Global Editions

لبلبے کے کینسر کا علاج آپ کے جسم میں پہلے سے موجود ہے

سائنس دان ناقابل علاج کینسر کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ایکسو سومز، یعنی خلیوں کے خارج کردہ چھوٹے بلبلے، انجنئیر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

کوڈیک بائيوسائنسز (Codiak Biosciences) نامی کمپنی میں ریسرچرز لبلبے کے کینسر کے علاج کے لیے ایکسو سومز، یعنی آپ کے جسم میں چھوٹی اور قدرتی طور پر موجود تھیلیوں کی تخلیق پر کام کررہے ہیں۔ اگر خلیوں کے خارج کردہ چھوٹے اور قدرتی بلبلوں کو مہلک کینسرز کے علاج کے لیے استعمال کیا جائے تو؟ سائنس دان لبلبے کے کینسر کے لیے اس کا استعمال کرنے کی کوشش کرہے ہیں، جو اب تک لاعلاج ہے۔

ایکسو سومز نامی ان انتہائی باریک تھیلیوں کا انکشاف 30 سال قبل کیا گیا تھا، اور اس وقت انھیں خلیوں کا فضلہ سمجھا جاتا تھا۔ لیکن حالیہ تحقیق نے ثابت کیا ہے یہ تھیلیاں دوسرے خلیوں کو پروٹین، اور آر این اے نامی جینیاتی میسنجر کا ماڈیول پہنچاتی ہیں، اور خلیے ان کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں۔

ایکسوسومز خون اور جسم کے دوسرے سیالوں میں پائے جاتے ہیں اور ہر قسم کے خلیے ایکسوسومز جاری اور موصول کرتے ہیں۔ خلیوں سے باہر نکلنے کے بعد ایکسو سومز موصول ہونے والی ہدایات کے مطابق وصول کنندگان کی تلاش میں پورے جسم می سفر کرتے ہیں۔

ریسرچرز سمجھتے ہیں کہ وہ اس قدرتی مواصلتی نظام سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یونیورسٹی آف ٹیکسس (University of Texas) کے ایم ڈی اینڈرسن کینسر سنٹر (MD Anderson Cancer Center) میں کینسر بائیولوجی کی اسسٹنٹ پروفیسر ویلری لی بلیو (Valerie LeBleu) کینسر سے چھٹکارا پانے کے لیے لبلبے میں ٹیومر کے خلیوں کو ڈھونڈ نکالنے والے مولی کیولز کی نقل و حمل کے لیے ایکسوسومز کی جینیاتی انجنیئرنگ پر کام کررہی ہیں۔

ان کی ٹیم نے انسانی اعضائے تناسل کو ڈھانپنے والی کھال کے خلیوں سے ایکسو سومز حاصل کرکے انھیں اس طرح سے تبدیل کیا کہ ان میں مخصوص جینز کو بند کرنے والے آر آین اے کو شامل کیا جاسکے۔ انھوں نے ایکسو سومز کو اس طرح ڈیزائن کیا ہے کہ وہ KRAS نامی جین پر حملہ کریں، جسے عام طور پر لبلبے کے کینسر کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ KRAS جین کی شکل بگڑنے کے بعد وہ ایک "آن" پوزیشن میں پھنسے ہوئے سوئچ کی طرح کام کرتا ہے جس کی وجہ سے کینسر کے خلیے تقسیم ہوتے رہتے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

ایکسو سومز میں آر این اے ڈالنے کے بعد انھیں لبلبے کے کینسر کے شکار چوہوں میں ٹیکوں کے ذریعے ڈالا گیا۔ ان انجنئیر کردہ ایکسو سومز کو لبلبے کے ان خلیوں نے جذب کرلیا جن میں KRAS کی شکل بگڑی ہوئی تھی۔ کینسر کے خلیوں میں داخلے کے بعد ایکسوسومز چوہوں میں اس جین کو بند کرنے میں کامیاب ثابت ہوئے، جس کی وجہ سے ٹیومر کے اضافے کی روک تھام ہوئی، اور جانوروں کی عمر میں اضافہ ممکن ہوگیا۔

لی بلیو کی ٹیم نے لبلبے کے کینسر کا اس وجہ سے انتخاب کیا کیونکہ اس کا اب تک موثر علاج دستیاب نہیں ہے، اور اس کے بچنے کا امکان بہت کم ہے۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ ایکسوسومز کو دوسرے قسم کے کینسرز کے علاج کے لیے بھی اسی طرح ڈیزائن کیا جاسکتا ہے۔

وہ کہتی ہیں "اس سے علاج کو پرسنلائز کیا جاسکتا ہے۔ کینسر کے ہر مریض اور ان کی بیماری کی پیش رفت کے علاوہ ہر جینومک منظرنامے کے مطابق پرنسلائزڈ علاج کی امید ہے۔"

اس طریقے کے متعلق جون 2017ء میں نیچر (Nature) نامی جریدے میں تفصیلات فراہم کی گئیں تھی، اور اب تک اس کی انسانوں پر جانچ نہیں کی گئی ہے۔ یورپ میں 2000ء کی دہائی میں ایکسوسومز کی مدد سے کینسر کے علاج کے چند ابتدائی مراحل کے کلینیکل ٹرائل منعقد کیے گئے تھے، لیکن یہ زیادہ فائند مند ثابت نہیں ہوسکے۔ ان ایکسوسومز کو جینیاتی طور پر تبدیل نہیں کیا گیا تھا۔

میساچوسیٹس کے شہر کیمبرج میں واقع کوڈیک بائیوسائنسز انجنئیرشدہ ایکسوسومز کی مدد سے کلینیکل ٹرائل شروع کرنے والی پہلی کمپنی بننا چاہتی ہے۔ اس کمپنی نے ایم ڈی اینڈرسن سے ایکسوسوم کی ٹیکنالوجی کا لائسنس حاصل کیا ہے، اور اگلے سال لبلبے کے کینسر کے خلاف کلینکل ٹرائل شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

کوڈیک بائیو سائنسز کے سی ای کو ڈگ ولیمز (Doug Williams) کے مطابق ایکسوسومز جسم کے مختلف حصوں میں ادویات پہنچانے کے لیے نینوذرات کے استعمال سے بہتر ہیں۔ ولیمز کہتے ہیں "اس قدرتی میسیجنگ کے سسٹم کو ہائی جیک کرنے کے بعد، ہم جن ایکسوسومز کو پہنچانا چاہتے ہیں ان کے اندر یا ان کی سطح پر پیغامات نصب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔"

ایم ڈی اینڈرسن کی ٹیم نے اپنے انجنیئر کردہ ذرات کا، جن کا نام "آئی ایکسو سومز" رکھا گیا ہے، مصنوعی مواد کے نینو ذرات سے موازنہ کیا، جس کے بعد انھیں معلوم ہوا کہ ایکسوسومز زیادہ موثر ہیں۔

ویک فوریسٹ بیپٹسٹ میڈیل سنٹر (Wake Forest Baptist Medical Center) میں کینسر کی بائیولوجی کے ریسرچر وی ژہینگ (Wei Zhang) کہتے ہیں کہ آر آین اے سے بھرے ہوئے ایکسوسومز کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ انسانی جسم میں قدرتی طور پر پائے جاتے ہیں، اور وہ زہریلے نہیں ہیں۔ لہذا اگر یہ انجنئیرشدہ ایکسوسومز کامیاب ہوجائيں تو ممکن ہے کہ ان کے کیموتھراپی اور ریڈيشن جیسے روایتی علاج کے مقابلے میں ذیلی اثرات کم ہوں۔

ژہینگ کہتے ہیں کہ کلینکل ٹرائل میں انسانی خوراکوں کے لیے درکار ایکسو سومز کی تعداد سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوگی۔ چوہوں کی ایک خوراک میں ایک ارب سے زیادہ ایکسوسومز استعمال ہوئے تھے۔

تحریر: ایملی ملن (Emily Mullin)

Read in English

Authors
Top