجتی ہیں۔ وہ علی پے سے اپنی بجلی، پانی اور موبائل فون کے بل بھی بھرتی ہیں۔ یانگ اپنےعلی پے کے یوئی باؤ (Yu’ebao) منی مارکیٹ اکاؤنٹ میں بھی پیسے ڈالتی ہیں، جہاں انھیں روایتی بینک اکاؤنٹ سے زیادہ منافع ملتا ہے۔ یانگ کا کبھی اپنی مالی عادات تبدیل کرنے کا ارادہ نہیں تھا لیکن نئی موبائل ٹیکنالوجی سے یہ سب ان کے لیے اب بہت آسان ہوگیا ہے۔

علی پے کے جاری کردہ حالیہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2014ء تک چین میں 30 کروڑ سے زیادہ صارفین (اور بیرون ملک 1.7 کروڑ صارفین) ایپ پر رجسٹر ہوچکے تھے۔ یانگ کی طرح دوسرے کئی لوگوں نے شروع میں صرف اسی لیے اکاؤنٹس کھولے تھے تاکہ وہ علی بابا کی مشہور سائٹس ٹاؤباؤ ڈاٹ کام (Taobao.com) اور ٹی مال ڈاٹ کام (Tmall.com) پر شاپنگ کرسکیں۔

علی پے کا ادائیگی کا نظام پے پال (PayPal) کی طرح ہی کام کرتا ہے لیکن فرق یہ ہے کہ جب تک سامان خریدار کے پاس پہنچ نہ جائے اور خریدار اس سے مطمئن نہ ہو، رقم علی پے کے پاس ہی رہتی ہے۔ چین میں لوگ جھوٹے دعووں اور جعلی مصنوعات کے خوف کی وجہ سے آن لائن شاپنگ سے کتراتے ہیں لیکن علی پے کے ایسکرو (Escrow) کے اس نظام سے صارفین کو تحفظ کا احساس ہوتا ہے، جس سے علی بابا کی ریٹیل سائٹس کو حریف ای بے (eBay) سے آگے نکلنے کا موقع مل گیا ہے۔

آج علی بابا کی سائٹس پر سالانہ 300 ارب ڈالر کی خرید و فروخت ہوتی ہے، جو ای بے اور ایمزان کے مجموعی کاروبار سے زيادہ ہے۔ ایمزان کے برعکس علی بابا اپنی سائٹس پر دکھایا جانے والا سامان نہ تو رکھتا ہے اور نہ ہی فروخت کرتا ہے۔ ستمبر میں یہ کمپنی نیو یارک اسٹاک ایکسچینج پراپنے حصص کی ابتدائی عوامی پیشکش (Initial Public Offering -IPO) سے25 ارب ڈالر حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوگئی تھی جو اب تک کسی بھی نئی کمپنی کی سب سے بڑی پیشکش ہے۔

علی بابا نے چین میں تیزی سے بڑھنے والی ای کامرس مارکیٹ کو بہت آگے بڑھایا ہے لیکن ممکن ہے کہ چینی معیشت پر علی پے کا اثر زیادہ ہو۔ شنگھائی میں چائنا مارکیٹ ریسرچ گروپ (China Market Research Group) کے پرنسپل بین کیونڈر (Ben Cavender) کہتے ہیں کہ علی بابا اور علی پے ایک دوسرے کی کامیابی کے لیے بہت ضروری ہیں۔ ’’لیکن اگر علی پے زیادہ اہمیت اختیار کرلے تو مجھے حیرت نہیں ہوگی۔ یہ بہت لچک دار ہے، اور اس کے بہت فائدے بھی ہیں۔‘‘علی پے شروع میں صرف ایک چھوٹا سا ای پے منٹ سسٹم تھا لیکن اب یہ ایک مکمل ایپ (اور ویب سائٹ) کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ صارفین کو آن لائن شاپنگ کی عادت ڈالنے کے علاوہ، علی پے کی وجہ سے ایسے افراد کو جنھیں منی مارکیٹ اکاؤنٹ، کاروباری قرضے اور ادائیگی کے لیے ٹولز تک رسائی نہیں تھی، اب کئی مالی سہولیات دستیاب ہوچکی ہیں۔

چین کے رہائشی بڑی تیزی سے فون بینکنگ کے استعمال کے عادی ہورہے ہیں اور اب علی پے کو ٹین سینٹ (Tencent) کے ویشین والٹ (Weixin Wallet) کی جانب سے، جس میں موبائل ادائیگیوں کی بھی سہولت ہے، کافی مقابلہ درپیش ہے۔

شنگھائی میں فنانس کی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل کرنسی کے ماہر زینون کیپرون (Zennon Kapron) کہتے ہیں کہ چین میں موبائل ادائیگیوں میں جدت پسندی ٹیکنالوجی کی کمپنیوں کے دم سے ہے۔ اس میں روایتی بینکس اور حکومت کا کردار اہم نہیں ہے۔ علی پے کے مطابق جولائی 2013ء اور 30 جون 2014ء کے درمیان انھوں نے778 ارب ڈالر (4.8 کھرب یوان) کا کاروبار کیا تھا۔ یہ روزانہ 10 ارب سے زيادہ ٹرانزيکشنز پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ’’سنگلز ڈے‘‘ (Singles’ Day) کی سالانہ سیل، جو امریکہ کی بلیک فرائی ڈے جیسی مگر اس سے بڑی سیل ہے، علی پے نے فی منٹ ساڑھے 28 لاکھ ٹرانزیکشنز پراسیس کیے اور اس کی 54 فیصد ٹرانزیکشنز موبائل آلے کے ذریعے ہوتی ہیں۔

کیپرون کہتے ہیں کہ علی پے کی بیک اینڈ ٹیکنالوجی پے پال سے ملتی جلتی ہے لیکن اسے استعمال کرنے کا طریقہ مختلف ہے۔ پے پال کے ذریعے کسی بھی خرید و فروخت کی ویب سائٹ پر ہونے والی ٹرانزیکشن کے اختتام پر رقم کی ادائیگی کی جاسکتی ہے لیکن صارفین علی پے کی اپنی ایپ اور ویب سائٹ میں رہتے ہوئے ہی اپنی سرمایہ کاری دیکھ سکتے ہیں اور دیگر ٹرانزيکشنز کرسکتے ہیں جیسے کہ فلم اور ہوائی جہاز کے ٹکٹ کی خریداری۔ کیپرون کے مطابق اسے ان لوگوں کے لیے بنایا گیا ہے جنھیں ہر چیز کے لیے اپنا موبائل فون استعمال کرنے کی عادت ہوگئی ہے۔

ان نئی موبائل ادائيگيوں کی ٹیکنالوجیز کی وجہ سے چین چیک بکس اور ڈیسک ٹاپ بینکنگ کو پھلانگ کر آگے نکل گیا ہے۔ مثال کے طور پر جین یانگ کیش میں کرایہ دیتے دیتے سیدھا علی پے سے دینے لگ گئی ہیں۔ پرائس واٹرہاؤس کوپرس (PricewaterhouseCoopers) کے مطابق 79 فیصد چینی صارفین کہتے ہیں کہ وہ اپنے موبائل آلات کے ذریعے کوپن وصول کرنا پسند کرتے ہیں جبکہ دنیا بھر میں یہ شرح 53 فیصد ہے۔ 55 فیصد چینی صارفین توقع کرتے ہیں کہ آگے چل کر ان کا فون ہی خریداری کرنے کا بنیادی طریقہ ہوگا جبکہ دنیا بھر میں یہ شرح 29 فیصد ہے۔

یہ ایک ایسے ملک کے لیے بہت بڑی بات ہے جو کئی سالوں تک کنزیومر فنانس کی قدیم ٹیکنالوجیز میں ہی پھنسا ہوا تھا۔ کیونڈر کہتے ہیں کہ بینکس نے کسٹمر سروس کو آسان بنانے کی ذرا سی بھی کوشش نہیں کی اور کئی سالوں تک کریڈٹ کارڈ کے بل کی ادائیگی کے لیے بھی بینک جا کر قطار میں ہی کھڑا رہنا پڑتا تھا۔ یہ ڈاک کے ذریعے یا آن لائن ممکن نہیں تھا۔ ویلتھ مینیجمنٹ کے مواقع صرف ان ہی لوگوں کو دستیاب تھے جن کے پاس سرمایہ کاری کے لیے بہت زيادہ رقم ہو، یا جو بینک کی بڑی شاخوں کے قریب رہتے تھے۔

بوسٹن کنسلٹنگ گروپ کے ہانگ کانگ کے دفتر کے سینئر پارٹنر اور مینیجنگ ڈائریکٹر جن ٹینگ (Tjun Tang) کہتے ہیں کہ یہ تبدیلیاں چین میں بڑھتی ہوئی آمدنی اور حکومت کی صارف پر زیادہ مرکوز معاشرہ تشکیل کرنے کی کوششوں سے ممکن ہوئی ہیں۔ ان کے خیال میں ڈیجیٹل فنانس اپنانے میں چین دنیا میں سب سے آگے ہے۔

(Christina Larson) تحریر: کرسٹینا لارسن

Read in English

Authors
Top