Global Editions

مصنوعی ذہانت کے اس پروگرام کا جی پی ایس سسٹم بالکل انسانی دماغ کی طرح ہے

ڈیپ مائنڈ کے نیورل نیٹورکس انسانی دماغ میں پائے جانے والے گرڈ سیلز کی نقالی کرکے ہمیں یہ جاننے میں مدد کرتے ہيں کہ ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں۔

ایک ورچول بھول بھلیاں میں نیویگیوٹ کرنے کے لیے تربیت یافتہ مصنوعی ذہانت کے پروگرام میں غیرمتوقع طور پر انسانی دماغ کے نیورل "جی پی ایس سسٹم" کی طرح کی ساخت پیدا ہوگئی ہے، جس کے بعد یہ مصنوعی ذہانت کا پروگرام غیرمعمولی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھول بھلیاں سے نکلنے لگا۔

یہ انکشاف الفابیٹ کی برطانیہ میں واقع عمومی مصنوعی ذہانت پر کام کرنے والی کمپنی ڈیپ مائنڈ نے کیا تھا۔

نیچر نامی جریدے میں شائع ہونے والے اس مطالعے میں بائیولوجی سے متاثر ہونے والے مصنوعی نیورل نیٹورکس کا دماغ کے ان پہلوؤں کے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کی طرف اشارہ کیا گيا ہے، جن کے بارے میں ہمیں اس وقت زيادہ معلومات حاصل نہيں ہے۔ تاہم ہمیں اس معاملے میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ہمارے پاس نہ صرف انسانی دماغ کے کام کے متعلق زیادہ معلومات حاصل نہيں ہے، بلکہ ہم مصنوعی نیورل نیٹورکس کے بارے میں بھی زيادہ کچھ نہيں کہہ سکتے ہيں۔

ڈیپ مائنڈ کے ریسرچرز نے ایک مصنوعی نیورل نیٹورک کو پاتھ انٹیگریشن، یعنی وہ طریقہ کار جس کی مدد سے جانور کسی بھی جگہ میں نقل و حرکت کے متعلق حساب کرتے ہيں، کی نقالی کی تربیت دینے کی ٹھانی۔ ان ریسرچرز نے ایک نیورل نیٹورک کو کسی اصلی بھول بھلیاں سے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرنے والے چوہوں کے اپنائے گئے راستوں کی مثالیں پیش کرکے اسے فیڈبیک لوپ کے ذریعے تربیت فراہم کی۔

اس ٹیم کو معلوم ہوا اس نیورل نیٹورک میں کسی حقیقی دماغ میں پائے جانے والے تکون کی شکل میں ترتیب شدہ "گرڈ سیلز" کی طرح کی کوئی چیز پیدا ہوگئی، جن کی مدد سے کوئی بھی جانور اپنے جائے وقوع کی نشاندہی کرسکتا ہے۔ گرڈ سیلز کی نشاندہی سب سے پہلے 2005ء میں کی گئی تھی، اور ان کا انکشاف کرنے والے سائنسدانوں کو 2014ء میں نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔

ڈیپ مائنڈ کے ریسرچرز نے ری انفورسمنٹ لرننگ کا اضافہ کرکے اس تربیت یافتہ نیٹورک کو نامانوس بھول بھلیوں سے نکلنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں اس نیٹورک کی اس بھول بھلیاں سے باہر نکلنے کی صلاحیت ماضی میں تیار کردہ مصنوعی ذہانت کے نظاموں سے بہت بہتر تھی، اور وہ کسی حقیقی جانور کی طرح آگے بڑھ رہا تھا۔

نیورل نیٹورکس کو کئی کارآمد چیزوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، لیکن اب تک ان کی نیویگیشن کی صلاحیتیں کچھ خاص اچھی نہيں تھیں۔

گرڈ سیلز پر تحقیق کرنے والے جان ہاپکنس یونیورسٹی کے نیوروسائنسدان فرانسیسکو سیولی (Francesco Savelli)، جو نیچر میں شائع ہونے والے ایک ریسرچ پیپر کے بھی مصنف ہیں، کہتے ہیں "اس مطالعے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ڈیپ لرننگ سے نہ صرف ان کاموں کو فائدہ پہنچے گا جن کا تعلق ہماری ادراکی صلاحیتوں سے ہے، بلکہ کسی بھی جگہ میں نیویگیشن جیسے ان کو بھی ہوگا جو اعلی ذہانت پر منحصر ہیں۔"

اس تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ گرڈ سیلز جانوروں کو، جن میں انسان بھی شامل ہیں، اپنے اطراف نیویگیٹ کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہيں۔ اس انکشاف کے آگے چل کر کئی عملی فوائد سامنے آسکتے ہیں، جن میں روبوٹس کو نامانوس عمارتیں میں زیادہ آسانی سے راستہ تلاش کرنے میں معاونت شامل ہے۔

ڈیپ مائنڈ کے ٹیم ممبر انڈریا بنینو (Andrea Banino) کہتے ہيں "ہمارا کام مصنوعی عمومی ذہانت کی تشکیل ہے، اور ہمارے خیال میں نیویگیشن اس کا بہت اہم عنصر ہے۔"

ان کے رفیق کار درشن کمارن (Dharshan Kumaran) بتاتے ہیں کہ اگلا مرحلہ انہیں مزید پیچیدہ صلاحیتیں سکھانے کا ہے۔ وہ کہتے ہيں "ہم ماحول کو مزید پیچیدہ بنانے پر غور کررہے ہیں۔"

ڈیپ مائنڈ نے ماضی میں مشین لرننگ میں کافی حیرت انگیز پیش رفت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے ایسے کئی پروگرام تیار کرلیے ہیں جو بالکل انسانوں کی طرح نہ صرف ویڈیو گیمز کھیل سکتے ہيں، بلکہ شطرنج اور گو جیسے بورڈ گیمز بھی کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہيں۔ یہ تمام کارنامے بڑے، یعنی ڈیپ، مصنوعی نیورل نیٹورکس کی تربیت ہی کی وجہ سے ممکن ہوسکے ہيں۔

ڈيپ مائنڈ کے شریک بانی اور سی ای او ڈيمس حسابس (Demis Hassabis) کے مطابق، مصنوعی ذہانت کے متعلق تحقیق کرنے سے ہم انسانی دماغ کے بارے میں بھی نئی چیزيں سیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے ایک بیان میں بتایا "اگر آپ کو ثبوت چاہیے کہ ہم جس قسم کی ذہانت تخلیق کرنے کی کوشش کررہے، وہ ممکن ہے بھی یا نہيں، تو انسانی دماغ آپ کے سامنے ہیں۔ ہم سمجھتے ہيں کہ ہمیں دو طرفہ فائدہ حاصل کرنا چاہیے۔ مصنوعی ذہانت ریسرچر سے حاصل کردہ نتائج سے فائدہ اٹھا کر نیوروسائنس کے کئی سوالات پر روشنی ڈالی جاسکتی ہے۔"

تاہم یہ بات اب تک واضح نہيں ہے کہ نیورل نیٹورکس کی مدد سے، جو بائیولوجی کی ایک بہت سادہ شکل ہیں، دماغ کی وضاحت کس حد تک کی جاسکتی ہے۔ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو نے اس سلسلے میں چند نیوروسائنسدانوں سے رابطہ کیا، اور انہوں نے ہمیں بتایا کہ کسی نیورل نیٹورک کے متعلق سمجھ بوجھ حاصل کرنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا انسانی دماغ کو سمجھنا۔

تحریر: ول نائٹ (Will Knight)

Read in English

Authors
Top