Global Editions

مصنوعی ذہانت نے پیچیدہ کمپیوٹرگیم میں انسانوں کو شکست دے دی

مصنوعی ذہانت کے الگورتھم کی ایک ٹیم نے ایک پیچیدہ کمپیوٹر گیم میں انسانوں کو مات دے دی۔ اشتراکیت اور ٹیم ورک کے حامل الگورتھم انسانی ٹیموں کو ہرا سکتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے پانچ مختلف الگورتھمز نےایک معروف کمپیوٹر گیم ڈوٹا ٹو(Dota 2 ) میں انسانوں کو ہرایا ہے۔ کیلی فورنیا میں واقع ایک غیر منافع بخش تنظیم اوپن اے آئی (Open AI) کے محققین نے الگورتھمک اے ٹیم تیار کی، جسے وہ اوپن اے آئی فائیو کہتے ہیں۔گیم کھیلنے کے لئے ہر الگورتھم نہ صرف ایک نیوٹرل نیٹ ورک استعمال کرتا ہے بلکہ اپنی مصنوعی ذہانت کے ٹیم ممبران کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔ اوپن اے آئی کاکہنا ہے کہ اس نےڈوٹا ٹو کے کھلاڑیوں کو ٹیسٹ میں شکست دینا شروع کر دی ہے۔

یہ مصنوعی ذہانت کے لئے ایک اہم اور ناول سمت ہے کیونکہ الگورتھم عام طور پر آزادانہ طور پر کام کرتا ہے۔ الگورتھم کی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی اپروچ ٹیکنالوجی کے تجارتی استعمال کے لئے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز آن لائن ٹریڈنگ یا بڈنگ میں مخالفین کو چت کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔شراکت دار الگورتھم انسانوں کے ساتھ بھی تعاون کرسکتے ہیں۔

اوپن اے آئی نے ماضی میں ایک الگورتھم کی نمائش کی ہے جو کہ انسانوں کوکمپیوٹر گیم سنگل پلئیر ڈوٹا ٹو میں مقابلہ کرنے کے قابل ہیں۔ اس کاتازہ ترین کام اسی طرح کے الگورتھم استعمال کرتے ہوئے انفرادی اور ٹیم دونوں کی کامیابی کی ویلیو کرنا ہے۔ الگورتھمزگیم کے علاوہ براہ راست رابطہ نہیں کرتے۔

اوپن اے آئی کے بانیوں میں سے ایک گریگ بروکمین Greg Brockman مصنوعی ذہانت کو کھل کر تیار کر رہے ہیں اور اس طریقے سے کر رہے ہیں کہ انسانیت کو فائدہ ہو۔ گریگ بروکمین کہتے ہیں ، "جو ہم نے دیکھا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ رابطہ اور اشتراکیت بالکل قدرتی طور پر اس عمل سے نکلتے ہیں۔ " انہوں نے مزید کہا کہ ٹیم نے کسی الگورتھم کے لئے ایک انسانی کھلاڑی کو متبادل کے طور پر کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے اور اسے بہت اچھا کام کرنے والا پایا ہے۔

بروکمن کا کہنا ہے ، "اس نے(الگورتھم کی جگہ پر کھڑے کھلاڑی ) نے اپنے آپ کو بہت اچھی طرح معاونت یافتہ بیان کیا ہے۔"

ڈوٹا ٹو ایک پیچیدہ حکمت عملی کا کھیل ہے جس میں پانچ کھلاڑیوں کی ٹیم کا ایک وسیع زمین پر کنٹرول حاصل کرنے کا مقابلہ ہوتا ہے۔ کھلاڑیوں کو مختلف قوتیں، کمزوریاں اور کردار دیے گئے ہوتے ہیں اور کھیل میں اجتماعی اشیاء اور منصوبے سے حملے کرنے کے ساتھ ساتھ حقیقی وقت کی لڑائی میں ملوث ہونا شامل ہوتا ہے۔

اوپن اے آئی مصنوعی ذہانت کے پروگراموں کاکمپیوٹر گیمز کے خلاف مقابلہ ترقی کی پیمائش کا ایک ذریعہ بن گیا ہے۔الفابٹ(Alphabet) کے ذیلی ادارے ڈیپ مائنڈ (Deep Mind) نے ایک مشہور پروگرام تیار کیا تھا جو کہ بدنام پیچیدہ بورڈ گیم گو (Go) کو عظیم انسانی مہارتوں کے ساتھ کھیل سکتا تھا۔ ایک متعلقہ پروگرام نے اپنے آپ کو ماسٹر گو گیم شروع سے سکھائی اور پھر شطرنج کو صرف اپنے خلاف کھیل کر خو د کوسکھایا۔

ڈاٹ 2 کے لئے ضروری حکمت عملی شطرنج یا گو کے مقابلے میں زیادہ واضح ہے، لیکن گیم کو سیکھنا مشکل ہے۔ یہ بھی ایک مشین کے لئے چیلنج ہے کیونکہ یہ ہمیشہ ممکن نہیں ہے کہ آپ کو اپنے مخالفین بارے پتا ہو اور ٹیم ورک کی ضرورت ہو۔

اوپن اے آئی فا ئیو گیم کے مختلف ورژن اپنے خلاف کھیل کر سیکھتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، پروگراموں نے انسانوں کی طرح حکمت عملی تیار کی جیسے گیم کے اندر لین یا کردار بدلنا۔

مصنوعی ذہانت کےماہرین کا کہنا ہے کہ کامیابی اہم ہے۔ پٹس برگ میں کارنیجی میلن یونیورسٹی (Carnegie Mellon Univeersity in Pittsburg)کے ایک محقق نوم براؤن(Noam Brown) کا کہنا ہے کہ "ڈوٹا ایک انتہائی پیچیدہ گیم ہے، لہذا مضبوط ایمیٹورز کو شکست دینا بھی متاثر کن ہے۔" "خاص طور پر، ڈوٹا ٹو میں خفیہ معلومات سے نمٹنا ایک اہم چیلنج ہے۔"

براؤن نے پہلے ہی ایک الگورتھم پر کام کیا تھا جو پوکر کھیلنے کے قابل تھا، ایک دوسری گیم بھی تیار کی جس میں عظیم انسانی مہارتیں استعمال ہوتی تھیں۔ براون کہتے ہیں اگر اوپن ای آئی فائیو کی ٹیم انسانوں کو مسلسل شکست دے سکتی ہے تو یہ مصنوعی ذہانت میں ایک اہم کامیابی ہو گی۔ تاہم، انہوں نے نوٹ کیا کہ کافی عرصہ گزرنے کے بعدانسان مصنوعی ذہانت کی ٹیم کے کھیلنے کے انداز میں خامیاں ڈھونڈ سکتے ہیں۔

براؤن کا کہنا ہے کہ دیگر گیمز مصنوعی ذہانت کو مزید آگے لے جا سکتی ہیں۔ "اگلا بڑا چیلنج گیمز میں کمیونیکشن کو شامل کرنا ہے جیسے ڈپلومیسی جہاں تعاون اور مقابلہ کے درمیان توازن کامیابی کے لئے بہت اہم ہے۔"

تحریر: ول نائٹ(Will Knight)

Read in English

Authors
Top