Global Editions

737 میکس کے دوسرے حادثے کے بعد ہوائی جہازوں کی آٹومیشن کے متعلق سوالات اٹھائے جارہے ہیں

جیسے جیسے سسٹمز مزید پیچیدہ ہوتے جارہے ہیں، ضابطہ کار حکام، ایئرلائنز اور بوئینگ کو پائلٹس کو فراہم کی جانے والی معلومات کی مقدار کے متعلق فیصلہ کرنا ہوگا۔

آپ کی یہ تحریر پڑھنے کے دوران، دس لاکھ سے زيادہ افراد ہوائی جہاز کا سفر کررہے ہیں۔ وہ جن جہازوں میں بیٹھے ہيں، ان میں سے ایک تہائی کے قریب بوئینگ 737 جہاز ہیں، جو اب تک کا مقبول ترین جیٹ لائنر ہے۔ 20 ارب سے زيادہ مسافرین ہوائی جہاز کے اس ماڈل پر اپنی منزلوں تک صحیح سلامت پہنچے ہیں۔ لیکن اب دو حادثات کے بعد 737 کا حالیہ ترین ماڈل، 737 میکس، تنقید کا نشانہ بن رہا ہے۔

اتوار کو ایتھیوپین ایئرلائنز کی پرواز نمبر 302 ایڈس ابابا ہوائی اڈے سے ٹیک آف کرنے کے چند منٹ بعد ہی حادثے کا شکار ہوگئی، اور جہاز پر سوار تمام 157 افراد جاںبحق ہوگئے۔ یہ پچھلے پانچ مہینوں میں دوسرا حادثہ تھا۔ اکتوبر میں انڈونیشیاء میں لائن ایئر کی پرواز نمبر 610 پر سوار 189 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بوئینگ اور امریکی حکومت اصرار کررہے ہيں کہ یہ ماڈل بالکل محفوظ ہے، لیکن دنیا بھر کی ایئرلائنز اور ضابطہ کار حکام نے اس جہاز کی اڑان پر پابندی عائد کردی ہے۔

737 میکس کی مختصر تاریخ کے بعد یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا بوئینگ نے اثراندازی کی دوڑ میں غلطیاں کیں؟ اس کے علاوہ امریکہ کے فیڈرل ایویشن ایڈمنسٹریشن اور دیگر ضابطہ کار حکام کو بھی پائلٹس کو ہوائی جہاز کی تبدیلیوں کے مطابق مطلع کرنے کے عمل کی نگرانی کے سلسلے میں جواب دینا ہوگا۔

کیا دونوں حادثات ایک ہی وجہ سے پیش آئے تھے؟ اس وقت یہ بات یقین سے نہيں کہی جاسکتی۔ انڈونیشین ہوائی تحفظ پر تحقیق کرنے والی ایک ایجنسی کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق، لائن ایئر 610 کے حادثے کی وجہ ایک ناقص سینسر تھا، جس کے مطابق ہوائی جہاز میں رکاوٹ پیش آرہی تھی۔ اس اطلاع کے غلط ہونے کے باوجود، ہوائی جہاز میں ایک خودکار سسٹم آن ہوگیا، جس نے جہاز کو بحفاظت اڑنے کے لیے کافی رفتار کی فراہمی کے لیے اس کے اگلے حصے کا رخ نیچے کی طرف کرنے کی کوشش کی۔ پائلٹس نے اس خودکار سسٹم کو نظرانداز کرکے جہاز کا رخ اوپر کرنے کی بہت کوشش کی، لیکن وہ ناکام ثابت ہوئے۔

737 میکس کے انجنز 737 کے مقابلے میں زیادہ بڑے ہیں، جس کی وجہ سے سابقہ ماڈلز سے ایندھن کا 14 فیصد بہتر استعمال ممکن ہے۔ ایئر کرنٹ نامی اشاعت کے مطابق، ان نئے انجنز کی شکل اور پوزیشن کی وجہ سے ہوائی جہاز کی پرواز متاثر ہوتی ہے، اور بعض دفعہ جہاز کا اگلا حصہ اوپر کی طرف اٹھ جاتا ہے، جس سے مداخلت پیدا ہوتی ہے۔ 737 میکس میں جو سسٹم متعارف کیا گيا تھا، اس کا مقصد اس رجحان کا مقابلہ کرنا تھا۔

کیا ان زيادہ موثر انجنز اور ان کی وجہ سے ہوائی جہاز کے آٹومیشن کے سسٹمز میں متعارف کی جانے والی تبدیلیاں ہوائی جہازوں کو زيادہ خطرناک بنارہی ہیں؟ ماہر سماجیات چارلز پیرو اپنی 1984ء میں شائع ہونے والی کتاب Normal Accidents میں لکھتے ہيں کہ بعض دفعہ ہوائی جہازوں کے تحفظ کے لیے متعارف کی جانے والی ٹیکنالوجیز توقعات کے مطابق کام کرنے کے باوجود بھی تحفظ فراہم کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔ ان کے مطابق، اس قسم کی انوویشنز تحفظ میں اضافہ کرنے کے بجائے، ایئرلائنز کو کارکردگی میں اضافہ کرنے کے چکر میں زيادہ خطرات مول لینے پر اکساتی ہیں۔

بوئینگ میں اعلٰی عہدے پر فائز ایک افسر نے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا کہ ان کی کمپنی نے کاک پٹ کے عملے کو زيادہ تفصیلات نہ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ انہيں ڈر تھا کہ پائلٹس کو ان کی سمجھنے کی صلاحیت اور ضرورت سے زيادہ معلومات اور تکنیکی ڈيٹا فراہم کرنا ان کے مفاد میں نہيں ہے۔

لیکن ایسے حفاظتی سسٹم کا کیا فائدہ جو اس قدر پیچیدہ ہو کہ تربیت یافتہ پیشہ ور ایئرلائن پائلٹس ہی اسے نہ سمجھ سکیں؟ پیرو بتاتے ہیں کہ ہر نئی خودکار ڈیوائس سے کچھ مسئلے تو حل ہوتے ہیں لیکن ساتھ ہی نئے مسئلے بھی متعارف ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق ایک بہت زيادہ پیچیدہ سسٹم بنانے سے ضابطہ کار حکام کے لیے یہ یاد رکھنا بہت مشکل ہوگا کہ انہوں نے کس کو کیا بتایا ہے، اور کچھ پائلٹس الجھن میں پڑ جائيں گے۔ وہ کہتے ہيں کہ اس قسم کی صورتحال میں پائلٹس کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق “پائلٹ کی غلطی” کا بہانہ بنانا بہت آسان ہے، لیکن ان حادثات کی اصل وجہ سسٹم کی پیچیدگی ہے۔

لائن ایئر کے حادثے کے بعد جب یہ بات سامنے آئی کہ انہيں نئے سسٹمز کے متعلق مکمل معلومات نہيں فراہم کی گئی تھی، 737 میکس چلانے والے پائلٹس بھڑک اٹھے۔ سیٹل ٹائمز کے مطابق ایک امریکن ایئرلائنس پائلٹ نے کہا “میں تقریباً ایک سال سے مہینے میں دو بار میکس 8 چلا رہا ہوں۔ اب ایسی کونسی چیز ہے جو مجھے اس کے بارے میں نہيں معلوم؟”

تفتیش کاروں نے پیر کے روز ایتھیوپین ایئرلائنز کے وائس اور ڈيٹا ریکارڈرز، جنہيں مجموعی طور پر بلیک باکس کہا جاتا ہے، حاصل کرلیے تھے، جس سے انہيں حادثے کی وجہ معلوم کرنے میں مدد ملے گی۔ انڈونیشیاء کے حادثے کے بعد ایف اے اے کی ہدایات کے مطابق سینسر کی غلط ریڈنگز کی وجہ سے جہاز کے اگلے حصے کا رخ زمین کی طرف ہونے کی صورت میں جہاز کے خودکار سسٹمز کو غیرفعال کرنے کے نئے طریقہ کار عملدرآمد کردی گئی تھيں۔

ایتھوپیا کے حادثے کے بعد، بوئینگ نے 737 میکس کے تحفظ کی متعلق ایک بیان جاری کیا۔ تاہم اسی بیان میں پرواز کے کنٹرول کے سافٹ ویئر کو غلط سینسر ان پٹس سے بہتر طور پر نبٹنے کی صلاحیت سے آراستہ کرنے والے اپ ڈیٹ کا بھی اعلان کیا گيا۔

تجارتی ایئرلائنرز کے اس تحفظ میں ٹیکنالوجی نہيں بلکہ حکومتی پابندیوں کا کمال ہے۔ ہوائی جہاز مضبوط مواد، یا پیچیدہ کمپیوٹرز کی وجہ سے نہيں بلکہ ضوابط کے ایک بین الاقوامی نظام کی وجہ سے محفوظ ہیں۔

لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ اس سسٹم میں دراڑیں پڑ رہی ہیں۔

ہوائی جہاز کی اڑان میں سیاست کا ہاتھ نہيں ہونا چاہیے۔ اب تک دنیا بھر کی 69 ایئرلائنز نے 737 میکس کے طیارے حاصل کیے ہیں، اور ان تمام جہازوں کے تحفظ میں کسی بھی قسم کا فرق نہيں ہونا چاہیے۔

لیکن حادثے کے ایک روز کے اندر، 23 ایئرلائنز نے اپنے 737 میکس اڑانے سے انکار کردیا۔ ان میں سے کسی بھی ایئرلائن کا تعلق امریکہ سے نہيں ہے۔ بلکہ اڑانے سے انکار کرنے والا پہلا ملک چین تھا۔ اس کے برعکس ایف اے اے نے بین الاقوامی کمیونٹی کو اڑان کی جاری صلاحیت کے متعلق اطلاع جاری کردی، جبکہ بوئینگ کے مطابق اب تک حادثے کی وجہ معلوم نہيں ہوسکی ہے۔

اس واقعے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پوری دنیا میں ٹیکنالوجی کے متعلق اختلاف رائے موجود ہے۔ 2013ء میں جب اس قسم کا واقعہ پیش آیا تھا، پوری دنیا میں اس وقت تک بوئینگ 787 اڑانے پر پابندی عائد کردی گئی تھی جب تک ہوائی جہاز کی بیٹریوں کو درپیش مسائل حل نہيں ہوئے۔ لیکن اب وقت بدل چکا ہے۔ دیکھنے سے تو یوں لگ رہا ہے کہ چین ضرورت سے زيادہ احتیاط سے کام لے رہا ہے اور ایف اے اے کسی قسم کی رائے کا اظہار نہیں کررہا ہے۔ لیکن یہ بھی لگ رہا ہے کہ چین اپنے عالمی حریف کو بدنام کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے جبکہ امریکی حکومت تخلیق کاری کی صنعت میں بڑی تعداد میں روزگار فراہم کرنے والی کمپنی کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہر ممکنہ کوشش کررہا ہے۔

ہر سال ہوائی جہاز میں سفر کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ تفتیش کے نظام کی وجہ سے غلطیوں سے سیکھنا اور انہيں دوبارہ نہ دہرانا ممکن ہوگیا ہے۔

اب تک 737 میکس کے کسی حادثے کی وجوہات کا تعین نہيں ہوسکا ہے۔ تاہم، نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ لائن ایئر 610 کے واقعے کے بعد ایئرلائنز نے سبق نہيں سیکھا۔ امید ہے کہ بوئینگ اور ضابطہ کار حکومت جن تبدیلیوں پر غور کررہے ہيں ان کی وجہ سے جہاز کا رخ نیچے کی طرف کرنے والے خودکار آلے کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔

بہرحال، صورتحال میں کتنی ہی بہتری آجائے، یہ سلسلہ جاری ہی رہے گا۔ پیرو کے مطابق “سسٹم کے حادثات کی بنیادی تعداد کم ہے، لیکن اس میں مزید کمی نہيں آئے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آلات یا تربیت کی ہر ترقی کے بعد سسٹم سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی دوڑ شروع ہوجاتی ہے۔”

تحریر: کونسٹنٹن کاکائیس (Konstantin Kakaes)

Read in English

Authors

*

Top