Global Editions

مصنوعی ذہانت ڈاکٹروں کی بہت مدد کر سکتی ہے

ایک مشین ماحولیاتی ڈیٹا ، جینیاتی ڈیٹا اور مریض کی ہسٹری کا مجھ سے بہتر تجزیہ کر سکتی ہے۔

کئی سال قبل، سلیکون ویلی کے سرمایہ کار وینود کھوسلانے ایک اشتعال انگیز آرٹیکل لکھا جس کاعنوان تھا “کیا ہمیں ڈاکٹروں کی ضرورت ہے یا الگورتھم کی”۔ کھوسلا نے دلیل دی کہ ڈاکٹروں کا مصنوعی ذہانت کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ڈاکٹر مریضوں سے منسلک ہوتے ہیں، چند علامات جمع کرتے ہیں، جسم کو چیک کرتے ہیں اور مریض کو نسخے بھیج دیتے ہیں۔ کبھی کبھی (حادثے سے شاید)یہ نسخہ صحیح علاج کی طرف لے جاتا ہے لیکن ڈاکٹر صرف دستیاب معلومات کے ایک حصہ پر کام کر رہے ہوتے ہیں۔انہوں نے لکھا کہ ایک الگورتھم اس سے بہتر علاج کر سکتا ہے۔

میں سان فرانسسکو کے بے ایریا میں بچوں اور نوجوانوں کا ایک ڈاکٹر ہوں جہاں کھوسلا جیسے تاجر اپنی پائلٹ ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کے ساتھ کئی سالوں سے ڈاکٹروں کے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں۔ میں کچھ اتھارٹی سے کہہ سکتا ہوں کہ کھوسلا ایک باہر والےکی آواز ہے جو جانتا ہے کہ وہ کیا جانتا ہے اور جو کچھ ہیلتھ کئیر نہیں ہے۔

جی ہاں،مصنوعی ذہانت بیماریوں کی تشخیص اور علاج میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔ یہ واضح اور جامع انداز میں وسیع پیمانے پرڈیٹا کو متحرک کر کے پیش کرسکتا ہے جس سے ڈاکٹروں کے غلط مشاہدے کم ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر عام طور پر پریشر اورپیچیدگی کی وجہ سے کم اچھے معائنے کرتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بعض ڈاکٹروں کے لئے، جن کا کام انتہائی تشخیص ہوتا ہے ،(مثال کے طور پر ریڈیالوجسٹ یا پیتھالوجسٹ) کے لئے مصنوعی ذہانت ایک مستقل خطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک دہائی پہلے محققین نے ظاہر کیا کہ مصنوعی ذہانت چھاتی کے کینسر کا پتہ لگانے میں ریڈیالوجسٹوں سے اچھی تھی۔

لیکن میرے جیسے بچوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کے لئے جو کہ 1500سے2000مریض دیکھ رہے ہوتے ہیں،مصنوعی ذہانت ایک غنیمت ہے۔ میں لوگوں کے ساتھ منسلک ہونے اور ایک امتیاز پیدا کرنےکے لئے میں طبی سکول گیا۔ آج میں اکثر ڈاکٹر کی بجائے ایک کتاب گھر والے کی طرح لگتا ہوں جو معلومات لیتا ہے اور اسے مریضوں کو واپس دیتا ہے،دوائیاں اور خوراکیں تجویز کرتا ہے اور ٹیسٹ کرانے کا حکم دیتا ہے۔ لیکن مصنوعی ذہانت کمرہ امتحان میں طب کے شعبہ کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔ یہ مجھے اپنے مریضوں کو بہتر جاننے کی اجازت دیتی ہے، یہ بتاتی ہےکہ ایک بیماری کس طرح ان کو متاثر کرتی ہے اور مجھے بہتر نتائج کےلئے ان کو کوچ کرنے کا موقع دیتی ہے۔

فرض کریں کہ مصنوعی ذہانت دمہ کے مرض میں کیا کر سکتی ہے جو کہ بچوں میں سب سے زیادہ عام دائمی بیماری ہے۔ چھ ملین امریکی بچوں کو اس کا سامنا ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے 2013 میں مجموعی طور پر 14 ملین دن بچے سکول نہیں جا سکے۔اس بیماری کے علاج معالجہ پرسالانہ 60 بلین ڈالر لاگت آتی ہے۔

میں تھمب رول کے ذریعہ دمہ کی تشخیص کرتا ہوں جو مجھے وقت کے ساتھ ملا ہے: اگر آپ کو سیٹی کی آواز کے ساتھ سانس آ رہا ہے اور دمہ کی دوائی سے افاقہ ہوا تو آپ کو یہ بیماری لاحق ہے۔ ایک بار جب مرض کی تشخیص ہو جائےتو میں مریض بچوں کے والدین کویاد سےدوا دینے کی تاکید کرتا ہوں۔ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ بیماری کس چیز سے بڑھ رہی ہے۔ کیا بچہ ایسے گھر میں ہے جہاں کوئی دھواں ہوتاہے؟

؟ میں ان کے ریکارڈوں کا بھی جائزہ لیتاہوں کہ انھوں نے ایمرجنسی روم میں کتنے دورے کیے یا ان کے نسخے دوبارہ بھرے گئے۔

لیکن والدین اور مریضوں کے یاد کرنے کے باجود اور الیکٹرانک ریکارڈ کے باوجود ، اس علم میں گراوٹ ہے۔ اس کے لئے کوئی پیش گوئی موجود نہیں ہے۔ایسا نہیں ہے کہ ہمارے پاس اعداد و شمار نہیں ہیں لیکن یہ گندے ہوئے پڑے ہیں۔ ڈاکٹروں کے ان باکس ڈیٹا سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ ڈیٹا مختلف شکلوں میں آتا ہے اور مختلف سمتوںسے آتا ہے: مقصد کی معلومات جیسے لیبارٹری کے نتائج اور اہم تشخیص مریضوں سے فون پر پیغامات یا ای میلز میں آتے ہیں۔ یہ سب الگ الگ ہیں اور ہم ڈاکٹراپنے وقت کا ایک بڑا حصہ اس ڈیٹا کو سمجھنے میں صرف کرتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں اورسٹارٹ اپ کمپنیاں ڈیٹا ڈگری کوکھولنے کے خواہاں ہیںاور وہ براہ راست صارفین سے فون، گھڑی، بلڈ پریشر کف، بلڈ شوگر میٹر سے منسلک ہونا چاہتےہیں ۔ ہم اس ڈیٹا کے ساتھ لڑتے رہتے ہیں اور ڈاکٹر اس چیز سے تھک جاتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت اس چیز کو کیسے ٹھیک کر سکتی ہے؟ تشخیص کے ساتھ شروع کرتے ہیں۔ دمہ کی کلینیکل علامتیں آسان ہیں لیکن بیماری مالیکولر اور سیلولر سطح پر بہت زیادہ پیچیدہ ہے۔ جین، پروٹین، انزائم، اور دمہ کے عوامل انتہائی متنوع ہوتے ہیں۔

اب بہت سے ماہرین اب بھی اسی طرح دمہ کے بارے میں سوچتے ہیں جیسے وہ کینسر کی بیماری کے با رےمیں سوچتے ہیں۔اس بیماری کی علامات ٹیومر کے مقام اورسیل کی خصوصیات کے مطابق مختلف ہوتی ہیں۔امپیرئیل کالج ، لندن میں انسٹی ٹیوٹ برائے دل و جگر کے آئن اڈوک دمہ اور ماحول کے درمیان رابطے کا مطالعہ کرتے ہیں۔

وہ اور ان کی ٹیم دمہ کے مریضوں کے خون، پیشاب، اور پھیپھڑوں کے ٹشو سے حیاتیاتی نمونوں کو جمع کرتےہیں ۔اس تھیوری کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کے علم کے ساتھ مریضوں کو بہترین ادویات دی جا سکتی ہیں۔

مصنوعی ذہانت دمہ کے مرض کوٹھیک کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ بہت سارے مریضوں کے لئے دمہ اس وقت زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے جب ہوا میں آلودگی کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ پچھلے موسم گرما میں ہوا جب شمالی کیلیفورنیا میں آگ لگی۔مصنوعی ذہانت ہمیں ماحولیاتی معلومات دے کر بہتر سدباب کرنے کا بتاتی ہے۔ 2015 میں محققین نے ایک مطالعہ شائع کیا کہ وہ دمہ سے متعلق دلاس کے فورٹ ورتھ ہسپتال میں ایمرجنسی رومز کی تعداد کا اندازہ کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مریضوں کے ریکارڈ کا ڈیٹا نکالااور اس کے ساتھ ساتھ ای پی ای کے سینسرز، گوگل سرچ اور ٹویٹس کے ذریعہ ہوا میں آلودگی کا ڈیٹا لیا۔ انہوں نے ٹویٹس میں سےسانس میں سیٹی کی آواز” یا “دمہ” کی اصطلاحات کا جائزہ لیا۔ گوگل اور ٹویٹر کے ڈیٹا کوصارف کے مقام کے ساتھ منسلک کیا۔

اگر میرے پاس اس قسم کا ڈیٹا ہوتا تو میں کہہ سکتا تھا کہ “الیکسہ، مجھے بتائیں کہ دمہ کے مریضوں میں سے آج مجھے کس کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت ہے۔” میں متاثرہ خاندانوں کی مدد کو پہنچ سکتا تھا۔ اور اگر میرے پاس ایڈاک کی طرح کاکچھ جینیاتی ڈیٹا ہوتا تو میں دمہ کو پہلے تشخیص کرتا اور مریضوں کے خون ٹیسٹ کرنے کا کہتا اور ان کا مالیکولر مارکر سے موازنہ کرتا۔

اس طرح کی وقت بچانے کی ذہانت مجھے مریضوں کے ساتھ مزید وقت خرچ کرنے کے لئے آزاد کرتی۔ ایک مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ دمہ کے مریض بچوں نے تقریبا ًآدھی مرتبہ دوائی لی۔ مصنوعی ذہانت مجھے ذاتی طور پر ان بچوں کے ساتھ بات چیت کرنے میں زیادہ وقت دیتی جس سے میں بہتر نتائج حاصل کر سکتا۔

بہت سے سوالات آگےآتےہیں۔ کیا مریض ہمارے ساتھ مزید ذاتی ڈیٹا شئیر کرنے کے لئے راضی ہیں؟ اگر مصنوعی ذہانت سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کی دیکھ بھال بہتر طریقے سے ہے لیکن آپ یا آپ کے ڈاکٹر مختلف محسوس کرتے ہیں تو کیا انشورنس کمپنی اسے قبول کرے گی؟ اس صورت حال میں کیا ہوگا اگر الگورتھم کوئی چیز چھوڑدیتا ہے یا غلط طور پر لاگو ہوتاہے؟ ڈاکٹر یا مشین بنانے والا ذمہ دار ہو گا ؟
کچھ عرصہ قبل میں نے جرنل آف امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں نے ایک بچے کی طرف سے بنائی گئی ایک رنگا رنگ تصویر دیکھی۔اس تصویر میں اس بچی کا ڈاکٹر اس کا معائنہ کر رہا تھا جبکہ بچی نے اپنی آنکھیں کمپیوٹر پر رکھی تھیں۔ مجھے امید ہے میں بھی جلد ہی اس چھوٹی لڑکی کا علاج اس طرح سے کروں گا۔

تحریر: راہول پاریخ (Rahul Parikh)

Read in English

Authors

*

Top