Global Editions

سٹیم سیل ٹیکنالوجی کے تجربات کا ازسرنو احیاء

سٹیم سیل (خام یا غیر متشکل خلیہ جس سے مخصوص خلیے تشکیل پاتے ہیں) کی مدد سے ایک کمپنی نے ریڑھ کی ہڈی میں موجود حرام مغز کے زخمی ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والی معذوری معمولی حد تک ختم کرنے میں کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔ اگرچہ یہ کامیابی فی الحال بہت معمولی یا ابتدائی نوعیت کی ہے تاہم اس کامیابی سے یہ امکان پیدا ہو گیا ہے کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی میں بہتری لانے اور تجربات کا سلسلہ جاری رکھنے سے حوصلہ افزا نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ امریکی ریاست کیلیفورنیا میں قائم ایک کمپنی Asterias Biotherapeutics نے اس طریقہ علاج کو اپنایا ہے اور ان کی جانب سے جاری کئے جانے والے اعدادوشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ حرام مغز کے زخمی ہونے سے متاثر ہونے والی پانچ افراد پر اس ٹیکنالوجی کے تجربات کے نتیجے میں ان افراد میں ہلکی سی حرکت اور احساسات پیدا ہوئے ہیں، یعنی ان افراد کو اگر سوئی چبھوئی جائے تو ان کو ہلکی سی چبھن محسوس ہو گی جو اس امر کا اشارہ ہے کہ ان افراد میں محسوس کرنے کی صلاحیت معمولی حد تک بیدار ہوئی ہے۔ اس کمپنی کی جانب سے اپنائی گئی ٹیکنالوجی قابل ذکر ہے تاہم یہ ٹیکنالوجی نئی نہیں۔ آج سے بیس برس قبل سٹیم سیل ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی اور اس ٹیکنالوجی کو تیار کرنے کے لئے بہت تجربات کئے گئے، تاہم خاطر خواہ کامیابی نہ ملنے پر سٹیم سیل ٹیکنالوجی پر مزید تجربات روک دئیے گئے تاہم اب Asterias Biotherapeutics نے ازسرنو سٹیم سیل ٹیکنالوجی کو استعمال کیا اور ان پانچ افراد کے نروس سسٹم کے خلیوں میں سٹیم سیل انجیکٹ کئے۔ یہ خلیے انسانی جنین سے حاصل کئے جاتے ہیں اور پھر انہیں مختلف ٹشوز میں داخل کیا جاتا ہے جہاں وہ پرورش پا کر مکمل خلیے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اس حوالے سے کمپنی کی چیف سائنٹفک آفیسر جین لیبکوسکی (Jane Lebkowski) کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سپورٹ سیلز کو ریڑھ کی ہڈی کے متاثرہ حصوں میں داخل کرنے سے نظام عصبی کو پہنچنے والے نقصان کے اثرات کو محدود کیا جا سکتا ہے تاہم نئی nerves تیار نہیں کی جا سکتیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ سٹم سیل جسم میں موجود nerves کو غیرفعال یا مرنے سے روکنے میں مدد دیتے ہیں اور ہم زیر تجربہ پانچ افراد میں اس کے اثرات دیکھ رہے ہیں کہ ان پانچوں افراد میں بہتری آئی ہے۔

تحریر: کیتھرائن بورزیک (Katherine Bourzac)

Read in English

Authors
Top