Global Editions

بچوں کے دماغ کا مطالعہ کر کے مصنوعی ذہانت کو آگے بڑھانے کا منصوبہ

ایم آئی ٹی میں کمپیوٹیشنل گانیٹیو سائنس لیب (Computational Cognitive Science) اور ایم آئی ٹی کوئیسٹ فار انیٹلی جینس (MIT Quest for Intelligence) کے ایک نئے مصنوعی ذہانت کے پراجیکٹ کے سربراہ جوش ٹینن باؤم (Josh Tenenbaum) کا کہنا ہے کہ آگے چل کر مصنوعی ذہانت کی اہم انکشافات میں دماغی سائنس اور نیوروسائنس کا بہت بڑا ہاتھ ہوسکتا ہے۔

اس پراجیکٹ میں کمپیوٹر سائنسٹس اور انجنیئرز کے علاوہ نیورسائنسدانوں اور ذماغی ماہرین نفسیات کی مشترکہ کوششوں سے ایسی تحقیق پر کام کیا جارہا ہے جس سے مصنوعی ذہانت میں بنیادی پیش رفت ممکن ہوسکے گی۔ ٹینن باؤم نے ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کی جانب سے منعقد ہونے والی کانفرنس ایم ٹیک میں اس پراجیکٹ کا خاکہ اور مصنوعی ذہانت کو آگے بڑھانے کے متعلق اپنے خیالات پیش کیے۔

وہ کہتے ہيں "یہ سوچیں کہ اگر ہم ایک ایسی مشین بنالیں جو ایک شیرخوار بچے کی طرح ہے اور جسے ایک بچے کی طرح تربیت دی جائے۔ اگر ہم ایسی مشین بنانے میں کامیاب ہوجائيں تو ہم ایسی مصنوعی ذہانت کی بنیاد رکھ سکيں گے جسے صحیح معنوں میں ذہین کہا جاسکتا ہے، جو واقعی تربیت حاصل کرسکتی ہے۔"

پچھلے چند سالوں میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بہت ترقی ہوئی ہے، لیکن اس سب کی بنیاد مشین لرننگ کی گنی چنی اہم دریافتوں، خاص طور پر بڑے، یعنی ڈیپ نیورل نیٹورکس، پر رکھی گئی ہے۔ مثال کے طور پر ڈیپ لرننگ کی مدد سے کمپیوٹرز کو انسانوں جتنی درستی کے ساتھ گفتگو میں الفاظ اور تصویروں میں چہرے پہچاننے کی صلاحیت پیدا ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ، ڈیپ لرننگ کی وجہ سے ڈیپ مائنڈ کے الفا گو جیسے کئی گیمز میں بھی کافی پیش رفت سامنے آئی ہے اور خودکار گاڑیوں اور روبوٹکس کے شعبہ جات میں بھی بہتریاں ممکن ہوئی ہے۔ لیکن ان تمام کوششوں میں کچھ نہ کچھ کمی ہے۔

وہ کہتے ہیں "ان میں سے کوئی بھی سسٹم حقیقی معنوں میں ذہین نہيں ہے۔ کسی میں بھی دو سال کے بچے، بلکہ ایک سال کے بچے جیسی عقل و فہم اور ذہانت نہيں ہے۔ بچوں میں ایسی کونسی چیز ہے جو ان مشینوں میں موجود نہيں ہے؟"

ٹینن باؤم کی تحقیق انسانی ذہانت کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے کے لیے دماغی سائنس پر محیط ہے۔ مثال کے طور پر انہوں نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کس طرح چھوٹے بچے ایک اندرونی ساختہ تھری ڈی ماڈل کی مدد سے دنیا کا خاکہ تیار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے کسی بھی کمپیوٹر یا روبوٹ کے مقابلے میں کوئی انسان دنیا کو بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے۔ وہ کہتے ہيں "بچوں کا کھیل کھیل نہيں ہوتا ہے، وہ ایک قسم کا تجربہ ہوتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس پوری کائنات میں انسان ہی سب سے ذہین ثابت ہوتے ہیں۔"

اس کے علاوہ ٹینن باؤم نے ایسے کمپیوٹر پروگرامز بھی تیار کیے ہیں جو احتمالی تکنیکوں کی مدد سے انسانی دماغ کے چند مشکل پہلوؤں کی نقالی کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر 2015ء میں انہوں نے دوسرے دو ریسرچرز کے ساتھ مل کر صرف چند مثالیں دیکھ کر ہی تصویروں میں ہاتھ سے لکھے حروف اور مخصوص اشیاء پہچاننے کی صلاحیت رکھنے والے کمپیوٹر کے پروگرام تیار کیے تھے۔ یہ اس وجہ سے بہت اہم ہے کیونکہ مشین لرننگ کے پروگرامز کی کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے وافر مقدار میں تربیتی ڈیٹا کی ضرورت پیش آتی ہے۔ پچھلے سال ٹینن باؤم کے لیب سے اس تحقیق سے فائدہ اٹھانے والے خودکار گاڑیاں بنانے والی کمپنی آئی سی (iSee) نمودار ہوئی۔

اس کے علاوہ کوئیسٹ فار انٹیلی جینس، جس کا فروری میں اعلان کیا گيا تھا، مصنوعی ذہانت کے سماجی اثرات پر بھی نظر ڈالنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس سے مراد اس ٹیکنالوجی کی بنیادی خامیوں کے علاوہ الگارتھمک تعاصب اور وضاحت کی قابلیت جیسے مسائل کا احتساب ہے۔

ٹینن کہتے ہيں مصنوعی ذہانت کا خواب، جو 50 سال سے بھی زیادہ پرانا ہے، انسانی ذہانت سے شروع ہونے والا تھا، لیکن اس کی کوئی سائنسی بنیاد نہيں تھی۔ وہ کہتے ہيں "دماغی سائنس اور نیوروسائنس کے شعبہ جات میں بہت ترقی ہوچکی ہے، اور اس سے یہ پراجیکٹ زیادہ خاص ہوجائے گا۔"

تحریر: ول نائٹ (Will Knight)

Read in English

Authors
Top