Global Editions

مصنوعی ذہانت پر تحقیق کا روائتی انداز

اگر آپ مصنوعی ذہانت کے بارے میں تصور کریں تو فوری طور پر آپ کے ذہن میں روبوٹ کا تصور اجاگر ہوگا۔ اگر آپ مصنوعی ذہانت پر مبنی حقیقی ایپلی کیشن کے بارے میں غور کریں تو فوری طور پر آپکا ذہن بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کی طرف جائیگا اور اگر آپ سے مصنوعی ذہانت کے بارے میں تکنیکی تفصیلات کے بارے میں پوچھا جائے تو مجھے سو فیصد یقین ہے کہ آپ کا جواب ہو گا ’’ ڈیپ لرننگ یا گہری آموزش‘‘۔ جبکہ یہ حقیقت نہیں ہے۔ مصنوعی ذہانت کی جہتیں اور اقسام ہیں۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی مشینیں صرف روبوٹ ہی نہیں ہیں۔ مصنوعی ذہانت سے ہر میدان میں مکمل طور پر استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت بھی چاہے وہ سوشل میڈیا کا میدان ہو یا وئیر ایبل ڈیوائسز جن کی مدد سے فرد کی صحت کو مانیٹر کیا جا سکتا ہے یا روبوٹک آرمز ہوں جن کے ذریعے فالج یا حرکت سے معذور افراد کے لئے حرکت پزیری ممکن ہو سکے یا پھر خودکار روبوٹس کی مدد سے مختلف سیاروں کی مانیٹرنگ ہو، مصنوعی ذہانت ہر میدان میں اپنی افادیت کو منوا رہی ہے، پھر چاہے یہ متذکرہ بالا شعبے ہوں یا پرسنلائزڈ ایجوکیشن، بزرگوں کی معاونت ہو یا جنگلی حیات کا مطالعہ، میڈیکل ریکارڈز محفوظ کرنے یا استعمال کرنے ہوں یا کان کنی مصنوعی ذہانت کے استعمال کی کوئی حد نہیں۔ اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ حقیقی معنوں میں مصنوعی ذہانت کے سکوپ کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اس سپیکٹرم کی صحیح تعریف کرنے سے قاصر رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اگر ایسا ہو گیا تو ہماری ناکامی ہمیں پیچھے دھکیل دے گی۔ ہم معاشرے کی عمومی سوچ کے بارے میں بات کریں تو مصنوعی ذہانت کے زمرے میں یا تو روبوٹ آئیں گے یا پھر بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیاں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم نیکسٹ جنریشن ریسرچ کے لئے تحقیق کاروں کو مصنوعی ذہانت کے استعمال کی جانب راغب کریں تاکہ وہ ان معاملات پر بھی غور اور تحقیق کر سکیں جن کے بارے میں ابھی تک کوئی تحقیقی کام سرانجام نہیں دیا گیا۔ اگرچہ مصنوعی ذہانت کے شعبہ کی کوئی حد نہیں، تحقیقی شعبے میں اس کے استعمال کی بھی بہت گنجائش موجود ہے۔ تاہم مصنوعی ذہانت سے استفادہ کرنے کے لئے ضروری ہےکہ ایسے تجربہ کار تحقیق کار موجود ہوں جو اپنے تجربے اور دستیاب عالمی معلومات کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت کے عمل کو نہ صرف بہتر کریں بلکہ تحقیقی عمل کو اس طرح مربوط کریں کہ ایک شعبہ میں تحقیقی عمل کرنے والے کی معلومات سے دوسرے شعبے میں تحقیق کا کام سرانجام دینے والا بھی مستفید ہو سکے۔ مثال کے طور پر طبی شعبے میں ریسرچ کرنے والے کی تحقیق سے بیالوجی کے شعبے میں کام کرنے والے بھی مستفید ہو سکیں۔ اس تمام صورتحال کے باوجود آج بھی مصنوعی ذہانت کے میدان میں خاصے کارہائے نمایاں سرانجام دئیے جا رہے ہیں تاہم تحقیق کا انداز اب بھی وہی گھسا پٹا یا روایتی ہی ہے۔ ضرورت ہے کہ اب ہمیں تحقیق کا انداز بھی بدل دینا چاہیے اور اس کے لئے مصنوعی ذہانت سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ ایسے تمام افراد جو ملتے جلتے رویوں اور پس منظر کے حامل ہوں اور ایک دوسرے سے ملتے جلتے معاملات پر تحقیق کر رہے ہوں تو انہیں ایک دوسرے کو اپنے تحقیقی عمل سے فائدہ پہنچانا چاہیے۔ یہ تو طے ہے کہ مصنوعی ذہانت کا شعبہ مستقبل میں ایسے کارہائے نمایاں سرانجام دے گا کہ جس کی مثال نہیں مل سکے گی۔

تحریر: اولگا روساکووسکی (Olga Russakovsky)

Read in English

Authors
Top