Global Editions

اصل میں، اسٹیو منیوچن، روبوٹ امریکی لیبر مارکیٹ کو پہلے ہی متاثر کرچکے ہیں

یہ کہنا کہ مشینوں کی وجہ سے ملازمت میں کمی میں ابھی بھی 50 سال باقی ہے، مضحکہ خیر ہے - اور اسے ثابت کرنے کے لئے آخرکار ڈیٹا مل ہی گیا ہے۔

حال ہی میں شائع ہونے والے لیبر مارکیٹ پر روبوٹ کے اثرات کے تجزیے کے مطابق یہ رائے بالکل غلط ہے کہ مشینوں کی وجہ سے امریکی ملازمتوں پر کسی بھی قسم کا نقصان نہیں ہورہا ہے ۔

ٹریژری کے سیکریٹری اسٹیو منیوچن (Steve Mnuchin) کے مطابق مشینیں متعارف کروانے کی وجہ سے امریکی مزدور اپنی نوکریوں سے فارغ نہیں ہونے والے ہیں۔ پچھلے ہفتے ایکسیوس (Axios) سے خطاب کرنے کے دوران انہوں نے بتایا کہ یہ صورت حال "ہمارے ریڈار اسکرین پر بھی نہیں ہے"، اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ یہ اثرات "50 سے 100 سال" دور ہیں۔

منوچین، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ بات سچ نہیں ہے: یہ اثر کئی سال سے نظر آرہا ہے۔ لیکن اب تک ملک بھر کے گوداموں اور کارخانوں میں روبوٹس کی آمد کی وجہ سے کتنی ملازمتیں متاثر ہوئی ہیں، اس کی اعداد و شمار کے متعلق بہت کم ثبوت موجود تھا۔ اب نیشنل بیورو آف ایکونومک ریسرچ کی طرف سے شا‏ئع ہونے والے نئے ورکنگ پیپر میں لیبر مارکیٹ پر روبوٹ کے اثرات کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ اس میں مشینیں متعارف کروانے کی وجہ سے بے روزگاری اور اجرتوں پر اثرات کے متعلق ٹھوس اعداد و شمار موجود ہیں۔

اس تحقیق میں ایم آئی ٹی کے ڈیرن ایسموگلو (Daron Acemoglu) اور بوسٹن یونیورسٹی کے پیسکویل ریسٹریپو (Pascual Restrepo) نے 1990 اور 2007 کے درمیان صنعتی روبوٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال کے اثرات کا مطالعہ کیا تھا۔ اس دوران، ایسموگلو اور ریسٹریپو کو معلوم ہوا کہ روبوٹس کی آمد کی وجہ سے مقامی امریکی لیبر مارکیٹوں میں 670،000 تک ملازمتیں ختم ہوگئی تھیں، اور سب سے زیادہ متاثر ہونے والی صنعت تخلیق کاری تھی۔

گلوبلائزیشن اور ڈیموگرافی کے اثرات شامل کرنے کے بعد تجزیے نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ مجموعی طور پر ایک ہزار ملازمین کی جگہ ایک اضافی روبوٹ متعارف کروانے سے 5.6 ملازمین کی کمی دیکھی گئی، جب کہ اجرتوں میں 0.5 فیصد کمی واقع ہوئی تھی۔ بڑے شہروں کے باہر کچھ مخصوص علاقہ جات میں یہ اعداد اور بھی زیادہ تھے۔

لیکن شاید سب سے اہم بات اس کے مستقبل میں ہونے والے اثرات ہيں۔ جیسا کہ ایسموگلو اور ریسٹریپو اپنے پیپر میں بتاتے ہیں، ابھی امریکی معیشت میں روبوٹس کی تعداد نسبتا کم ہے۔ ان کے محدود نتائج کو درستگی کے ساتھ زيادہ بڑے پیمانے پر اخذ کرنا مشکل ہے، لیکن جیسے جیسے روبوٹ کے استعمال میں اضافہ ہوتا جائے گا، ملازمت اور اجرتوں پر اثرات زیادہ سنگین ہوتے جائیں گے۔

جیسا کہ ایسموگلو نے ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کو اس سال کی ابتداء میں بتایا تھا، سیاسی لیڈران اس مسئلے سے نپٹنے کے لئے "بالکل بھی تیار نہیں ہیں"، اور یہ بات منوچین کے بیانات سے بہت صاف واضح ہے۔

تحریر: جیمی کونڈلیف (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors
Top