Global Editions

مجھے مستقبل کا ڈیسک ٹاپ کچھ خاص پسند نہیں آیا

ممکن ہے کہ آپ کو آگے چل کر آگمینٹڈ رئیلٹی سے اپنا کام بہتر طور پر کرنے میں مدد ملے، لیکن فی الحال ایسا لگتا ہے کہ اس میں بہتری کی بہت گنجائش ہے۔

پچھلے چند دنوں سے میں اپنے دفتر میں آگمینٹڈ ریئلٹی کی ایک نئی دنیا تخلیق کرنے کی کوشش کررہی ہوں۔ میں ایک خاص ہیڈسیٹ پہن کر اپنے لیپ ٹاپ پر کام کرتے ہوئے کئی ورچول اشیاء لگا چکی ہوں۔ اس ورچول دنیا کے ایک کونے میں لکڑیاں جل رہی ہیں، اور دوسرے کونے میں میں اپنا روزمرہ کا کام کررہی ہوں۔

یہ سب سیلیکون ویلی میں میٹا (‏Meta) نامی سٹارٹ اپ کمپنی کے میٹا 2 (Meta 2) ہیڈسیٹ کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ اس ہیڈسیٹ کی قیمت 1495 ڈالر ہے، اور اس کا شمار ان گنی چنی ڈیوائسز میں ہوتا ہے جو آگمینٹڈ رئیلٹی کو عوام میں متعارف کرنے کی کوششیں کررہی ہیں۔ میٹا کے بانی میرون گریبٹز (Meron Gribetz) ہیں، جنھیں 2016ء میں ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کے 35 Innovators Under 35 کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ میٹا 2 بنیادی طور پر ڈیولپرز کے لیے بنایا گیا تھا، جس کا مطلب ہے کہ اس کے لیے ایک نہایت طاقتور کمپیوٹر کی ضرورت ہے، لیکن مائیکروسافٹ کے ہولولینس کے مقابلے میں اس کی قیمت بہت کم ہے، اس کا ویو کا دائرہ کار زیادہ وسیع ہے، اور یہ حقیقی ماحول میں اعلی معیار کی تھری ڈی کی تصاویر پیدا کرسکتا ہے۔

حقیقی دنیا میں ڈیجٹل عناصر شامل کرنا سننے میں تو بہت اچھا لگتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اصلی دنیا کو مکمل طور پر ڈیجٹل آگمینٹڈ رئیلٹی میں تبدیل کرنے میں بہت وقت لگے گا۔

میں جاننا چاہتی تھی کہ میں اپنی روزمرہ کے کاموں میں آگمینٹڈ رئیلٹی کو کس طرح استعمال کرسکتی ہوں، اور میں نے اس کے لیے میٹا کے ورک سپیس کی ڈیمو ایپ کا انتخاب کیا۔ میں نے اپنے دماغ میں جو نقشہ کھینچا ہوا تھا، اس میں میں نے ایک آگمینٹڈ رئیلٹی کی ایک الگ دنیا میں صرف ہاتھ کے اشاروں سے ویب براؤزر کی کئی ونڈوز کھول کر اپنے چاروں طرف رکھی ہوئی تھی، اور میں نے سوچا تھا کہ میں لیپ ٹاپ پر کام کرتے کرتے ان ونڈوز میں دوسرے کام بھی کرتی رہوں گی۔

سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ یہ ایپ بہت دفعہ ہینگ ہوئی۔ کئی بار ایسا ہوا کہ ورک سپیش کا کوئی آبجیکٹ جس کے ساتھ میں انٹریکٹ کررہی تھی، میرے کئی بار اور کئی مختلف طریقوں سے سر گھمانے کے باوجود بھی میرے سامنے ہی رہتا۔ میں نے ہیڈسیٹ کو دوبارہ کیلیبریٹ کرنے کی کوشش کی، ایپ کوری سٹارٹ کرنے کی کوشش کی، روشنی تبدیل کرنے کی کوشش کی، حتی کہ میں نے اپنی جگہ بھی بدلنے کی کوشش کی (بلکہ میں نے کئی مختلف میزیں بدلیں)، لیکن مسئلہ جوں کا توں رہا۔ میٹا کے ٹیک سپورٹ سے بات کرنے کے بعد مجھے SDK کا نیا ورژن فراہم کردیا گیا، جس سے مسئلہ کچھ حد تک تو بہتر ہوا، لیکن مکمل طور پر حل نہیں ہوا۔

جب یہ صحیح سے کام کرتا، اس وقت تک تو تصویروں کی کوالٹی بہت اچھی رہی۔ ورک سپیس کے ایپلی کیشن لانچر میں تھری ڈی کے ایپ کے آئیکنز کو ایک کے اوپر ایک ترتیب دیا گیا ہے، اور آپ کو انھیں کھولنے کے لیے صرف باہر کی طرف کھینچنے کی ضرورت ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ براؤزر کی ونڈو کھول کر ویڈیو دیکھنے کے بعد صرف سر گھما کر کوئی دوسرا کام شروع کرنے میں بہت مزہ آتا ہے۔

میٹا نے ورچول عناصر کے ساتھ انٹریکشن کو بہت آسان اور مزیدار بنانے کی کوشش کی ہے۔ کس چیز کے لیے ہاتھ کا کونسا اشارہ استعمال کرنا ہے، آپ کو بڑی جلدی سمجھ آجائے گا۔ مثال کے طور پر کسی چیز کو پکڑنے کے لیے بس اپنی ہتھیلی اس کی طرف کردیں، اور جب آپ کو دائرہ نظر آئے تو اس چیز کو اپنی مرضی سے ادھر ادھر لے جا کر چھوڑ دیں۔ ایپلیکیشنز کھولنے کے لیے بھی اسی قسم کے اشارے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

تاہم آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس قسم کے انٹریکشنز کی وجہ سے مجھے بڑی جلدی تھکن محسوس ہونے لگی (مجھے یہ مسئلہ مائیکروسافٹ کے ہولولینس اے آر ہیڈسیٹ کے "ائیرٹیپ" کے اشارے میں بھی نظر آیا تھا)۔ اکثروبیشتر چیزوں کو کلک کرنے کے لیے وائرلیس ماؤس اور کی بورڈ کا استعمال زیادہ آسان ثابت ہورہا تھا۔

اس کے علاوہ ہیڈسیٹ کے وزن کی وجہ سے اسے زیادہ دیر تک پہننے کے بعد میرے سر میں درد شروع ہوگیا۔ اسے تھوڑی دیر تک اور مخصوص کاموں کے لیے تو پہنا جاسکتا ہے، لیکن اسے پورا دن پہننا ناممکن ہے۔

ایک اور چیز جس سے مجھے کافی الجھن ہوئی وہ یہ تھی کہ کسی اے آر آبجیکٹ کے بجائے حقیقی دنیا میں کسی چیز کو دیکھتے وقت مجھے اسے صاف طور پر دیکھنے کے لیے اپنی نظریں ہیڈسیٹ کے نیچے لے جانے کی ضرورت پیش آتی۔ اس کی وجہ سے میرے لیے ایک کام سے دوسرے کام پر تبدیل کرنا بہت مشکل ثابت ہورہا تھا۔ مجھے یہ بات سمجھ نہیں آرہی ہے کہ وائزر کو مکمل طور پر ری ڈیزائن کیے بغیر اس مسئلے کا حل کس طرح ممکن ہے۔

میں نے اپنے آپ کو دلاسہ دینے کی بہت کوشش کی کہ یہ سافٹ ویئر اس وقت صرف ڈیمو کے مرحلے میں ہے، اور ہیڈسیٹ پوری طرح تیار نہیں ہے۔ لیکن اس سے کچھ خاص فرق نہیں پڑا۔

میں آگمینٹڈ رئیلٹی کی ایک ایسی دنیا دیکھنا چاہتی ہوں جو سمارٹ فون تک محدود نہ ہو۔ ڈیڑھ سال پہلے گربیٹز نے مجھے بتایا تھا کہ اگلے پانچ سالوں کے اندر اندر آگمینٹڈ رئیلٹی کے ہیڈسیٹ صرف آنکھوں کے اوپر لگائی جانے والی ایک کانچ کی پٹی کی شکل اختیار کرلیں گے، اور میں ان کا یہ خواب پورا ہوتا ہوا دیکھنا چاہتی ہوں۔

میں اس وقت یقین سے تو کچھ نہیں کہہ سکتی، لیکن مجھے لگ رہا ہے کہ یہ وقت جلد ہی سامنے آنے والا ہے۔ اب صرف یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس خواب کو حقیقت کی شکل میں تبدیل کرنے والا سافٹ وئیر کب تک تیار ہوتا ہے۔

تحریر: ریچل میٹز (Rachel Metz)

Read in English

Authors
Top