Global Editions

کیا مصنوعی ذہانت کومِک بُکس کو سمجھ پائے گی۔۔۔۔ ابھی تک کا میابی نہیں ہوئی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہونے والی ترقی کی ایک جہت مصنوعی ذہانت کا استعمال بھی ہے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجیز نے اس وقت دنیا بھر کے لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کر رکھا ہے اور کئی شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے حامل سافٹ وئیرز نے انسانوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بھی بجا دی ہے۔ اس وقت مصنوعی ذہانت جن شعبوں میں استعمال کی جا رہی ہے ان میں چہرے کے ذریعے شناخت، اشیا کی شناخت، شطرنج اور گو کا کھیل شامل ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی شعبے ایسے ہیں جہاں مصنوعی ذہانت خود کو آزمانے کے لئے تیار کر رہی ہے۔ اس صورتحال میں ان شعبوں کا جائزہ لینا دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا جہاں اب بھی مصنوعی ذہانت کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ ان شعبوں میں ایک شعبہ کومک بکس کا ہے۔ یہ ان شعبہ جات میں شامل ہے جہاں آج بھی انسانوں کی اجارہ داری موجود ہے اور مصنوعی ذہانت اس شعبہ میں بھی اپنی کارکردگی کا لوہا منوا سکے گی یا نہیں اس سوال کا جواب ہمیں موہت لئیر (Mohit Lyyer) سے حاصل ہوا جو اپنے چند ساتھیوں کی مدد سے یونیورسٹی آف میری لینڈ کے کالج پارک میں اسی حوالے سے کام کر رہے ہیں یعنی وہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ایسا نیورل نیٹ ورک تیار کر رہے ہیں جوکومک کو سمجھ سکے۔ کومک بکس بچوں کے لئے تیار کی جانیوالی ایسی دلچسپ کہانیاں ہیں جس میں کارٹونز کی مدد سے مزاحیہ کہانیوں کو بیان کی گیا ہو۔ کومک بکس میں ڈائیلاگ باکسز اور رنگوں کے امتزاج سے بھی مناظر کی اس طرح منظر کشی کی جاتی ہے کہ دیکھنے اورپڑھنے والوں کو مکمل آگاہی حاصل ہو جاتی ہے۔ اسی طرح ان کومک بکس میں جانتے بوجھتے چند پہلوؤں پر روشنی نہیں ڈالی جاتی اور انہیں پڑھنے والوں پر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے طور پر نتائج یا اگلے منظر کا تعین کریں۔ اس حوالے سے مصنوعی ذہانت پر مبنی نیورل نیٹ ورک کی تیاری ایک بہت بڑا کام ہے۔ اس حوالے سے موہت لیئر کا کہنا ہے کہ جیسے ہی کریکٹرز صفحات میں کھو جاتے ہیں تو اس صورتحال میں کامک بکس اور بھی دلچسپ ہو جاتی ہیں اور خاص طور پر ان مراحل میں بھی جہاں کریکٹر کچھ نہ بولیں اور مناظر کی مدد سے کریکٹرز کی خاموشی کو الفاظ کے سانچے میں ڈھالنا مقصود ہو تو دلچسپی عروج پر ہوتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے مصنوعی ذہانت کو بروئے کار لانا آسان نہیں۔ موہت لیئر اور ان کے ساتھیوں نے اس حوالے سے کومک بکس پر مبنی ایک بہت بڑا ڈیٹا بیس تیار کیا اور اسے مشین لرننگ کے ذریعے تربیت دی۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے 1930 ءسے 1950 ء تک شائع ہونے والی کومک بکس سے استفادہ حاصل کیا۔ تحقیق کاروں کی اس ٹیم نے چار ہزار سے زائد اعلیٰ میعار کی حامل کومک بکس سے ڈیٹا بیس کے 1.2 ملین پینل تیار کئے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کریکٹرز کی شناخت کرنے کے لئے خصوصی سافٹ وئیر بھی تیار کیے۔ بعدازاں اس حوالے سے تجربہ بھی کیا گیا کہ مشین کس طرح کومک بکس سے سیکھ سکتی ہے۔ تحقیق کاروں نے مشین کو وہ پینل دکھائے جو اس کی ڈیٹا بیس میں فیڈ نہیں تھے اور اس سے کہا کہ وہ اگلے پینل کے بارے پشین گوئی کرے تاہم اس تجربے کے نتائج چونکا دینے والے تھے۔ انسانوں میں ایسی کومک بکس میں موجود پینلز کو دیکھ کر اگلے پینل کے بارے میں درست اندازہ لگانے کی شرح 80 فیصد ہے۔ تاہم مشین اس کارکردگی کی شرح کے قریب ترین بھی نہیں پہنچ سکی۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ مشین ان کومک بکس کو تخلیق کرنے والوں اور ان کو پڑھنے والوں کی طرح ردعمل ظاہر کرنے میں ناکام رہی ہے اور اس کی کئی وجوہات ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ مشین میں انسان کی طرح کامن سینس یعنی عام فہم کا نہ ہونا ہے جو انہیں اگلے کریکٹر یا پینل کے بارے میں اندازہ لگانے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ تاہم اس میدان میں کام جاری رہے گا۔ اس تجربے سے یہ ثابت ہو گیا کہ اس میدان میں ابھی تک انسانوں کی برتری برقرار ہے لیکن یہ برتری کب تک برقرار رہے گی کچھ کہنا مشکل ہے۔

Emerging Technology from the arXiv

Read in English

Authors

*

Top