Global Editions

بٹ کوائن کے شہر ارنہم، نیدرلینڈز، میں ایک ویک اینڈ

کیا 48 گھنٹوں تک بٹ کوائن کے علاوہ کسی بھی کرنسی کا استعمال نہ کرنا ممکن ہے؟

نیدرلینڈز کے شہر ارنہم کے ہوٹل موڈیز کے کمرے میں میرے برابر رکھے آئی پیڈ کی سکرین پر Bitstamp.net نامی بٹ کوائن ایکسچینج کھلی ہوئی ہے۔
لمحہ بہ لمحہ اس کرپٹو کرنسی کی قیمت گرتی جارہی ہے۔ ناشتے کے وقت ایک بٹ کوائن کی قیمت 400 ڈالر تھی لیکن یہ پچھلے آدھے گھنٹے سے گر ہی رہی تھی اور اب یہ 383 ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ میرا دماغ گھوم رہا ہے۔

جب اس کی قیمت مزید 10 ڈالر کم ہوئی تو میں نے مزید نقصان اٹھانا مناسب نہیں سمجھا۔ میں مایوس ہو کر اپنی بل کی ادائیگی کے لیے استقبالیہ پہنچ گیا۔ مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ مجھے جو شرح زرمبادلہ ملی تھی، وہ اس دن کی کم ترین شرح کے قریب تھی اور مجھے لگنے لگا کہ میرے ساتھ بہت بڑا دھوکا ہوگیا ہے۔

بٹ کوائن کے بیشتر استعمال کرنے والوں اور ان کئی ارب افراد کے لیے جنھوں نے اس کا نام بھی نہیں سنا، یہ اونچ نیچ شاید اتنی اہم نہ ہو لیکن یہ میرے لیے ایک تلخ حقیقت تھی، کیونکہ میں بٹ کوائن استعمال کرکے ہوٹل کا ایک کمرہ لے چکا تھا، جس کی قیمت مجھے یورو میں بتائی گئی تھی۔ میں انتظار کرتا رہا لیکن شرح زر مبادلہ نے میرا ساتھ نہیں دیا اور میرا بل بڑھتا چلا گیا۔

کرپٹو کرنسیوں کی تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں، جہاں قواعد و ضوابط کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں ہے اور مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ عام ہے، یہی کچھ صورتحال ہے۔ بٹ کوائن کو ٹریک کرنا بہت مشکل ہے، جس کی وجہ سے یہ جرائم پیشہ افراد میں کافی مقبول ہوگیا ہے لیکن اسے استعمال کرنے والی یا استعمال کا ارادہ رکھنے والی کمپنیوں کی فہرست میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ان کمپنیوں میں اوورسٹاک اور نیو ایگ کے علاوہ ٹریول ویب سائٹ ایکسپیڈیا شامل ہیں۔ بٹ کوائن کرپٹو گرافی اور بلاک چین نامی پبلک لیجر سسٹم پر انحصار کرتی ہے اور اسے گھر خریدنے کے علاوہ خلاء کے سفر کی ادائیگی کے لیے بھی استعمال کیا جا چکا ہے۔

بٹ کوائن استعمال کرنے والوں یا استعمال کے خواہش مند افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور حمایتیوں کے مطابق اس کرنسی کی وجہ سے ادائیگیوں کے ٹرانزیکشن کے اخراجات میں کمی کے ساتھ ساتھ ان کے تحفظ میں اضافے کا امکان ہے لیکن اگر بٹ کوائن نے قائم رہنا ہے تو اسے کیش اور کریڈٹ کارڈز کی طرح قابل قبول اور قابل استعمال ہونا پڑے گا۔ دکان داروں کو اسے قبول کرنے کی ٹھوس وجہ فراہم کرنی ہوگی اور صارفین کو اس بات پر قائل کرنا ہوگا کہ یہ روایتی طریقہ کاروں سے زیادہ پیچیدہ نہیں ہے۔ کیا بٹ کوائن کے لیے یہ ممکن ہوگا؟

یہ جاننے کے لیے میں ارنہم آیا تھا، جہاں دنیا بھر میں بٹ کوائن قبول کرنے والے مرچنٹس کی سب سے زیادہ تعداد موجود ہے۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ کیا ایک صحافی پورا ویک اینڈ صرف بٹ کوائن ہی پر گزارا کرسکتا ہے؟ اور نہ صرف گزارہ کرسکتا ہے بلکہ کیا اس میں تھوڑی سیروتفریح بھی ممکن ہے؟
دریائے رہائن کے کنارے واقع اس شہر میں، جس کی آبادی ڈیڑھ لاکھ ہے، بٹ کوائن کی مقبولیت میں 36 سالہ پیٹرک وین ڈر میجڈے (Patrick van der ­Meijde) کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ وین ڈر میجڈے نے بٹ کوائن کا نام چند سال پہلے سنا تھا۔ انھیں یہ کافی دلچسپ لگا، اور انھوں نے روایتی بینکنگ کے نظام کو چیلنج کرنے کے لیے اسے خریدنے کی ٹھانی۔ اس کے بعد انھیں یہ احساس ہونے لگا کہ اس کا اصل فائدہ اسی صورت میں ہوگا اگر وہ اسے خریدوفروخت کے لیے استعمال کرسکيں گے۔ لہٰذا انھوں نے دو پارٹنرز کے ساتھ مل کر ایک ایسا ادائیگی کا نظام قائم کیا جس کے ذریعے مقامی وینڈر اپنے فون،
لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹ یا دیگر کسی ایسے آلے پر بٹ کوائن قبول کر کے یورو میں رقم وصول کرسکتے ہیں۔ وین ڈر میجڈے 45 کاروباروں کو بٹ کوائن قبول کرنے پر آمادہ کرچکے ہیں، جس میں ایک ہوٹل اور بڑی گروسری سٹور شامل ہیں۔

مرحلہ 1: ٹکٹ کی خریداری

مجھے بٹ کوائن، اور اس کی تخلیق، تکنیکیات اور تنازعات کے بارے میں علم تو تھا لیکن میرے پاس کرنسی نہیں تھی۔ لہٰذا ارنہم جانے سے آٹھ روز قبل میں نے اپنے کریڈٹ کارڈ سے بٹ کوائن خریدنے کے لیے بوسٹن میں واقع سرکل (Circle) نامی سٹارٹ اپ کمپنی میں ایک اکاؤنٹ کھولا۔

اس کے بعد میں نے بٹ کوائن کے ذریعے پروازوں کی بکنگ کرنے والی کمپنی چیپ ایئر ڈاٹ کام (CheapAir.com) سے میونخ سے ایمسٹرڈیم تک کے ایل ایم کی فلائٹ کی ٹکٹ خریدی۔ ادائیگی کے صفحے پر میں نے اپنی رقم بھیجنے کے لیے 25 سے 34 کریکٹر پر مشتمل بٹ کوائن کا پتہ دریافت کیا۔ اس کے بعد میں نے دوبارہ سرکل میں لاگ اِن کرکے ٹکٹ کے لیے بٹ کوائن خریدنے کی کوشش کی لیکن میری ٹرانزیکشن مسترد ہوگئی۔ مجھے اپنے بینک کال کرکے اس ٹرانزیکشن کی تصدیق کرنی پڑی اور اس کے بعد میں نے دوبارہ کوشش کی۔ اس بار میں نے سرکل کی ہفتہ وار 500 ڈالر کریڈٹ کارڈ کی حد میں رہتے ہوئے 450 ڈالر کے بٹ کوائنز خریدے۔ ٹرانزیکشن فوراً منظور ہوگئی۔

میں بڑے جوش و جذبے سے سرکل کے ادائیگی کے صفحے پر گیا اور چیپ ایئر کا بٹ کوائن ایڈریس ڈالنے کے بعد ٹکٹ کے لیے 450 ڈالر درج کیے۔ چیپ ایئرکی ویب سائٹ نے مجھے فوراً ہی بتادیا کہ میں نے غلط اماؤنٹ درج کی ہے۔ پہلے تو مجھے سمجھ نہیں آیا لیکن سکرین شاٹ چیک کرنے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ مجھ سے بنیادی قسم کی غلطی ہوگئی تھی۔ چیپ ایئر کی ٹکٹ کے دام ڈالر کے علاوہ بٹ کوائن میں بھی لکھے ہوئے تھے اور میں نے سرکل کی رقم بھی ڈالر ہی میں درج کی تھی۔ مجھے لگا کہ یہ اسی طرح سے ہوگا لیکن ایسا نہیں تھا۔ نجانے کیا وجہ تھی لیکن میری بھیجی گئی رقم 1.60 ڈالر کم تھی۔ میں نے فون گھمانا شروع کردیا۔ سرکل میں کام کرنے والے چارلی کو سمجھ نہیں آیا اور اس نے مجھے تمام مراحل دہرانے کا مشورہ دیا۔ چیپ ایئر میں کام کرنے والی جیما کو یقین تھا کہ مسئلہ حل ہوجائے گا لیکن اس نے کہا کہ صرف کمپنی کے سی ای او ہی بٹ کوائن سے متعلقہ معاملات دیکھتے ہیں۔ اس نے مجھے سی ای او جیف کلی (Jeff Klee) کا انتظار کرنے کو کہا۔

مجھے ایک گھنٹے بعد ای میل میں اپنی پرواز کی تصدیق موصول ہو گئی۔ میں نے جیما کو کال کرکے بقایا رقم کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا کہ مجھے ٹکٹ دینا ہی سب سے کم جھنجھٹ کا کام تھا۔ زورمرہ کی خریداری کے لیے بٹ کوائن کا استعمال کریڈٹ کارڈ سے زیادہ مشکل ثابت ہورہا تھا۔

مرحلہ دو: دھچکا

میں نے اپنے دماغ میں ایمسٹرڈيم سے ایک گھنٹے کی دوری پر واقع ارنہم کا کافی ہائی ٹیک قسم کا نقشہ کھینچا ہوا تھا لیکن جب میں وہاں پہنچا تو یہ دیکھنے میں کسی بھی عام یورپی شہر کی ہی طرح تھا۔ مجھے چند گرجا گھر، بازار اور اکا دکا قدیم ڈچ ونڈ مل نظر آئے۔ میں نے ہوٹل موڈیز میں چیک اِن کرلیا، جہاں مجھے بتایا گیا کہ میں بٹ کوائن سے ادائیگی کرنے والے پہلا شخص ہوں۔ اس کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی یہی بات کہی۔ سائیکل نیشن (CycleNation) نامی سائیکل کی دکان کے ایک ملازم نے میری تصویر لے کر ٹوئیٹر پر بھی ڈال دی۔ اس کے بعد میں وین ڈر میجڈے سے ملنے سٹاؤٹ (Stout) نامی ایک بار چلا گیا۔

بل ادا کرنے کے وقت، بارٹینڈر نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ بٹ کوائن سے بل ادا کرنا چاہیں گے؟ دوسروں کی طرح وہ بھی وین ڈر میجڈے کو اچھی طرح پہنچانتا تھا۔ اس شہر میں وین ڈر میجڈے کو ہر کوئی ‘‘بٹ کوائن والے شخص’’ کے نام سے جانتا ہے۔

ہم نے بڑی آسانی سے پیسے دے دیے: بارٹینڈر نے اپنے فون پر ایک کیو آر کوڈ دکھایا، جسے وین ڈر میجڈے نے اپنے فون سے مائی سیلیم (Mycelium) نامی بٹ کوائن کے والٹ ایپ سے سکین کیا، اور رقم فوراً ادا ہوگئی۔ اس کے بعد میں نے اسی طرح اپنے ڈرنکس کے پیسے دینے کے لیے وین ڈر میجڈے کو بٹ کوائن ٹرانسفر کیے۔

ہمارے پاس کھڑے ایک نوجوان لڑکے کو کافی تجسس ہونے لگا۔ وین ڈر میجڈے نے اسے بٹ کوائن والٹ ڈاؤن لوڈ کرنے میں مدد کی اور اسے پانچ یورو کے بٹ کوائنز بھی ٹرانفسر کیے۔ اس کا دوست حیران پریشان یہ سب دیکھ رہا تھا۔ جب اسے معلوم ہوا کہ کیفے ٹی ہوئیس (Café 't Huys) پر بھی بٹ کوائن استعمال ہوتا ہے تو وہ اپنا فون تھامے وہاں سے نکل گیا۔

مرحلہ تین: مکمل ڈچ کرپٹو

اگلے دو دن تک، وین ڈر میجڈے کی ویب سائٹ پر موجود نقشے کی مدد سے میں نے بٹ کوائن کے علاوہ کچھ بھی خرچ نہیں کیا، جس میں مجھے ایپل پے کے ابتدائی صارفین کے مقابلے میں کم مشکلات کا سامنا ہوا۔ رات کے کھانے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ کریڈٹ کارڈ کی طرح بٹ کوائن میں بھی ویٹروں کو ٹپس دینے کے لیے رجسٹر سے پیسے دیے جاتے ہیں۔ مو لون (Mo Lón) نامی ریستوران میں ميں نے ایک سینڈوچ خریدنے کے بعد دیوار پر ایک بڑی ایل سی ڈی اسکرین پر لوڈ کیے جانے والے کیو آر کوڈ کو سکین کیا۔ میں نے می منٹ (Mimint) نامی ارگانیک کھانوں کی دکان سے چاکلیٹ اور ٹوتھ پیسٹ خریدا۔

مجھے صرف چند ہی جگہوں پر مشکلات کا سامنا ہوا۔ ایک گفٹ شاپ پر مجھے کچھ دیر انتظار کرنا پڑا کیونکہ مالک کے علاوہ کسی کو بٹ کوائن استعمال نہیں کرنا آتا تھا۔ ایک اور دکان پر وائی فائی کام نہیں کررہا تھا۔ صرف ایک چھوٹے سے ریستوران نے بٹ کوائن لینے سے منع کردیا، جہاں کام کرنے والی خاتون نے اس کا نام تک نہیں سنا تھا۔ ایک ٹیبل پر صارفین کے انتظار میں بیٹھا ہوا باورچی مجھ سے کہنے لگا، ‘‘میں نے بٹ کوائن کا نام سنا تو ضرور ہے لیکن میرے خیال میں ہمارے پاس کام نہیں کرتا ہے۔ شاید پہلے مالک استعمال کیا کرتے تھے۔’’ (جب میں نے دونوں کو ریستوران کی کھڑکی پر ماسٹر کارڈ اور ویزا کے ساتھ لگے بٹ کوائن کا سٹیکر دکھایا، تو انھیں بڑی حیرت ہوئی۔)

ایک روز وین ڈر میجڈے کے کہنے پر میں بن بتائے فور ڈیجٹس (Four Digits) نامی ویب سٹارٹ اپ کمپنی اور کو ورکنگ سپیس پہنچ گیا، جہاں ہفتے میں ایک بار درجن کے قریب ٹیکنالوجی سے وابستہ افراد جمع ہوتے ہیں۔ جہاں کرپٹوکرنسیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے والے لوگ موجود تھے، وہیں پر اس میں دلچسپی لینے والے بھی تھے۔ ان میں سے دو افراد وین ڈر میجڈے کی ڈيزائن کردہ پوائنٹ آف سیل ایپلی کیشن کو فریب دینے کی طریقوں پر مباحثہ کرنے لگے۔ وہ کھانے کے بل کی ادائیگی کرنے والے شخص کو بھی بٹ کوائن سے پیسے دے رہے تھے۔

جب میں نے کھانے کا خرچہ پوچھا تو جواب ملا ‘‘صرف آدھا ہی بٹ کوائن’’۔

مرحلہ چار: خلاصہ

مجھے مزہ تو آیا لیکن بعض دفعہ یہ ویک اینڈ بھاری بھی پڑا۔ میں کچھ سیروتفریح کے مقام نہیں دیکھ پایا۔ ہوگ ویلو نیشنل پارک (Hoge Veluwe National Park) اور اس کے عجائب گھر میں، جہاں وین گو، روڈن اور ڈوبوفیٹ کا آرٹ ورک رکھا ہوا ہے، بٹ کوائن نہیں چلتا ہے۔

بٹ کوائن کی معاونت رکھنے والے سیروتفریح کے گنے چنے مقامات دیکھنے کے بعد میں نے اپنے آخری چند گھنٹے بارش میں دریا کنارے پارک میں بیٹھ کر گزارے۔ مجھے عجائب گھر، یا بولنگ ایلی یا سنیما گھر بڑے یاد آرہے تھے۔

بٹ کوائن استعمال کرنا بہت آسان تھا اور ہوٹل کی ادائیگی کے علاوہ، زیادہ مہنگا بھی ثابت نہیں ہوا لیکن اس کا استعمال محدود تھا۔
اس کے علاوہ ایک بہت ضروری کام تھا جو میں نہیں کرسکتا تھا - میں ارنہم سے باہر نہیں نکل سکتا تھا۔ بٹ کوائن استعمال کرتے ہوئے ارنہم سے ایئرپورٹ جانے کے لیے کرائے کی گاڑی یا ٹیکسی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا، جس میں میرے کئی سو یورو لگ جانے تھے۔ اس کے برعکس ٹرین کا ٹکٹ صرف 17.10 یورو تھا لیکن اس کی بٹ کوائن کے ذریعے ادائیگی ممکن نہیں تھی۔ کوئی بٹ کوائن کا کتنا ہی بڑا شیدائی کیوں نہ ہو، اتنی زیادہ رقم دینے کو تیار نہیں ہوگا۔

مجھے یہ بات پہلے سے معلوم تھی، اس لیے میں اپنے ساتھ صرف 18 یورو لایا تھا۔ ڈچ ریل وے کی ٹکٹ مشین میں یورو کے سکے ڈالتے ڈالتے مجھے لگ رہا تھا جیسے میں کسی کے ساتھ غداری کررہا ہوں۔ جب ریل وے بٹ کوائن قبول کرنے لگے گا، اس وقت کرپٹو کرنسیاں صحیح معنوں میں کامیاب ہوں گی۔

تحریر: رس جسکیلیئن (Russ Juskalian)

Read in English

Authors
Top