Global Editions

تھری ڈی ٹیکنالوجی میں مصنوعی ذہانت کا استعمال

ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تھری ڈی اور مصنوعی ذہانت اس وقت دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ اس وقت تقریباً ہر شعبے میں مصنوعی ذہانت کو بروئے کار لانے کے لئے کام جاری ہے اور اب تحقیق کاروں نے تھری ڈی کے شعبے میں بھی مصنوعی ذہانت سے استفادہ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کام کرنے والے تحقیق کار دو جہتی میدان کی جگہ تھری ڈی میں مصنوعی ذہانت کی مدد لیں گے۔ تحقیق کاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ بجائے اس کے کہ وہ ایسا نظام وضع کریں جو تھری ڈی کی بنیاد منظر کشی کر سکے کیوں نہ وہ مصنوعی ذہانت کو اس شعبے میں براہ راست متعارف کروا دیں۔

اس طریقہ کار کو اپنانے سے روبوٹکس اور بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کے شعبے میں نمایاں بریک تھرو حاصل ہو گا اور اس طرح مشینوں کو زیادہ موثر انداز میں کام کرنے کی صلاحیت حاصل ہو گی۔ ایم آئی ٹی کے شعبے Brain and Cognitive Sciences کے پروفیسر جوش ٹینن بام (Josh Tenenbaum) جو اس نظریے کے خالق بھی ہیں کا کہنا ہے کہ یہ لرننگ بیسڈ ویژن سسٹم کے لئے ایک بہترین اور پرجوش ٹرینڈ ہے اور اس کی مدد سے صرف اشیا کو تھری ڈی کے تناظر میں نہیں دیکھا جائے گا بلکہ ان ٹھوس اجسام کا گہرائی میں تجزیہ کرتے ہوئے اس کے پیٹرن کے بارے میں تمام تر جزئیات حاصل کی جائیں گی چاہے وہ کوئی جانور ہو میز ہو یا کرسی۔ پروفیسر جوش نے اس مقصد کے لئے مشین لرننگ کی تکنیک کو استعمال کیا جس کے ذریعے معاندانہ ماڈلنگ کو تخلیق کیا جاتا ہے اس کمپیوٹر کو تھری ڈی کی خصوصیات کو جاننے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت نئے آبجیکٹس تخلیق کئے جا سکتے ہیں جو تکنیکی اور فزیکلی باکل درست ہوں۔ تحقیق کاروں کی ٹیم نے اپنی اس کاوش کے نتائج چند روز قبل بارسلونا سپین میں ہونے والی نیورل انفارمیشن پراسیسنگ سسٹم کانفرنس میں پیش کئے ہیں۔ اس حوالے سے پروفیسر جوش کا مزید کہنا ہے کہ یہ وہ واحد تکنیک ہے جس کی مدد سے مادی دنیا کا احاطہ کیا جا سکتا ہے۔ کاگنیٹیو سائنس میں ہونے والی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ انسان سہہ جہتی اجسام کو خاص تناظر میں دیکھنے اور اس کے بعد کارروائی کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اس کی مثال اس طرح دی جا سکتی ہے کہ فطری طور پر یہ تاثر ہے کہ میز کرسی سے زیادہ بھاری ہوتی ہے یا کرسی پر بیٹھے ہوئے پیچھے کی جانب زیادہ جھکنے سے گر سکتے ہیں یہ وہ ادراک ہے جس کی بنا پر انسان معاملات کو خاص تناظر میں دیکھتا ہے اور پھر کوئی قدم اٹھاتاہے۔ NIPS میں بھی کئی تحقیق کار سہ جہتی شعبے کو مزید آسان بنانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ جس کے تحت سادہ اور آسان خیالات کو اس طرح ڈویلپ اور ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے جس کی مدد سے اسے حقیقی دنیا میں درست انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر مائیکرو سافٹ میں ایک گروپ نے کمپیوٹر گیم مائن کرافٹ کے اندر تجرباتی طور پر مشین لرننگ سسٹم کے طور پر تیار کیا ہے۔ پروفیسر جوش کا ماننا ہے کہ حقیقی دنیا میں پیش آنے والے عوامل ہی مصنوعی ذہانت کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کا سبب بنتے ہیں۔

Read in English

Authors
Top