Global Editions

13لاکھ فراد میں بے خوابی کے جین کی تلاش کا جینیاتی مطالعہ

عام بیماریوں کو سمجھنے کی کوشش غیر معمولی حد تک چلی گئی ہے۔

ایک غیر معمولی سائز کے جینیاتی مطالعہ میں سائنسدانوں نے 1,310,010افراد میں بے خوابی کی موروثی وجوہات کو تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نےنیند کی خرابی کے 956 مختلف جینز کو ڈھونڈا پایا۔وہ اس کی وجوہات اور اس کے نئے طریقہ علاج کے قریب پہنچ گئے۔ایسا لگتا ہے کہ یہ دس لاکھ سے زائد افراد میں یہ سب سے پہلی جین کی تلاش ہے۔

ایڈنبرگ یونیورسٹی میں جینیاتی تحقیق کے ایک ماہر نفسیات سٹوارت رچی کہتے ہیں "یہ حیرت انگیز طور پر بڑے پیمانے پر ہے۔" ٹویٹر پر، سائنسدانوں نےاسم صفت کی مختلف ڈگریاں استعمال کرتے ہوئے لکھا : "مقدس،" "بڑی،" اور "واہ!"

اس منصوبے میں برطانیہ کے بائیوبینک اور صارفین کی ڈی این اے ٹیسٹنگ کمپنی 23andMe سے جمع جینیاتی اور طبی معلومات شامل تھی۔ یہ تحقیق ایمسٹرڈیم میں وریج یونیورسٹی میں جینیات کےاعداد و شمار میں مہارت رکھنے والی نیورو سائنسدان ڈینیل پوٹوتھومما کی قیادت کی گئی تھی۔

اس کو "جینومک ایسوسی ایشن" کہا گیا ہے۔اس قسم کی تحقیق میں لوگوں کابیماری کے ساتھ ڈی این اے اور بغیر کسی بیماری کے ڈی این اے کا موازنہ شامل ہے۔ ایسا کرنے سے پتا چلتا ہے کہ دونوں کےڈی این اے میں فرق کیا ہے۔

مونٹریال ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میں ایک جینیاتی ماہر گیلامی لیٹری( (Guillaume Lettre کا کہنا ہے،" میں ایسے بہت سارے لوگوں کو جانتا ہوں جو دس لاکھ لوگوں پر تحقیق کا ریکارڈ توڑ رہے ہیں۔یہ اب بہت دفعہ ہو گی"۔ گیلامی لیٹری نے اس سے پہلے جینیات میں مطالعہ کا ریکارڈ قائم کرنے میں مدد کی جس میں 700,000 لوگوں کی اونچائی کا مطالعہ کیا گیا۔"مجھے لگتا ہے کہ دو ملین تک رسائی ممکن ہے۔"

صرف ایک دہائی پہلے، سائنسدانوں نے امید ظاہر کی کہ کلیدی جینوں کی نسبت ایک چھوٹی سی جینوں کی فہرست وضاحت کرے گی کہ کس کس کو ذیابیطس ہو سکتاہے۔ لیکن جینوم ایسوسی ایشن کے ابتدائی منصوبے کچھ زیادہ کر دکھانے میں ناکام ہو گئے۔ گیلامی لیٹری کا کہنا ہے،" ہم نے محسوس کیا کہ دریافت کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ سائز کےنمونہ میں اضافہ کیا جائے۔ جو جینز ہم ڈھونڈ رہے ہیں ان کے اثرات کم ہیں۔ "

دس لاکھ افراد کے جین کے نمونے پر تحقیق کا ریکارڈ ٹوٹنا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔

نیند نہ آنے کی شکایت عام ہے، جو 30 فیصد آبادی کو متاثر کرتی ہے۔ بے خوابی کی ایک تعریف یہ ہے کہ آپ کو اٹھنے اور کروٹ بدلنے میں تکلیف ہفتے میں تین دن ہو اور ایسا کئی ماہ ہوتا رہے۔

بے خوابی جزوی طور پر موروثی بیماری ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر آپ کے والدین کو یہ بیمار ی ہے تو آپ کے متاثر ہونے کا امکان کافی ہے۔

آن لائن شائع ہونے والے نتائج کے پیش نظارہ میں محققین نے کہا کہ جینز لوگوں میں بوریت پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں جیسا کہ ڈپریشن اور بے چینی میں ہوتا ہے۔ حالانکہ کچھ بے خوابی کا شکار لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کو چیزوں کو حاصل کرنے کے لئے زیادہ وقت درکار ہے، سائنسدانوں کو یہ پتہ چلا کہ یہ چیز اسکول میں کم ترقی کرنے والے اور چھوٹی زندگی کے دورانیہ سے منسلک ہے۔

وہ سوچتے ہیں کہ ان کی جین کی فہرست میں "علاج کے لئے ناول اہداف" بھی شامل ہوسکتے ہیں، اگرچہ ایک نئی دوا کے لئے راستہ تلاش کرنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ زیادہ تر جینوں پر صرف ایک منفی اثر ہوتا ہے جوبتاتا ہے کہ آیا کہ آپ کو بے خوابی کی بیماری ہے۔

مزید کیا ہے کہ بیماری سے متعلق جین مجموعی طور پر 10 فیصد کم وضاحت کر تی ہے جو کسی شخص کو ہے۔ ڈینیل پوٹوتھوممانے اس نتیجے کوتھوڑا مایوس کن قرار دیا کیونکہ جین کے تلاش کی مزید کافی گنجائش تھی۔اس کا مطلب صرف ایک چیز ہو سکتا ہے۔اس سے بڑی تحقیق آگے ہو سکتی ہے۔

تحریر:انتونیو ریگالیڈو (Antonio Regalado)

Read in English

Authors
Top