Global Editions

نسلی تسلسل کا ایک نیا طریقہ کار

سائنسدان لیباریٹری میں انڈے اور مادہ منویہ بنانے کی کوشش کررہے ہيں۔ اس کے نسلی تسلسل پر کیا اثرات ہوں گے؟

 ہم اسے بی ڈی کہتے ہيں کیونکہ اس کی بیوی نے بانجھ پن کے متعلق اپنے بلاگ Shooting Blanks میں بھی اسے یہی نام دیا ہے۔ کئی سال پہلے، 36 سالہ بی ڈی کو معلوم ہوا کہ اس کا جسم مادہ منویہ بنانے کی صلاحیت نہيں رکھتا۔

ایک حالیہ فون کے انٹرویو کے دوران مجھے پیچھے اس کی بیوی کی آواز آرہی تھی۔ اس کی عمر 35 سال ہے، اور وہ اس  ”خوفناک حقیقت“ کا سامنا کر رہی ہے کہ اس کے کبھی بچے نہيں ہوں گے۔ وہ اپنے بلاگ پر لکھتی ہیں ”یہ میرا مقدر نہيں ہوسکتا، بالکل بھی نہيں ہوسکتا ہے۔“

کئی سالوں تک گولیاں، وٹامنز، یہاں تک کہ ایک بڑی سرجری کے باوجود بی ڈی کا بانجھ پن لاعلاج ثابت ہوا ہے۔ تاہم، امید کی ایک کرن ابھی بھی باقی ہے۔  2012ء میں بی ڈی سٹین فورڈ یونیورسٹی گئے، جہاں ایک ٹیکنشین نے ان کی جلد پر عمل کیا اور ان کے کندھے سے ٹشو کی ایک ڈسک نکالی۔ ”ری پروگرامنگ“ نامی ایک نئی تکنیک کے ذریعے ان کی جلد کے خلیوں کو سٹیم خلیوں میں تبدیل کیا گیا، جو بڑے ہو کر مختلف انسانی خلیوں کی شکل اپنانے کی صلاحیت رکھتے ہيں۔ اس کے بعد ان خلیوں کو ایک چوہے کے خصیوں میں ٹرانسپلانٹ کیا گیا۔ دیکھنا یہ تھا کہ کیا یہ سٹیم خلیے اپنے ماحول کے مطابق مادہ منویہ پیدا کرسکتے تھے؟ دو سال بعد جب سائنسدانوں نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے یہ بتایا کہ انہيں بنیادی قسم کے انسانی تولیدی خلیوں کا ثبوت ملا ہے، تو تہلکہ مچ گيا۔

بی ڈی کہتے ہیں ”میں نے این آر پی پر یہ خبر سنی، اور مجھے لگا کہ میرے ہی بارے میں بات ہورہی ہے۔“

یہ تجربہ بالغ افراد سے حاصل کردہ عام خلیوں کو مکمل طور پر فعال گیمیٹس (gametes)، یعنی مادہ منویہ یا انڈے کو خلیوں میں تبدیل کرنے کی ایک کوشش تھی۔ اب تک کوئی بھی ایسا کرنے میں کامیاب نہيں رہا ہے، لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ یہ کام جلد ہی کرلیں گے۔ اگر وہ لیباریٹری میں انڈے اور مادہ منویہ کی ٹیکنالوجی تیار کرنے میں کامیاب ہوجائيں تو بہت سارے لوگوں کے لیے بانجھ پن کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ تاہم، دوسری طرف ایک لیباریٹری میں زندگی کی تخلیق کو محدود کرنے کی بنیادی اور کچھ حد تک پریشان کن پیش رفت بھی ہوگی۔

یہ انکشافات خلیوں کی اپنے مستقبل کے فیصلے کرنے کے متعلق تحقیق کے انقلاب کا نتیجہ ہیں۔ کوئی خلیہ آگے چل کر کیا شکل اختیار کرے گا؟ کیا وہ نیورون کی شکل اختیار کرے گا یا کسی دل کی دھڑکن بنے گا؟ جس لمحے ایک انڈا زرخیز ہوتا ہے، اسی وقت یکے بعد دیگرے اس کی تقسیم اور بڑھوتری کے لیے کئی بائیو کیمیکل سگنلز جاری ہونا شروع ہوجانا شروع ہوجاتے ہيں، اور ایک نئی زندگی جنم لیتی ہے۔ بڑھوتری کا مطالعہ کرنے والے ماہرین حیاتیات کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ہر مرحلے کے متعلق سمجھ بوجھ حاصل کر کے اپنے لیباریٹریوں میں اس کی نقل کرنے کی کوشش کريں۔

وہ کونسے خلیے ہيں جن کی لیب میں تخلیق کے اثرات مادہ منویہ یا انڈوں سے زيادہ ہوں گے؟ جو سائنسدان ان کی دوبارہ تخلیق کرنے میں کامیاب ہوجائيں گے، ان پر نسلوں کے درمیان روابط کے تمام راز کھل جائيں گے۔ بی ڈی کے خلیات پر کام کرنے والی سائنسدان رینی ریجو پیرا (Renee Reijo Pera) کہتی ہیں، ”اس سے زيادہ دلچسپ اور زبردست کیا چیز ہوگی؟“ وہ مزید کہتی ہيں ”میں ایسے لوگوں کو جانتی ہوں جو زمین پر زندگی کی ابتدا یا کائنات کی حدود کو تلاش کرنے کا کام کرتے ہيں، لیکن ان میں سے کوئی بھی چیز اس بات سے زیادہ اہم نہيں ہے کہ ایک مادہ منویہ اور انڈا جب ملتے ہيں تو ایک انسان پیدا ہوتا ہے، جس کی زیادہ تر دو بازو اور دو ٹانگیں بھی ہوتی ہيں۔ اس عمل کی درستی حیرت انگیز ہے۔ “

”مصنوعی گیمیٹس“ کی تخلیق میں بڑی تیزی سے پیش رفت ہورہی ہے۔ جاپان میں چوہوں کی دم سے حاصل کردہ خلیوں سے انڈے تخلیق کر کے چوہے پیدا کیے گئے۔ اس کے بعد چینی سائنسدانوں نے دعوی کیا کہ انہوں نے چوہوں کے مادہ منویہ بنانے کے لیے ضروری مالیکولر سگنلز کی صحیح ترتیب کا تعین کرلیا ہے۔ اب تک کوئی بھی شخص کسی سٹیم خلیے کو فعال انسانی انڈوں یا مادہ منویہ میں تبدیل کرنے کے فارمولے کی کھوج میں کامیاب نہيں ہوسکا ہے اور نہ ہی کوئی شخص انسانی جلد کے خلیوں کو تولیدی خلیے میں کامیاب طور پر تبدیل کرنے میں کامیاب رہا۔ تاہم کئی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ وہ وقت زیادہ دور نہیں ہے جب وہ صحیح فارمولا دریافت کرلیں گے۔ شاید یہ ایک یا دو سال ہی کی کہانی ہے۔ حال ہی میں ہارورڈ میڈیکل سکول کے ڈین بننے والے سٹیم سیل ماہر حیاتیات جارج ڈیلی (George Daley) کا کہنا ہے کہ حالیہ پیش رفت بالکل ”واضح اور حیرت انگیز ہے۔“

جیسے جیسے تولید کی بنیادی اکائیوں پر کنٹرول میں اضافہ ہورہا ہے، اس کام میں کاروباری افراد، قانونی ماہرین، بائیوایتھکس کے ماہرین اور ان وٹرو فرٹیلائزیشن کے ماہرین کی توجہ بھی بڑھتی جارہی ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہيں کہ 1977ء میں آئی وی ایف کی پہلی کوششوں کے بعد مصنوعی گیمیٹس دوسرا انقلاب ہے۔ لاکھوں لوگ کینسر، حادثات، زیادہ عمر یا جینیات کی وجہ سے افزائش نسل سے قاصر ہیں۔ بی ڈی کا کہنا ہے، ”اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس جلد ہے، اور اگر آپ زندہ ہیں تو یقینا ایسا ہی ہے، تو آپ مادہ منویہ بھی پیدا کرسکتے ہيں۔“

اس ٹیکنالوجی کے سماجی طور پر کچھ منفی اثرات بھی ہوسکتے ہيں۔ مثال کے طور پر، خواتین عمر سے قطع نظر بچے پیدا کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، اگرانڈے اور مادہ منویہ کو لیب میں بنایا جاسکتا ہے تو درجنوں ایمبریوز بنا کر ان کی چانچ پڑتال کرکے بیماری کا سب سے کم خطرہ رکھنے والے یا سب سے زيادہ ذہین بچے بھی پیدا کیے جاسکتے ہيں۔ ہینری گریلی (Henry Greely) جو سٹین فورڈ یونیورسٹی میں قانون پڑھاتے ہيں اور جن کا شمار امریکہ میں سب سے زیادہ بااثر بائیوایتکھس کے ماہرین میں ہوتا ہے، کہتے ہيں کہ یہ صورتحال متوقع ہے۔ انہوں نے پچھلے سال شائع ہونے والی اپنی کتاب The End of Sex میں پیشگوئی کی تھی کہ آدھے جوڑے 2040ء تک بچے پیدا کرنے کے لیے قدرتی طریقوں کے بجائے اپنی جلد یا خون کا استعمال کریں گے۔

دوسروں کا کہنا ہے کہ لیب میں تیار کردہ گیمیٹس کو اس طرح سے جینیاتی طور پر انجنیئر کرنے کا امکان موجود ہے کہ ممکنہ طور پر بیماری کے خطرات نہ ہوں، اور اب بھی کئی ممکنہ صورتحالوں پر بحث و مباحثہ کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، سائنسدان سمجھتے ہيں کہ کسی مرد کے جسم کے خلیوں سے انڈے اور عورتوں کی جلد کے خلیوں سے مادہ منویہ بنانا ممکن ہوگا۔ لیکن عورتوں کے خلیوں سے مادہ منویہ بنانا زیادہ مشکل ہوگا کیونکہ ان میں وائی کرومو سومز نہیں ہوتے۔ اس عمل کو ”جنسی تبدیلی“ کا نام دیا گیا ہے، اور ہوسکتا ہے کہ ایک دن اس کی مدد سے ہم جنس افراد کے درمیان افزائش نسل ممکن ہوجائے۔

اس کے علاوہ ایک ہی شخص کے خلیوں سے انڈے اور مادہ منویہ حاصل کر کے بچہ پیدا کرنے کے متعلق بھی سوال اٹھتا ہے۔ میڈیا میں اس قسم کی کئی خبریں چل رہی ہیں۔ بی ڈی All Things Considered نامی جو ریڈیو شو دیکھ رہے تھے، اس میں سوال اٹھایا گیا تھا کہ کیا جارج کلونی کے سر کے ایک بال سے ہالی وڈ کے ادارکاروں کا خفیہ مادہ منویہ بینک تخلیق کیا جاسکتا ہے؟

ریجو پیرا، جو اب مونٹانا سٹیٹ یونیورسٹی میں تحقیق کی نائب صدر ہیں، سمجھتی ہیں کہ یہ افواہیں صرف گمراہی کا باعث بنیں گی۔ وہ کہتی ہیں ”مجھے ان وٹرو گیمیٹوجینیسس میں کوئی خوفناک قسم کی چیز نظر نہيں آتی ہے۔ مجھے صرف دکھی لوگ نظر آتے ہيں۔“ ان کا خیال ہے کہ کوئی بھی شخص بغیر ضرورت کے لیب میں تیار کردہ بچے حاصل کرنے کی کوشش نہيں کرے گا۔ وہ کہتی ہیں ”بانجھ لوگوں کو یہ سوالات سن کر بہت تکلیف ہوگی۔ جو لوگ قدرتی طور پر بچے پیدا کرسکتے ہيں، وہ ضرور اسی طرح پیدا کریں گے۔ شاید آپ سمجھیں کہ میرے خیالات بہت فرسودہ قسم کے ہیں، لیکن میری نظر میں ایک صحت مند بچہ پیدا کرنے کا طریقہ اب بھی وہی ہے جو پہلے تھا۔”

خلیوں کو دوبارہ پروگرام کرنا

1990ء کی دہائی میں جب ریجو پیرا پوسٹ ڈاکٹریٹ مکمل کررہی تھیں، اس دوران انہوں نے ان جینز کی نشاندہی کی تھی جو مردوں میں مکمل طور پر مادہ منویہ کے خاتمے کا باعث بنتے ہیں۔ ان میں سے DAZ نامی ایک جین خصوصی طور پر دلچسپ تھا کیونکہ یہ صرف اعلی مخلوق میں پایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے انگوٹھوں اور ذہانت کے علاوہ، انسانی افزائش نسل کی اور بھی منفرد خصوصیات ہيں۔

سائنسدانوں کو جو مسئلہ درپیش ہے وہ یہ ہے کہ ایسی کئی تفصیلات ہیں جن کے بارے میں انہیں زیادہ معلوم نہيں ہے۔ انہيں ایمبریوز کو لیب میں تحقیق کے لیے صرف 14 روز تک زندہ رکھنے کی اجازت ہے۔ اس کے بعد ایک اہم مرحلہ شروع ہوجاتا ہے جس میں ایمبریو کے چند خلیات مستقبل کے بیضہ دانیوں یا خصیوں کی جانب ایک پراسرار سفر شروع کردیتے ہيں۔ اس سفر کے دوران، ان گیمیٹس میں ایک نئے انسان کو جنم دینے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے، لیکن اب تک اس عمل کے متعلق پوری طرح سمجھ بوجھ حاصل نہيں ہوسکی ہے۔

ریجو پیرا اس عمل میں ذاتی دلچسی رکھتی ہيں۔ جب وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی شروع کررہی تھیں، اس وقت وہ گرینولوسا سیل ٹیومر نامی مرض کا شکار ہوئيں، جو بیضہ دانی کا ایک نایاب قسم کا کینسر ہے۔ اس مرض کی وجہ سے وہ بانجھ پن کا شکار ہوگئيں۔ وہ کہتی ہيں ”مجھے لوگوں نے بچہ گود لینے پر آمادہ کرنے کی بہت کوشش کی، اور مجھے اس وقت احساس ہوا کہ بانجھ پن کے موجودہ علاج میں ایک عجیب کرختگی ہے۔“ بالآخر ریجو پیرا اور ان کے شوہر نے گواتیمالا سے بچہ گود لینے کا فیصلہ کیا اور 2006ء میں وہ ہسپانوی زبان سیکھنے لگیں۔ اسی سال، نیوزویک نے ان کا شمار امریکہ کی اس سال کی 20 سب سے زيادہ بااثر خواتین کی فہرست میں کیا، اور انہوں نے اس جریدے کو بتایا کہ وہ جلد ہی ماں بننے والی ہيں۔ لیکن خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ گواتیمالا میں بچے گود لگانے کے معاملے میں غیرملکی افراد پر پابندی لگادی گئی۔ اس وقت ریجو پیرا کی عمر 49 برس ہوچکی تھی۔

وہ کہتی ہیں، ”اس کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم ایک نئی زندگی بنائیں گے، اور ہم نے ایک کتا گود لے لیا۔“

ریجو پیرا نے دل سے ماں بننے کا خیال تو نکال دیا، لیکن انہوں نے سائنس کے میدان میں اس سوال کے جواب کی تلاش نہيں چھوڑی۔ جب انہیں بانجھ پن کا حتمی جواب حاصل کرنے کا موقع نظر آیا تو انہوں نے دونوں ہاتھوں سے اسے تھام لیا۔

2006ء میں جاپانی سائنسدان شنیا یمنکا (Shinya Yamanaka) نے بتایا کہ انہیں بالغ افراد کے کسی بھی خلیے کو، جس میں جلد اور خون کے خلیے شامل ہیں، انڈیوسڈ پلوری پوٹنٹ سٹیم سیل (induced pluripotent stem cell) میں تبدیل کرنے کا طریقہ سمجھ میں آ گیا ہے۔ ان خلیوں کو آئی پی ایس کہا جاتا ہے اور یہ مالیکیولز کے ایمنیزیا کی طرح کے ایک مرحلے سے گزر چکے ہیں۔ نئے نویلے انسانی ایمبریوز کی طرح ان کی اپنی کوئی شناخت نہیں ہوتی، لیکن وہ ہڈی، چربی یا جسم کے کسی بھی دیگر حصے میں تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس تکنیک کے استعمال کا طریقہ بہت آسان ہے اور اسے دیکھ کر کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کے ذریعے حیاتیاتی رکاوٹیں بھی ختم ہوگئی ہیں۔

اس انکشاف کے صرف چھ سال بعد یمنکا کو بہت جلد نوبل انعام سے نوازا گیا۔ آئی پی ایس خلیوں کی ترقی کے ذریعے، انہوں نے ایک بڑے اہم اخلاقی تنازعہ کو حل کر دیا تھا۔ انہیں آئی وی ایف میں ایمبریو کو ضائع کیے بغیر انسان کی بڑھوتری کے ابتدائی مراحل کے انکشاف کا طریقہ سمجھ میں آگیا تھا۔ دوسری بات یہ تھی کہ یہ خلیے اب مخصوص  افراد  سے حاصل ہونے کی وجہ سے  مریضوں کے لیے بہترین میچ ثابت ہوں گے۔ اس کے بعد سائنسدانوں نے  ٹرانسپلانٹس یا دل کے خلیوں کے لیے ذاتی نیورانز کی فراہمی  کے متعلق بحث و مباحثہ شروع کردیا۔

ریجو پیرا کا شمار ان سائنسدانوں میں کیا جاتا تھا جو جینیاتی طور پر مماثل سٹیم سیلز کی تولید کی اہمیت کو سمجھتے تھے۔ جلد کے خلیات سے حیاتیاتی طور پر ملتا جلتا بچہ حاصل کرنے کا اور کیا طریقہ ہوسکتا تھا؟ لیکن یمنکا کے فارمولے کے مطابق خلیوں کو ”ری وائنڈ کرنا“ جس قدر آسان تھا، انہیں پہلے سے منتخب کردہ راستے پر لے کر چلنا اتنا ہی مشکل ثابت ہورہا تھا۔ سائنسدانوں کو اب تک معلوم نہيں ہوسکا ہے کہ کسی خلیے کو کوئی مخصوص شکل دینے کے پیچھے کن کیمیائی مواد کا ہاتھ ہے۔

یہ فارمولا، یعنی کسی خلیے کی ترقی کی رہنمائی کے لیے ضروری اجزاء اور مراحل کا تعین، حیاتیات کا سب سے مشکل معمہ بن چکا ہے۔

جون میں 3,900 ترقیاتی حیاتیات کے ماہرین، بائیوٹیک ایگزیکٹوز اور ڈاکٹر، انٹرنیشنل سوسائٹی فار سٹیم سیل ریسرچ کی پندرہویں سالانہ میٹنگ میں شرکت کے لیے بوسٹن کے کنونشن سینٹر میں جمع ہوئے۔ یمنکا بھی وہاں موجود تھے اور جاپانی ٹی وی کے عملے سے گھرے ہوئے تھے۔ وہاں موجود کئی سائنسدان مخلیات کی مخصوص اقسام کی تخلیق پر کام کررہے تھے۔ ان میں ہارورڈ یونیورسٹی کے ڈگلس میلٹن (Douglas Melton) بھی شامل تھے، جنہوں نے بتایا کہ انہوں نے سٹیم سیلز کو انسولین کے خلاف ردعمل ظاہر کرنے والے لبلبے کے خلیوں میں تبدیل کرنے کی کوششوں میں ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزارا اور وہ آخرکار 2014ء میں کامیاب ہوگئے۔ ان کے دو بچے ذیابیطس کا شکار ہیں، اور وہ امید کرتے ہيں کہ خلیوں کے ٹرانسپلانٹ کے ذریعے ان کا علاج مکمن ہوگا۔ میلٹن نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ”ہم خلیوں کے مستقبل پر پوری طرح حاوی ہونا چاہتے ہیں۔“

زندگی کا فارمولا

میٹنگ کے دوران میں نے دو جاپانی سائنسدان، میتنیوری سیتو (Mitinori Saitou) اور کیٹسوہیکو حیاشی (Katsuhio Hayashi) کو ڈھونڈ نکالا، جنہوں نے گزشتہ نومبر بتایا تھا کہ وہ چوہوں کے دم سے حاصل کردہ خلیوں کو آئی پی ایس خلیوں اور پھر انڈوں میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ تاریخ میں پہلی بار کسی جانور کے باہر مصنوعی انڈے تخلیق کیے گئے تھے، جن میں سے آٹھ چوہے کے بچے پیدا ہوئے۔ مکمل طور پر صحت مند ہونے کے علاوہ ان چوہوں نے آگے چل کر مزید بچے بھی پیدا کیے۔ اس انکشاف میں پانچ سال سے زیادہ عرصہ لگا، اور نیچر نامی جریدے میں ان کے متعلق 17 سے زيادہ صفحات پر مشتمل تحریر لکھی جاچکی ہے۔ یمنکا کے مطابق سیتو میں ذہانت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔

یہ دونوں سائنسدان اب اسی طریقے سے انسانی تولیدی خلیے بنانا چاہتے ہيں۔ سیتو نے مجھے بتایا کہ یمنکا نے انہيں خود انسانی گیمیٹس کی تخلیق پر عبور حاصل کرنے کی ہدایات دی تھیں۔ وہ کہتے ہيں ”انہوں نے مجھے یہ بات خود کہی تھی۔ ان کے خیال میں ہمیں یہ اس وجہ سے کرنا چاہیے کیونکہ سائنسی اعتبار سے یہ بہت دلچسپ ہے۔ ان خلیوں سے ایک نیا انسان کس طرح تخلیق ہوتا ہے؟ ہم اس میں بہت دلچسپی رکھتے ہيں۔ یہ خلیوں پر قابو پانے کا بہترین طریقہ ہے۔“

یمنکا کی زیر قیادت ٹیمیں یہ ثابت کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں کہ آئی پی ایس خلیے عملی طور پر فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں۔ جاپان کی یہ نوبل انعام یافتہ دریافت کے علاج کی تلاش قومی ترجیح کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ 2014ء میں جاپانی محققین نے نابینائی کے علاج کے لیے آئی پی ایس سے تخلیق کردہ خلیوں کا پہلا ٹیسٹ کیا تھا۔ تاہم سیتو کا کہنا ہے کہ اس وقت ان کے مصنوعی گیمیٹس تخلیق کرنے کا کوئی ارادہ نہيں ہے۔ ”یہ ہماری ترجیحات میں شامل ہی نہيں ہے۔ اس کا متبادل سیل [تھراپی] سے کسی بھی قسم کا مقابلہ نہيں ہے۔ میرے خیال سے انسان پیدا کرنے کے لیے ان وٹرو جرم سیلز میں اس کا استعمال مشکل ہے، لیکن ناممکن نہيں۔“

یہ صرف تکنیکی اعتبار سے ہی مشکل نہيں ہے۔ سیتو اس کے اخلاقی مضمرات کے متعلق بھی فکرمند ہیں۔ ان پر بانجھ پن کے شکار جوڑوں نے خطوط کی بوجھاڑ کردی۔ تاہم جاپان میں تحقیقی ہدایات کے مطابق اس وقت خلیوں کے ذریعے ایمبریو تخلیق کرنے کی ممانعت ہے۔ جاپان کی کابینہ ان قوانین کی سختی میں کمی لانے پر غور کررہی ہے۔

ممکن ہے کہ تکنیکی رکاوٹوں پر قانونی رکاوٹوں سے پہلے قابو پالیا جائے گا۔  اس کی وجہ یہ ہے کہ سیتو کے تحفظات کے باوجود، لیباریٹری میں انسانی انڈے بنانے کی دوڑ شروع ہوگئی ہے۔ سیتو نے اعتراف کیا ہے کہ اب وہ  فارمولے کی تلاش میں پہل کرنے کے سلسلے میں کیمبرج یونیورسٹی میں اپنی استاد عظیم سورانی کے ساتھ  مقابلہ کررہے ہیں۔

ان کا سابقہ طالب علم حیاشی بھی، جو اب یونیورسٹی آف کیوشو (University of Kyushu) میں کام کررہے ہيں، اس دوڑ میں حصہ لے رہے ہيں۔ اگر ان میں سے کوئی بھی شخص یہ کام کرنے میں کامیاب ہوجاے، تو ممکن ہے کہ وہ جلد ہی اسے کسی آئی وی ایف کلینک میں بروئے کار لے آئيں گے۔

جب میں نے حیاشی سے پوچھا کہ انسانی گیمیٹس بنانے میں مہارت حاصل کرنے میں کتنا عرصہ لگے گا، تو انہوں نے بتایا کہ اس میں 10 سے 20 سال لگ سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ”کتنا عرصہ لگے گا؟ یہ سب سے مشکل سوال ہے، کیونکہ میں تجربات کررہا ہوں اور ایسے تجربات کررہا ہوں جو آسان نہيں ہیں۔ اگر میں جھوٹ بولوں کہ یہ کام پانچ سال تک ہوجائے گا، تو آگے چل کر ممکن ہے کہ کوئی شخص میرا ہی گلا پکڑلے۔“

سائنسدان پہلے سے ہی آئی پی ایس کے خلیات کو چوہوں سے حاصل کردہ بی ڈی کے خلیات کی طرح کے بنیادی قسم کے تولیدی خلیات میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوچکے ہيں۔ ابھی تک جو معمہ حل نہيں ہوپایا ہے وہ یہ ہے کہ ان خلیوں کو فعال مادہ منویہ یا انڈوں میں تبدیل کیسے کیا جائے۔ انسانوں میں یہ عمل بلوغت سے پہلے مکمل نہیں ہوتا ہے۔

سیتو اور حیاشی جب چوہوں پر تجربات کررہے تھے، اس دوران انہوں نے آئی پی ایس سیلز کو جنینی چوہوں سے حاصل کردہ ٹشو سے تیار کردہ مصنوعی بیضہ دانیوں میں رکھا تھا۔ تاہم انسانی جنینی خلیوں سے اس قسم کی بیضہ دانی بنانا عملی طور پر ممکن نہیں ہے، کیونکہ ان خلیوں کو حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔ سیتو کا خیال ہے کہ انہیں آئی پی ایس خلیوں سے معاونتی خلیے بھی تیار کرنے ہوں گے۔ یہ اضافی چیلنج اس تجربے کے اختتام میں تاخیر کا باعث بن سکتا ہے۔

اگر سائنسدان انسانی انڈے یا مادہ منویہ بناتے ہیں تو وہ ایک نئی مشکل میں پھنس جائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان خلیات کی اثر اندازی کو ثابت کرنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ ایک انسانی بچہ پیدا کیا جائے، لیکن جاپانی سائنسدان اس صورتحال کے بارے میں سوچنے کے لیے بھی تیار نہيں ہیں۔

اس کے بجائے، اس آخری مرحلے کا مظاہرہ کرنے کے لیے، حیاشی اور سیتو بندروں پر بھی تجربات کررہے ہيں۔ حیاشی کا کہنا ہے کہ بندر جینیاتی طور پر انسانوں سے بہت ملتے جلتے ہیں جس کی وجہ سے ان پر تجربات کے ذریعے اس بات یا تعین ممکن ہوگا کہ کیا یہ ٹیکنالوجی اعلی مخلوق کے لیے محفوظ ہے یا نہیں۔ وہ مزید کہتے ہيں ”ہمیں جو چیز ثابت کرنی ہے وہ یہ ہے کہ کیا ہم اچھے اورمعیاری قسم کے انڈے بنا سکتے ہیں؟ اس کے لیے بچے پیدا کرنا ضروری ہے۔“

ایمبریو فارمنگ

اس ٹیکنالوجی میں تجارتی دلچسپی میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ میری حیاشی کے ساتھ گفتگو کے دوران ہمارے پاس آئی پیس خلیوں سے نابینائی کے علاج کی متلاشی جاپانی بائیوٹیک کمپنی ہیلیوس (Healios) کے سی ای او ہارڈی کیگی موٹو (Hardy Kagimoto) آکر بیٹھ گئے۔ کیگی موٹو مصنوعی انسانی گیمیٹس تخلیق کرنے کے لیے حیاشی کے ساتھ کام کرنے کے خواہش مند ہيں۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کلینکس میں کام کرنے والے آئی وی ایف کے ڈاکٹر بھی اس ٹیکنالوجی میں دلچسپی رکھتے ہيں۔ وہ کہتے ہيں ”ایک بہت اہم چیز ہورہی ہے، لیکن معاشرے کو اس کے متعلق کچھ معلوم نہيں ہے۔ مجھے غلط نہ سمجھیں۔ اگر ہم کچھ کریں گے تو اس میں پورے معاشرے کا اتفاق رائے شامل ہوگا۔“

حیاشی نے اپنی ایجادات کے لیے پیٹنٹس تو حاصل کرلیے ہیں لیکن وہ اب تک کسی کمپنی میں کام کرنے کے لیے تیار نہيں ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ پچھلے نومبر چند جاپانی وینچر کیپیٹلسٹس نے ان سے انسانی انڈوں کی تخلیق کے لیے ایک کمپنی بنانے کی درخواست کی تھا۔ ”میں نے منع کردیا۔ اب تک میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے۔ بنیادی وحہ یہ ہے کہ یہ تکنیکی طور پر مشکل ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی اس قابل نہيں ہوئی ہے کہ اس سے معاشرے کو فائدہ پہنچایا جائے۔“ جاپان میں سرویز کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ تقریبا 30 فیصد جوڑے لیباریٹری میں تیار کردہ گیمیٹس کی مدد سے تخلیق کردہ بچوں کو قابل قبول سمجھتے ہيں۔ اس خیال کو سب سے زیادہ ان لوگوں نے پسند کیا ہے جن میں آئی وی ایف کی کوششیں ناکام رہيں۔

کچھ سرمایہ کار سمجھتے ہیں کہ اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ممکن ہے۔ اگر انسانی آئی پی ایس خلیوں سے انڈے بنائے جاسکیں تو ہوسکتا ہے کہ انڈوں کی لامحدود تعداد تخلیق کرنا بھی ممکن ہوجائے، اور ہوسکتا ہے کہ ”ایمبریو فارمننگ“ بھی شروع ہوجائے۔ کیگوموٹو نے حیاشی کی ایک اشاعت میں موجود ایک تصویر کی طرف اشارہ کیا جو خوردبین سے لی گئی تھی، اور جس میں لیب میں تیار کردہ چوہوں کے درجنوں انڈوں کو پانی کے قطرے میں تیرتا ہوا دکھایا گیا تھے۔ اگر ایسا ہوجائے تو جینیاتی تسلسل کی مدد سے ہر ایمبریو کے معائنے کے بعد ”بہترین“ ایمبریو کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ قانونی ماہر گریلی کا بھی یہی کہنا ہے۔ ان کے مطابق اگر والدین کو اس میں فائدہ نظر آئے تو وہ جنسی تولید کے بجائے مصنوعی تولید کو ترجیح دیں گے۔ کیگی موٹو کہتے ہیں ”اگر آپ کے پاس ایک ہزار انڈے ہوں تو آپ اپنی مرضی کے انڈے منتخب کرسکتے ہیں۔“

ایک بالکل نئی دنیا

بوسٹن سٹم سیل کی میٹنگ میں نئی تولیدی ٹیکنالوجیز کی وجہ سے پیدا ہونے والے اخلاقی مسائل کے متعلق مباحثے سننے کے لیے اتنے لوگ موجود تھے کہ وہ کمرے میں ہی نہيں سمارہے تھے۔ ڈیلی نے اپنے خطاب میں الڈوس ہکسلی (Aldous Huxley) کی 1932ء میں شائع ہونے والی کتاب Brave New World کا تذکرہ کیا، جس میں ایک ایسے معاشرے کا خاکہ پیش کیا گيا ہے، جس میں بچوں کی پیدائش کو کنٹرول کیا جارہا ہے اور انہیں مرکزی سہولیات میں انکیوبیٹ کیا جاتا ہے۔ ڈیلی کہتے ہیں کہ ہکسلی نے جو خاکہ پیش کیا ہے وہ ڈسٹوپیائی تو ہے ہی، لیکن اس میں آنے والے وقتوں کی جانب اشارہ بھی کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں دراصل آئی وی ایف کی پیشگوئی کی گئی تھی۔

ڈیلی کا خیال ہے کہ سائنسی پیش رفت کو دیکھتے ہوئے وہ دن دور نہيں ہے جب ہکسلی کی بیان کردہ صورتحال سچ ہوجائے گی۔ گیمیٹس تخلیق کرنے کی جاپانی کوششوں کے علاوہ، کچھ سائنسدانوں نے ”گیسٹرولائڈز“ نامی خود تیار ہونے والے قطرے بھی تخلیق کیے ہیں جو انسانی ایمبریوز کی طرح لگتے ہیں اور انہی کی طرح کام بھی کرتے ہيں۔ اس کے ساتھ ہی محققین قدرت کے قوانین کو ایک مختلف طریقے سے توڑنے موڑنے کی بھی کوشش کررہے ہيں۔ فروری میں فلاڈیلفیا کے کچھ ڈاکٹر بکریوں کے پیٹ سے جنینی بچے نکال کرکے ایک شفاف سیال سے بھری تھیلی کی شکل میں ایک مصنوعی بچہ دانی میں پیدائش کے وقت تک زندہ رکھنے میں کامیاب رہے۔ ان تمام ٹیکنالوجیز کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ وہ دن دور نہيں ہے جب پیدائش تک کا پوری تولیدی عمل لیب میں ہی ہوا کرے گا۔ ڈیلی نے کہا ”ہم اب صرف اندازہ ہی لگاسکتے ہيں کہ جانوروں کو مکمل طور پر بچہ دانی کے باہر رکھ کر پیدا کرنے میں کتنا وقت لگے گا۔ سوال یہ ہے کہ آپ کتنا آگے جانا چاہتے ہيں؟“

ڈیلی نے آئی پی ایس کے خلیوں کو انڈوں اور مادہ منویہ میں تبدیل کرنے کی ٹیکنالوجی کی طرف، جسے انہوں نے ”ہلا کر رکھ دینی والی ٹیکنالوجی“ کا نام دیا ہے، خصوصی توجہ دی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہيں کہ مصنوعی گیمیٹس کو چار سال پہلے تیار ہونے والی جین ایڈیٹنگ کی ٹیکنالوجی CRISPR کے ساتھ استعمال کرنا ممکن ہے، جس کی وجہ سے زندہ خلیوں میں موجود ڈی این اے کو تبدیل کرنا زيادہ آسان ہوگیا ہے۔

اس سے ایک بار پھر ”جرم لائن ترمیم“ نامی تکنیک کے ذریعے ”ڈیزائنر بچوں“ کے متعلق مباحثہ کھڑا ہوسکتا ہے۔ یہ بحث 2015ء میں اس وقت چھڑی تھی جب چینی سائنسدانوں نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے لیب میں CRISPR کا استعمال کرکے بیٹا تھیلیسیمیا کے مرض کا سبب بننے والے جین کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ جب یہ خبر منظرعام پر آئی، اس وقت اس کے متعلق کافی تشویشات بھی سامنے آئے، جن کی ایک وجہ یہ تھی کہ CRISPR کی ٹیکنالوجی میں ابھی بھی غلطی کی گنجائش موجود ہے۔ ان تمام تجربات سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ ایمبریوز کی ترمیم میں غلطی سرزد ہوسکتی ہے، جو پیدا ہونے والے بچے کے لیے نامعلوم اور ناقابل برداشت خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔

کچھ افراد کا خیال ہے کہ جین پول کی ترمیم ناقابل قبول ہے، لیکن سائنسدان اس رائے اس متفق نہيں ہیں۔ اس سال نیشنل اکیڈمی آف سائنسز (National Academy of Sciences) کی ایک رپورٹ کے مطابق انسانی ایمبریوز کی ترمیم اس صورت میں قابل قبول ہوگی اگر اسے ہنٹنگٹن کے مرض کی طرح مہلک امراض کے خاتمے کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس رپورٹ میں خوبصورتی یا ذہانت جیسی خصوصیات میں اضافے کے لیے جینیاتی انجنیئرنگ کے استعمال کی مخالفت کی گئی تھی، لیکن اس میں ”امراض“ کی بہت غیرواضح تعریف فراہم کی گئی ہے، جس کا کچھ بھی مطلب نکالا جاسکتا ہے۔

 رپورٹ کی مصنوعی گیمیٹس پر خصوصی توجہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ آئی پی ایس خلیات میں بہت زیادہ درستگی کے ساتھ ترمیم کی جاسکتی ہے۔ صحیح آئی پی ایس حاصل کرنے کے بعد انہیں مخصوص جینایاتی بہتری رکھنے والے گیمیٹس کی تخلیق کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

سٹیم سیلز میں پہلے ہی CRISPR کا چوہوں میں کامیاب طور پر استعمال کیا جاچکا ہے۔ چین میں جن سونگ لی (Jinsong Li) نامی ایک سائنسدان نے چوہوں کے سٹیم سیلز میں ترمیم کرکے موتیے کی وجہ بننے والا جین نکال دیا ہے۔ اس کے بعد مادہ منویہ پیدا کرکے انڈوں کو زرخیز کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچوں میں ترمیم کی کارکردگی 100 فیصد رہی۔ اس قسم کے نتائج کی وجہ سے سائنسدان یہ سمجھنے لگے ہيں کہ جرم لائن ترمیم کے غیرمحفوظ یا ناقابل اعتماد ہونے کی دلیل کمزور پڑ رہی ہے۔ ایم آئی ٹی کے پروفیسر رچرڈ ہائنس (Richard Hynes)، جو نیشنل اکیڈمی کی رپورٹ کے دو سینئر مصنفین میں سے ایک ہیں، کہتے ہيں ”اب ہم اسے مزید ناقابل عمل قرار نہيں دے سکتے ہيں۔“

بہت زیادہ مانگ

ہارورڈ سٹیم سیل انسٹی ٹیوٹ کے آئی وی ایف ڈاکٹر اور سائنسدان وارنر نیوہاؤسر (Warner Neuhasser) بھی جینوم کی ترتیب، سٹیم سیلز، اور جینوم کی ترمیم سے تولید کو تبدیل کرنے کے متعلق تحقیق کررہے ہيں۔ نیوہاؤسر ہفتے میں ایک دن بوسٹن آئی وی ایف کے فرٹیلٹی سینٹر جا کر مریضوں سے ملاقات کرتے ہیں۔ باقی چار دن وہ جاپان کے علاوہ دنیا بھر کی انکشافوں کی تصدیق اور توسیع میں گزارتے ہيں۔ بحیثیت آئی وی ایف ڈاکٹر، نیوہاؤسر نے مجھے بتایا کہ مصنوعی مادہ منویہ اور خاص طور پر مصنوعی انڈوں کی مانگ ”بالکل“ موجود ہے۔ وہ کہتے ہيں ”اگر یہ ممکن ہوجائے تو یہ بہت بڑی بات ہوگی۔“

کیگی موٹو کی طرح، نیوہاؤسر کا بھی یہی خیال ہے کہ ایمبریوز کی پیمائش کی جائے گی اور ان کی خصوصیات کو عددی شکل دی جائے گی۔ وہ کہتے ہیں ”ہم ہر ایمبریو میں مختلف قسم کی بیماری کا خطرہ متعین کر تو لیں گے، لیکن پھر انتخاب کس طرح کیا جائے گا؟“ نیوہاؤسر کا خیال ہے کہ والدین کو انتخاب کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ والدین اپنے ہی تولیدی خلیوں کو جینیاتی طور پر بہتر بنانے کا انتخاب کرسکيں گے۔ وہ کہتے ہیں ”آپ ممکنہ والدین کے جینومز کو ترتیب دے کر ان سے پوچھ سکتے ہيں کہ وہ بچہ پیدا کرنے سے پہلے کن اقسام کو ٹھیک کرنا چاہتے ہيں؟ ابھی ہم نے اس معاملے پر زیادہ غور نہيں کیا ہے۔ اس کا انحصار خطرات پر ہے، اور ابھی ایسی بہت چیزیں ہيں جن کے بارے میں ہمیں معلوم نہيں ہے۔ اس وقت اسے کوئی بھی مریضوں پر استعمال نہيں کرنا چاہتا ہے۔“

ان کی ہارورڈ یونیورسٹی کی لیباریٹری میں جینیاتی ترمیم پر پہلے ہی سے کام کیا جارہا ہے۔ یہ ٹیم ایمائیوٹروفک لیٹرل سکلیروسس (amyotrophic lateral sclerosis) کی وجہ بننے والا جین رکھنے والے مردوں سے مادہ منویہ حاصل کرکے CRISPR کی مدد سے اس کی خامیوں کو دور کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ لیب میں غلطی کی اصلاح کے بعد مادہ منویہ کے خلیوں کو ترتیب دے کر نتائج دیکھے جائيں گے۔

تاہم نیوہاؤسر کا کہنا ہے کہ آئی پی ایس کے خلیوں میں جینیاتی اصلاحات کرنا زیادہ بہتر طریقہ کار ثابت ہوگا۔ لیب میں ان خلیوں کے سائز اور تعداد میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ ان کی ترمیم کے بعد، ان میں سے انڈے یا مادہ منویہ تخلیق کیے جاسکتے ہيں۔ وہ کہتے ہيں ”آپ کو جینوم تک رسائی مل جائے گی، اور آپ اپنی مرضی سے جینوم میں تبدیلی کرسکيں گے۔ اس کے متنازعہ ہونے سے انکار نہيں کیا جاسکتا ہے، لیکن اس کی تحقیق ضرور کرنی چاہئیے۔“

 بی ڈی جیسے مردوں کے لیے مصنوعی گیمیٹس کی ٹیکنالوجی جتنی جلدی آئے، اتنا کم ہے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ امید کرتے ہيں کہ مصنوعی مادہ منویہ کی منظوری کے بعد پہلا علاج ان ہی کا ہو۔ لیکن ممکن ہے کہ ان کی باری نہ آئے۔ ان کے مطابق انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک تاریخ مقرر کی ہے جس کے بعد دونوں بچہ پیدا کرنے کی کوششیں ترک کردیں گے۔ وہ تاریخ ستمبر 2019ء ہے۔

اینٹانیو ریگالڈو ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کے سینئر ایڈیٹر برائے بائیو میڈیسن ہیں۔

تحریر: اینٹونیو ریگالڈو

مترجم: احسان قادر

Read in English

Authors

*

Top