Global Editions

مصنوعی ذہانت کرونا وائرس کے متعلق معلومات کی تصدیق میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے

mars58 / Getty

ایک ایسے ٹول پر تجربات جاری ہیں جو ریسرچرز کو کرونا وائرس کے متعلق سائنسی مواد سمجھنے اور درست اور غلط معلومات کے درمیان امتیاز کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

یہ اس قدر اہم کیوں ہے؟ سائنسدان کرونا وائرس کے متعلق مواد کی بھرمار سے پریشان ہیں۔ جب سے یہ وائرس دریافت ہوا ہے، مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے، لیکن ان کے شائع کردہ کئی ریسرچ پیپرز کی نظرثانی نہیں کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسدانوں کے لیے کرونا وائرس کو مکمل طور پر سمجھنے اور صحیح اور غلط معلومات کے درمیان امتیاز کرنا بہت مشکل ثابت ہورہا ہے۔

یہ ٹول کس طرح کام کرتا ہے؟ اس ٹول کا نام سائی فیکٹ ہے (SciFact) ہے اور اسے سیٹل میں واقع ایلن انسٹی ٹیوٹ فار آرٹیفیشل انٹیلی جینس (Allen Institute for Artificial Intelligence – AI2) نامی غیرمنافع بخش ادارے نے اسی مقصد کے لیے ڈیزائن کیا ہے۔ اس سسٹم کے سرچ بار میں کوئی بھی سائنسی دعویٰ (مثال کے طور پر: ”بلند فشار خون کے باعث کرونا وائرس کے شکار افراد کی علامات مزید شدت اختیار کرسکتی ہیں “) درج کرنے کے بعد، ایک فیڈ میں متعلقہ ریسرچ پیپرز ظاہر کیے جائيں گے اور صارف کو بتایا جائے گا کہ کن پیپرز میں اس دعوے کی تردید کی گئی ہے اور کن میں تصدیق۔ اس کے علاوہ، ہر پیپر کا خلاصہ بھی پیش کیا جائے گا، جس میں ان جملوں کو اجاگر کیا جائے گا جن کی بنیاد پر اس دعوے کی درستی یا غیردرستی کا تعین کیا گيا تھا۔

یہ سسٹم کس طرح تیار کیا گيا تھا؟ اس سسٹم میں ویری سائی (VeriSci) نامی نیورل نیٹورک سے فائدہ اٹھایا گيا ہے۔ اس کی تربیت کے لیے پہلے وکی پیڈیا سے حاصل کردہ حقائق کی جانچ پڑتال کے لیے قائم کردہ پہلے سے موجود ڈیٹا سیٹ اور بعد میں 1،409 سائسنی دعوں اور 5،183 خلاصوں پر مشتمل نئے سائنسی ڈیٹا سیٹ کا استعمال کیا گیا۔

AI2 کے ریسرچرز نے اس دوسرے ڈیٹا سیٹ کے انتخاب کے لیے 2015ء میں متعارف کردہ سائنسی پیپرز پر مشتمل پبلک ڈیٹابیس سیمینٹک سکولر (Semantic Scholar) سے فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے سیل (Cell)، نیچر (Nature)، اور جاما (JAMA) جیسے نامور جرنلز میں شائع ہونے والے چند پیپرز سے سائٹیشنز (citations) پر مشتمل جملے نکالے، جس کے بعد انوٹیشن (annotations) کی سہولیات فراہم کرنے والے ماہرین نے ان جملوں کو دعوں کی شکل میں پیش کیا۔ اس کے بعد ان ماہرین نے سائٹیشنز کے خلاصوں کا تجزیہ کرکے اپنے تشکیل کردہ دعووں کی تصدیق یا تردید فراہم کرنے والے جملوں کی نشاندہی کی۔

اس ٹول کی کارکردگی کیسی رہی؟ ویری سائی کی کرونا وائرس کے متعلق سائنسی دعووں پر ٹیسٹنگ کے نتیجے میں ریسرچرز کو معلوم ہوا کہ یہ ٹول 36 میں سے 23 دفعہ متعلقہ پیپرز تلاش کرنے اور ان کی درست لیبلنگ کرنے میں کامیاب رہا۔ یہ کارکردگی سو فیصد درست تو نہيں ہے، لیکن یہ حقائق کی جانچ پڑتال کرنے والے دوسرے ڈیٹابیسز کے نتائج سے بہت بہتر ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت پر مشتمل سسٹمز کو مزيد تربیتی ڈیٹا فراہم کیا جائے اور اس کی قدرتی زبان کی سمجھ بوجھ میں اضافے کی کوشش کی جائے تو آگے چل کر وہ سائنسی حقائق کی جانچ پڑتال میں بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہيں۔

یہ ٹول کس قسم کی چیزوں کے لیے نہيں استعمال کیا جاسکتا؟ سائی فیکٹ کا مقصد کرونا وائرس پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کو موجودہ سائنسی مواد کی روشنی میں اپنی تھیوریز یا نئے دعوں کی جانچ پڑتال میں معاونت فراہم کرنا ہے۔ اسے سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں یا سازشی تھیوریز (مثال کے طور پر، کرونا وائرس کے حیاتیاتی ہتھیار ہونے کے متعلق دعوے)، یا لوگوں کی رائے پر مشتمل بیانات (مثال کے طور پر، سماجی دوری کے نفاذ کے متعلق لوگوں کی آراء) کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے نہيں استعمال کیا جاسکتا۔ اس سسٹم پر ابھی تک تجربات جاری ہیں، اور اسی لیے ماہرین کو اس کے نتائج پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے خود بھی خلاصے پڑھنے چاہیے۔ اس کے علاوہ، اس پر کام کرنے والے ریسرچرز کا کہنا ہے کہ سائی فیکٹ دکھائے جانے والے ریسرچ پیپرز کی درستی کی جانچ پڑتال نہيں کرتا، اور اسی لیے اس سسٹم کو استعمال کرنے والے سائنسدان اس پر مکمل طور پر بھروسہ نہيں کرسکتے۔

تحریر: کیرن ہاؤ (Karen Hao)

Read in English

Authors

*

Top