Global Editions

“الیکسا، میری بات سنو"

آواز استعمال کرنے والی مصنوعی ذہانت کی ڈیوائسز محض کھیل و تفریح کے لیے نہیں ہیں۔ بلکہ وہ انسانوں اور مشینوں کے درمیان رابطے کا بنیادی طریقہ کار ثابت ہوسکتے ہیں۔

31 اگست 2012ء کو امیزان کے چار انجنیئرز نے الیکسا کا پیٹنٹ فائل کیا تھا، جو دنیا کے سب سے بڑے اور سب سے پیچیدہ ڈيٹا سیٹ، یعنی انسانی سپیچ، کے ساتھ انٹریکٹ کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس کے مظاہرے کے لیے صرف ایک مختصر سے کمانڈ کی ضرورت تھی۔ ایک کمرے میں ایک شخص نے ایک مخصوص گانے کی فرمائش کی، اور میز پر رکھی ہوئی ایک مشین نے گانا بجانا شروع کردیا۔

اس کے بعد سے امیزان نے آواز کے اشاروں پر چلنے والے مصنوعی ذہانت کے سسٹمز پر کام شروع کردیا، اور اب اس کے کاروباری حریف بھی میدان میں اترگئے ہیں۔ گوگل، ایپل، سام سنگ اور مائیکروسافٹ کے ہزاروں ریسرچرز ایسی آسان استعمال ڈیوائسز بنانے میں لگ گئے ہیں، جن سے آسانی سے بات کی جاسکتی ہے۔ بینکس اور یونیورسٹیز کے علاوہ کئی کمپنیوں کے لیے آواز استعمال کرنے والی ایپس بنانے والی کمپنی وٹ لنگو (Witlingo) کے چیف ایگزیکٹو افسر احمد بورذ (Ahmed Bouzid) کہتے ہیں "اس سے پہلے انسان ٹیکنالوجی کے مطابق خود کو ڈھالتے تھے اور اب ٹیکنالوجی کو انسانوں کے مطابق ڈھالا جارہا ہے۔"

جو ڈیوائس صرف گانے بجانے کے لیے بنائی گئی تھی، وہ آج مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والے ایسے سسٹم کی شکل اختیار کر چکی ہے جو مسلسل انسانی ڈيٹا سے سیکھ رہی ہے۔ الیکسا پر چلنے والا ایکو سیلنڈر اور ڈاٹ نامی ڈیوائسز آپ کے گھر کے مختلف کاموں میں آپ کی مدد کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اپنے صارفین کے متعلق بھی وافر مقدار میں جمع کرتے ہیں، جسے الیکسا کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

الیکسا پر چلنے والی مشینوں کو 2014ء میں متعارف کروایا گیا ہے، اور اس وقت سے اب تک کروڑوں مشینیں فروخت ہوچکی ہیں۔ امریکہ میں تمام آواز استعمال کرنے والی مصنوعی ذہانت کی ڈیوائسز میں سے 70 فیصد حصہ امیزان کی ڈیوائسز کا ہے، لیکن اب دوسری مشینیں بھی مقابلے میں کھڑی ہورہی ہیں۔ گوگل ہوم کی بھی کروڑوں ڈیوائسز فروخت ہوچکی ہیں، اور ایپل اور مائیکروسافٹ جلد ہی اپنی مشینیں لانچ کرنے والے ہیں۔

ان تمام کمپنیوں کا مقصد تین اہم مارکیٹس، یعنی گھریلو آٹومیشن، گھریلو تفریح، اور شاپنگ کی مارکیٹس، میں اپنے قدم جمانا ہے۔ ابھی تو یقین سے نہیں کہا جاسکتا ہے کہ کتنے لوگ اپنے اپلائنسز سے بات کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ لوگوں کی روزمرہ کی زندگی میں بڑی تیزی سے تبدیلی آرہی ہے۔ جس طرح سمارٹ فونز نے دنیا تبدیل کرکے رکھ دی، اسی طرح آواز استعمال کرنے والی مصنوعی ذہانت کی ڈیوائسز سے ہماری زندگیوں میں انقلاب آسکتا ہے۔ جب الیکسا یا اس قسم کی کوئی دوسری مشین آپ کا کام کرسکتی ہے، تو آپ خود کیوں کریں گے؟

اس وقت امیزان سمارٹ تھرموسٹاٹس، بجلی کے بلب اور الیکسا سے متصل دوسری ڈیوائسز سے معاوضہ وصول نہیں کررہی ہے۔ لیکن آگے چل کر پیسے کمانے کے کئی طریقہ کار ممکن ہوسکتے ہیں۔ اس وقت گھریلو آٹومیشن کی مارکیٹ سب سے چھوٹی ہے، لیکن یہ بھی سالانہ پانچ ارب ڈالر سے کم نہیں ہے، جبکہ دکانوں میں پچھلے سال 4.9 کھرب ڈالر کی خریداری ہوئی تھی۔ اس وقت امیزان کے پیسے کمانے کا واحد طریقہ ان مشینوں کی فروخت ہے۔ اس کے علاوہ انھیں اس وقت بھی فائدہ ہوتا ہے جب مشین کے خریدار امیزان کی آن لائن دکان سے کچھ خریدتے ہیں۔ تاہم امیزان نے اس کے متعلق اعداد و شمار نہیں فراہم کیے ہیں۔

اگر ایکو ڈیوائسز کو سمارٹ فونز کی طرح مقبول ہونا ہے، تو انھیں مزید فیچرز متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے امیزان ایپل کی طرح آزاد ڈیولپرز کو اپنے پلاٹ فارم پر نئے فیچرز تیار کرنے کی دعوت دے رہا ہے۔ اب تک پندرہ ہزار سے زائد ایپس تیار ہوچکی ہیں، جنھیں امیزان کی زبان میں "سکلز" ("skills") کہا جاتا ہے، اور ایپ بنانے کے ٹولز اس قدر آسان استعمال ہیں کہ پروگرامنگ جانے بغیر ایک گھنٹے کے اندر اندر ایک چھوٹی سی سکل تیار کی جاسکتی ہے۔ مقبول ترین ایپس میں اوبر اور لفٹ جیسی رائڈ ہیلنگ ایپس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، ایسی 48 سکلز بھی موجود ہیں جن کا کام صرف صارفین کو گالیاں دینا ہے، لیکن یہ کچھ خاص کامیاب ثابت نہیں ہوسکی ہیں۔

ڈیولپرز کی فہرست میں ایسی کمپنیاں بھی شامل ہیں جو الیکسا کے ساتھ کام کرنے والے ہارڈویئر یا سہولیات پر کام کررہی ہیں۔ ان میں سے ایک کمپنی کیپیٹل ون (Capital One) ہے جو الیکسا کی مدد سے اپنے صارفین کو بل کی ادائيگی کی سہولت فراہم کررہی ہے۔ اس کے علاوہ ٹورنٹو میں واقع ایکوبی (Ecobee) نامی کمپنی الیکسا استعمال کرنے والے تھرموسٹاٹ بنا رہی ہے، تاکہ لوگ صرف چند الفاظ ادا کرکے کمرے کا درجہ حرارت کم یا زيادہ کرسکیں۔ اس وقت ایکوبی میں فروخت ہونے والی ڈیوائسز کا 40 فیصد حصہ الیکسا استعمال کرنے والی ڈیوائسز پر مشتمل ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزيکٹو سٹورٹ لومبارڈ (Stuart Lombard) کہتے ہیں کہ ان کے صارفین کی زندگیوں میں وقت کی کمی ہے۔ "وہ گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہنے کے بعد گھر پہنچتے ہیں، جس کے بعد انھیں گھر کے سارے کام کرنے پڑتے ہیں۔ ہم ان صارفین کی زندگیوں میں آسانی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔"

سپیچ اور مصنوعی ذہانت کا امتزاج

آواز استعمال کرنے والی مصنوعی ذہانت کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ کی بورڈ اور سکرین پر ٹائپ کیے بغیر ہمارے بات کرنے اور سوچنے کے طریقہ کار کے مطابق خود کو ڈھال لیتا ہے۔ لیکن اسی وجہ سے ایسے سسٹمز کو بنانا بھی بہت مشکل ہے۔ ہم بات کرتے ہوئے بیچ میں رک جاتے ہیں، اپنی بات مکمل نہیں کرتے ہیں، اور بعض دفعہ کچھ کہنے کے بجائے صرف اشارہ ہی کردیتے ہیں۔

امیزان کے ہزاروں ملازمین اس مسئلے پر کام کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ امیزان کی ویب سائٹ پر کمپنی کے درجنوں ڈپارٹمنٹس میں الیکسا سے وابستہ ایک ہزار سے زائد اسامیوں کے اشتہار موجود ہیں، جن میں 215 مشین لرننگ کے ماہرین کی اسامیوں کے اشتہار شامل ہیں۔ میں نے کمپنی کے کیمبرج میں واقع صدر دفتر میں الیکسا کے صدر سائنس دان روہت پرساد (Rohit Prasad) سے اتنی بڑی ریسرچ ٹیم کے باوجود ٹیم کو بڑھانے کی ضرورت کے متعلق سوال کیا۔ اس کے جواب میں انھوں نے بڑے زور کا قہقہہ لگایا۔

پرساد نے بتایا کہ وہ پچھلے 20 سالوں سے سپیچ کی ٹیکنالوجی پر کام کررہے ہیں، لیکن نتائج ان کی توقع کے مطابق نہیں رہے ہیں۔ تاہم پچھلے پانچ سالوں میں انھیں یہ صورتحال تبدیل ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے حالانکہ اب تک ایک موثر آواز استعمال کرنے والا مصنوعی ذہانت کا سسٹم کامیاب تو ثابت نہیں ہوسکا ہے۔ ماضی میں سائنسدانوں نے پہلی کوشش میں چند بے ترتیب جملوں سے معنی نکالنے کی کوشش تو کی تھی، لیکن اب وہ نئے طریقے سے کام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ شروع ہی سی بے ترتیب ڈيٹا لے کر چلتے ہیں، اور اسے اندازے کے مطابق استوار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ سسٹم وافر مقدار میں صارف کا ڈیٹا استعمال کرکے سابقہ غلطیوں سے سبق حاصل کرتا ہے۔ الیکسا اپنے صارفین کے ساتھ جتنا زيادہ وقت گزارتا ہے، اسے اتنا ہی زیادہ ڈیٹا حاصل ہوتا ہے، اور اس کی ذہانت ميں اتنا ہی اضافہ ہوتا ہے۔ ترقی نئے مواقع کو جنم دیتی ہے، اور اس کے لیے مزید ملازمین کی ضرورت ہے۔

پرساد نے ہمیں گلوکارہ اڈیل کے البم "19" کی مثال دی۔ "اگر آپ الیکسا سے اڈیل کے پہلے البم کا نام پوچھیں گے، وہ آپ کو اس کا نام بتائے گا۔ اس کے بعد اگر آپ 'اسے' چلانے کو کہیں گے، تو اسے معلوم ہوگا کہ اسی البم کی بات ہورہی ہے۔" لیکن اگر آپ الیکسا سے البم کے بارے میں پہلے سوالات کرنے کے بعد پھر "اسے" چلانے کی درخواست کریں گے، تو پرانے ورژنز کو سمجھ نہیں آیا کرتا تھا۔ اب ٹیکنالوجی نے اس حد تک ترقی کرلی ہے کہ الیکسا ہر بار نہیں تو کم از کم چند بار درست البم کی نشاندہی کرلیتا ہے۔

یہ پیش رفت ہزاروں روابط سے حاصل کردہ ڈيٹا کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے، جس میں الیکسا ماضی میں کامیاب نہیں رہا۔ سسٹم سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کہ صارفین کونسنا گانا سننا چاہتے ہیں اور پھر نشاندہی کرتا ہے کہ ان کی گفتگو کے کس حصے میں اس کا تذکرہ کیا گیا تھا۔ ایم آئی ٹی میں زبانوں کے سسٹمز کے گروپ کے صدر جیمز گلاس (James Glass) کہتے ہیں "آپ کو شروع میں اندازوں سے کام لینا پڑتا ہے۔ اس کے بعد آپ ڈيٹا جمع کرکے اپنے ماڈلز کو بہتر بناسکتے ہیں۔"

گلاس کہتے ہیں کہ مشین لرننگ کے اس طریقہ کار کے بہت فوائد ہیں، لیکن اس کے لیے وافر مقدار میں ڈیٹا درکار ہے، جسے حاصل کرنا یونیورسٹی کے ریسرچرز کے بس کی بات نہیں ہے۔ لیکن اب جبکہ الیکسا کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، امیزان انسانوں اور کمپیوٹر کے درمیان روابط کے متعلق ڈيٹا حاصل کرسکتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے لیے اپنی وائس کی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانا ممکن ہوگیا ہے۔ بیرونی طور پر حاصل کردہ ڈيٹا سے بھی بہت فائدہ ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر 2016ء میں الیکسا میں مختلف گانوں کے بول کی ایک ڈیٹابیس شامل کی گئی تھی، اور اب گانوں کے درمیانی حصے کے بول گنگنا کر درست گانے کی شناخت ممکن ہے۔

اس طریقہ کار کی لچک داری کی ایک مثال پرساد کے گروپ کا نیا پراجیکٹ ہے، جو اس وقت درست اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہے جب کوئی شخص بات کرتے کرتے موضوع تبدیل کردے۔ اس کی نشاندہی کئی الفاظ کی مدد سے کی جاسکتی ہے، لیکن الیکسا کے لیے ایک ایک جملے کو سمجھنا ضروری نہیں ہے۔ اس کے لیے بڑے سائز کے سیمپلز میں صرف انکار کے چند الفاظ کو سمجھنا ضروری ہے۔

امیزان کے مصنوعی ذہانت کے ماہرین الیکسا کو بہتر طریقے سے سننے کے علاوہ اسے بہتر طریقے سے بات کرنا بھی سکھا رہے ہیں۔ استعمال میں اضافہ کرنے کے لیے مشین کی مصنوعی زنانہ آواز کی اونچ نیچ کو بہتر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ماضی میں انسانی گفتگو کے کئی ٹکڑوں کو جوڑ کر سپیچ کی تشکیل کی جاتی تھی۔ اس سے مناسب حد تک قدرتی آواز تو پیدا ہوجاتی تھی، لیکن آواز کی اونچ نیچ ممکن نہیں تھی۔ الیکسا کی مختلف قسم کے مکالموں کی سمجھ بوجھ بہتر بنانے کے لیے امیزان کے مشین لرننگ کے الگارتھمز پیشہ ورانہ نیراٹرز کی آواز سے تربیت حاصل کرسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں امیزان کو آڈیوبک پبلشر آڈیبل کے ملکیت سے بہت فائدہ ہوگا۔

بہت ساری باتیں کرنی ہیں

آواز استعمال کرنے والی مصنوعی ذہانت سب سے زيادہ ان افراد میں مقبول ہوئی ہے جو اپنے فون یا ٹیبلیٹس پر آسانی سے ٹائپنگ کرنے سے قاصر ہیں۔ فلاڈیلفیا میں معذور افراد کو رہائش اور دیگر سہولیات فراہم کرنے والی کمپنی انگلس (Inglis) کے چیف ایگزیکٹو گیون کیر (Gavin Kerr) نے آٹھ گھروں میں امیزان ایکو اور ڈاٹ کی ڈیوائسز نصب کی ہیں۔ وہ امید کرتے ہیں کہ پائلٹ ٹیسٹنگ مکمل ہونے کے بعد 300 سے زائد گھروں میں یہ ڈیوائسز لگا دی جائيں گی۔ کیر کہتے ہیں "یہ رہائشیوں کے لیے امید کی کرن ہے۔ اس سے انھیں آرام کے ساتھ ساتھ خودمختاری کا بھی احساس ہوگا۔"

کیر کئی جسمانی طور پر معذور افراد کے ساتھ کام کرتے ہیں جن کے لیے گھر کے سوئچز بھی استعمال کرنا مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔ کیر کے مطابق ایسے لوگ اپنے جسم کے درجہ حرارت کو برقرار نہیں رکھ پاتے ہیں، اور ان لوگوں کو بہ آسانی گھر کے تھرموسٹاٹ کو ایڈجسٹ کرنے کی سہولت فراہم کرنا بہت ضروری ہے تاکہ انھیں بار بار اٹھنے کی ضرورت نہ پڑے۔

تھوڑی تبدیلی کے بعد الیکسا ان لوگوں کے لیے بھی بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے جن کی بات کرنے کی صلاحیت محدود ہے۔ کیر بتاتے ہیں کہ وہ ایک ایسے شخص کو جانتے ہیں جو الیکسا اس وجہ سے استعمال کرنے سے ہچکچا رہا تھا کیونکہ انھیں خدشہ تھا کہ وہ اس کے کمانڈز بول نہیں پائيں گے۔ کیر نے سافٹ ویئر کو اس طرح ایڈجسٹ کیا کہ وہ اس شخص کے محدود ذخیرہ الفاظ کے مطابق کام کرے۔

انگلس ایکو کے صارفین کو ٹریننگ تو فراہم کرتے ہیں، لیکن جب تک وہ اسے استعمال کرنا شروع نہیں کرتے ہیں، وہ اس کا پوری طرح فائدہ نہیں اٹھاپاتے ہیں۔ ایکو کی پیکیجنگ پر موسیقی پلے کرنے، الارم لگانے یا شاپنگ کی فہرستوں کے لیے کمانڈز درج ہیں۔ اس کے علاوہ صارفین اپنے سمارٹ فونز یا لیپ ٹاپس پر بھی سیٹنگز ایڈجسٹ کرسکتے ہیں اور نئی ایپس تلاش کرسکتے ہیں۔

مائیکروسافٹ کے پراڈکٹ مینیجر ڈیرن آسٹن (Darren Austin ) ایک بلاگ پوسٹ میں لکھتے ہیں کہ الیکسا کی کامیابی کا راز اس کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ آسٹن لکھتے ہیں "صرف سوال کرنے سے پریشانی اور بھلکڑپن کے منفی جذبات کو قابو میں لایا جاسکتا ہے۔" ان کا کہنا ہے کہ صارفین الیکسا کو اپنے مسائل بتاتے ہیں، اور اس سافٹ ویئر میں انھیں ایک دوست نظر آتا ہے۔

ہر ہفتے الیکسا کے جنرل مینیجر روب پلکیانی (Rob Pulciani) الیکسا اور ڈاٹ کے صارفین کی درخواستوں کا تجزيہ کرتے ہیں۔ شروع میں تو موسیقی، خبروں، موسم، ٹریفک اور گیمز کی درخواستيں زیادہ مقبول تھیں، لیکن اب اس رجحان میں بڑی تیزی سے تبدیلی آرہی ہے اور اب لوگ الیکسا سے اپنی زندگیوں میں آرام اور سکون کی درخواستیں کرنے لگے ہیں۔

ان درخواستوں کے جواب میں صارفین کو چڑیوں کی چہکنے کی یا سمندر کی لہروں کے آوازیں سنائی جاتی ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو یہ آوازیں کئی گھنٹوں تک چلائی جاسکتی ہیں۔ پلکیانی کو یہ ایپس الیکسا کے پلاٹ فارم پر پہلی دفعہ 2015ء میں نظر آئيں۔ انھوں نے اس وقت اس پر کچھ خاص توجہ نہیں دی تھی، لیکن اب انھیں احساس ہوگیا کہ یہ کافی مقبول ہو چکی ہیں۔ اس انکشاف کے بعد پلکیانی اور ان کے رفقاء کار نے الیکسا کے اندرونی سسٹم کو اس طرح تبدیل کیا کہ نئی سکلز تلاش کرنے والے ایکو کے صارفین کو یہ آوازیں آسانی سے مل جائيں۔

جاری گفتگو

ریسرچ کے مطابق گوگل، ایپل، مائیکروسافٹ اور امیزان کے مصنوعی ذہانت کے پلاٹ فارمز سب ہی مختلف چیزیں کرسکتے ہیں۔ گوگل اسسٹنٹ سرچ میں زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے، جبکہ ایپل کا سری اور مائیکروسافٹ کا کورٹینا دوسرے کام کرسکتے ہیں۔ الیکسا کی بہترین کارکردگی آن لائن خریداری میں ںظر آتی ہے۔

آواز استعمال کرنے والی مصنوعی ذہانت اس وقت صحیح معنوں میں کامیاب ہوگی جب وہ کئی منٹ تک لوگوں سے گفتگو جاری رکھ سکے گی۔ اس کے لیے انسانوں کا ارادہ بھانپنے کی صلاحیت درکار ہوگی، جو اس وقت موجود نہیں ہے۔ اگر کوئی آپ کو کہے کہ اس نے بہت عرصے سے کوئی کام نہیں کیا ہے، تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر کے لیے یہ اندازہ لگانا اس وقت بہت مشکل ہے۔ اسی طرح موضوع کی اچانک تبدیلیوں کی صورت میں بھی مصنوعی ذہانت کو دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔

مصنوعی ذہانت اور سپیچ کے ریسرچرز کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے امیزان نے دنیا بھر کی بارہ یونیورسٹیوں سے انجنیئرنگ کے طلباء کو بیس منٹ تک گفتگو برقرار رکھنے والے بوٹس بنانے کے لیے مدعو کیا۔ نومبر 2017ء تک سب سے زيادہ پیش رفت کا مظاہرہ کرنے والی یونیورسٹی کو پانچ لاکھ ڈالر انعام دیا جائے گا۔ میں نے ایک دن ان میں سے چھ بوٹس کی ٹیسٹنگ کی۔ شروع میں نے ہر ایک سے آسان سوال پوچھے، پھر آہستہ آہستہ میں بتدریج مشکل سوالات پوچھتا گیا۔ ایک بوٹ نے مجھ سے پوچھا کہ میں نے آخری کونسی فلم دیکھی تھی۔ میں نے "ہڈن فگرز" (Hidden Figures) کہا۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت حیرت ہوئی کہ اخبار کے ریویوز دہرانے کے بجائے، بوٹ نے جواب میں کہا "میرے خیال میں اس فلم میں جو دکھایا گیا تھا، وہ سائنسی اعتبار سے درست نہیں تھا۔" اس فلم کے بارے میں میری رائے مختلف تھی، لیکن یہ جواب سن کر میں مصنوعی ذہانت کے اس پروگرام کی صلاحیت سے کافی متاثر ہوا۔

کسی بھی دوسرے بوٹ نے اتنی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا

میں نے چند روز بعد پرساد سے ان سوشل بوٹس کے بارے میں بات کی، اور وہ کافی پرامید نظر آئے۔ انھوں نے کہا "یہ ایک بہت اہم شعبہ ہے۔ اگر الیکسا کی ذہانت میں اضافہ ہوجائے تو وہ یہ کام کرسکتا ہے۔ لیکن یہ گو یا شطرنج جیسے گیمز سے کہیں زيادہ مشکل ہے۔ ان گیمز میں کئی مختلف قسم کی چالیں ممکن ہیں، لیکن ان کا آخری مقصد ایک ہی ہے۔ گفتگو میں آپ کو یہ نہیں معلوم ہوتا ہے کہ دوسرا شخص آخر کیا کہے گا۔" جب الیکسا یہ سمجھنے میں کامیاب ہوجائے گا تب بات بنے گی۔

تحریر: جارج اینڈرز (George Anders)

Read in English

Authors
Top