Global Editions

مصنوعی ذہانت کے حامل علی بابا کے وائس اسسٹنٹس گوگل سے بہتر ہیں

یہ ایک دن میں انسانوں سےگفتگو کرکے لاکھوں درخواستوں کو نمٹاتے ہیں

مئی میں گوگل نے ڈپلیکس کی نقاب کشائی کی جو کہ اس کا انسان کی طرح کا وائس اسسٹنٹ ہے اورسیلون اور ہوٹلوں کی بکنگ کرانے کے قابل ہے۔ یہ آواز پیدا کرنے اور قدرتی زبان کی سمجھ میں ایک نیا سنگ میل لگ رہا تھا اور اس نے اس چیز سے پردہ اٹھایا کہ مستقبل میں انسانوں اور مصنوعی ذہانت کے درمیان کیسا تعلق ہوگا۔

گوگل نے اپنے فیچر ایک محدود پبلک لانچ میں متعارف کرائے جبکہ علی بابا نے اپنے صوتی اسسٹنٹ کو اضافی وقت دیا۔2دسمبر، 2018 میں نیورل انفارمیشن پراسیسسنگ سسٹمز کانفرنس، (Neural Information Processing Systems Confernece) جو کہ مصنوعی ذہانت کی سب سے بڑی تقریب ہے، میں علی بابانے اپنی لاجسٹک کمپنی کینائو(Cainiao)کے لئے مصنوعی ذہانت والے کسٹمر سروس ایجنٹ لگانے کا مظاہرہ کیا۔
علی بابا کی مشین انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجی لیب کے ڈین جن رونگ (Jin Rong)نے کہا کہ ایجنٹ پہلے سے ہی ایک لاکھ کسٹمر کی درخواستوںپر خدمت دے رہا ہے۔

پری ریکارڈ شدہ ڈیمو کال میںایجنٹ ایک گاہک سے پیکج ڈلیوری کو بھیجنے کے لئے بات کر رہا ہے۔بات چیت کے تبادلے میں، ایجنٹ نے کامیابی سے گفتگو کو آگے پیچھے کیا اور اپنی قدرتی زبان کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔

منڈارن سے ترجمہ شدہ اس کال کے شروع میں ایک ایجنٹ اور گاہک کے درمیان گفتگو ملاحظہ ہو:
ایجنٹ: ہیلو، میں کینائو کاصوتی اسسٹنٹ ہوں۔ میں نام فلاں ہے۔

کسٹمر: ہیلو۔
ایجنٹ: جی ہاں، ہیلو، آپ کا پیکج صبح ترسیل کیلئے 588 کلچرویسٹ روڈ فکس ہے۔ آپ کو یہ مؤصول کرنے کے لئے کوئی مسئلہ تو نہیں ہے؟
کسٹمر: آپ کون ہیں؟

ایجنٹ: میں کینائو کا صوتی اسسٹنٹ ہوں۔ میں آپ کے لئے صبح پیک کی ترسیل کو 588 کلچر ویسٹ روڈ کے لئے تصدیق کرنا چاہوں گا۔یہ آپ کے لئےٹھیک ہو گا؟

کسٹمر: صبح میں گھر میں نہیں ہوںگا۔

ایجنٹ: پھر آپ کے پاس ایک اور پتہ ہے جسے آپ استعمال کرنا چاہتے ہیں؟

30 سیکنڈ کے اندر، ایجنٹ نے آسانی سے تین عام، مشکل اور بات چیت کے اجزاء کو سنبھال لیا ہے: رکاوٹ، نان لینئر بات چیت، اور واضح مقصد۔ رکاوٹ میں وضاحت ہے: ایجنٹ گاہک کی مداخلت کا جواب دے سکتا ہے اور بغیر کسی بیٹ پر بھروسہ کیے متعلقہ معلومات کو دوبارہ جاری رکھ سکتا ہے۔

نان لینئر گفتگوتب ہوتی ہےجب گاہک سے پوچھا جاتا ہے، "آپ کون ہیں؟" یہ چیز ایجنٹ کو رجسٹر کرواتی ہے کہ کسٹمر پہلے سے ہی سوال کا جواب نہیں دے رہا ہے بلکہ اس کے برعکس انکوائری کی نئی لائن شروع کر دی ہے۔جواب میں، ایجنٹ اصل سوال پر واپس آنے سے پہلے خود کو دوبارہ متعارف کرواتا ہے۔

واضح مقصد تب نکلتا ہے جب گاہک نے جواب دیا، "میں صبح گھر میں نہیں ہوں۔" وہ کبھی واضح طور پر نہیں کہہ رہا کہ اصل میں اس کاکیا مطلب ہے کہ گھر میں ترسیل نہیں ہو سکے گی۔ لیکن ایجنٹ نے صورت حال کو پڑھ لیا اور سنجیدگی سے فالو کیا۔

یہ عناصر انسانی بات چیت میں عام طور پر ہوسکتے ہیں، لیکن مشینیں اکثر ان کو سنبھالنے میں جدوجہد کرتی ہیں۔ علی باباکا صوتی اسسٹنٹ ایسا کر سکتا ہے اور یہ گوگل کے ڈپلیکس سے زیادہ جدید ترین ہے۔ تاہم یہ بات قابل ذکر ہے کہ علی بابا کی ڈیمو کال پریزنٹیشن سٹیج لئے ڈیزائن کی گئی ہے؛ تجربہ حقیقت میں مختلف ہو سکتا ہے۔

فی الحال ایجنٹ صرف پیکیج کی ترسیل کو منظم کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، لیکن جن رونگ نے کہا کہ یہ دیگر موضوعات کو سنبھالنے کے لئے وسیع کیا جا سکتا ہے۔ وہ مکمل طور پر ظاہر نہیں کرے گا کہ اسسٹنٹ کو کس طرح تربیت دی گئی تھی۔ لیکن اس نے دوسرے وسائل کے علاوہ، کمپنی کےلئے بے شمارکسٹمر ریکارڈنگ کی۔ ایک عام دن پریزنٹیشن سلائڈز کے مطابق 50,000کسٹمر کی کالز آتی ہیں اور سنگلز ڈے(Singles Day) یعنی11 نومبرکو یہ تعداد پانچ گنا بڑھ جاتی ہے اور اس چھٹی والے دن کمپنی سال کا سب سے زیادہ منافع کماتی ہے۔

علی بابا بھی اپنے دیگر کاروباروں کےلئے ڈیجیٹل اسسٹنٹ تیار کررہا ہے بشمول کھانے کے آرڈر لینے والے جو کہ شور والے ہوٹل اور اسٹورز میں آپ کے آرڈر لے سکتے ہیں؛ ایک طرح کے مجازی انسان ہیں جو کہ علی بابا کی دوسری مصنوعات کے بارے میں معلومات دے سکتے ہیں اور ایک قیمت دکھانے والا چیٹ بوٹ جو پہلے ہی علی بابا کے ری سیل پلیٹ فارم زائینو(Xianyu) پر 20 فیصد بیچنے والوں کی طرف سے استعمال کیا جاتا ہے۔

ان سارے اسسٹنٹس کو بنیادی طور پر آوازپہچاننے والےاورقدرتی زبان پروسیسنگ والے انجن علی میAliMe) کی مشین انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجی لیب کی طرف سے پاور دی گئی ہے جس کو کمپنی کی مشین انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجی لیب نے بنایا ہے۔ ان کو پھر کاروبار کے مختلف حصوں پر پیکنگ کیا جاتا ہے ۔

اس میدان میں علی بابا کو سب سے بڑا فائدہ ڈیٹا کا ہےجس کواس نے مصنوعی ذہانت میں تربیت دی ہے۔اسٹنٹ ہر قسم کے حالات کو سنبھالنے کےلئے تیزی سے سیکھتے ہیں اور بہتری لاتے ہیں۔ ان ٹیکنالوجیوں کولانےکے لئے بہت بڑے کاروباری ادارے تیزی سے مدد کرتے ہیں۔ کسٹمر سپورٹ کالز کے بڑے حجم کو سنبھالنے کے علاوہ،علی بابا ایک دن ایک میں ایک بلین پیکیجز کی ترسیل کرتا ہے۔ مصنوعی ذہانت سے کام چلانے سےانسانوں پر بوجھ کو کم کرنے میں مدد اور کاروبار کو آسانی سے چلانے میں مدد ملتی ہے۔

تحریر: کیرن ہاؤ (Karen Hao)

Read in English

Authors
Top