Global Editions

سٹیل بنانے کے اس نئے طریقے سے کاربن ڈائی آکسائيڈ کے اخراجات میں پانچ فیصد کمی ممکن ہے

بوسٹن میٹل (Boston Metal) نامی کمپنی نے سٹیل بنانے کے عمل میں بجلی گزارنے کی ٹیکنالوجی تیار کی ہے، اور فنڈنگ ملنے کی صورت میں ایک بڑا پراجیکٹ شروع ہونے والا ہے۔

میساچوسیٹس کے شہر بوسٹن سے آدھے گھنٹے کی مسافت پر ایم آئی ٹی سے نکلنے والی کمپنی بوسٹن میٹل کے لیب کی ایک بینچ پر سٹیل کی ایک ڈسک رکھی ہوئی ہے۔

یہ اس کمپنی کی اعلٰی طاقت رکھنے والی مرکب دھات ہے جسے دھات کی پراسیسنگ کے ایک نئے طریقے سے بنایا گيا ہے۔ سٹیل بنانے کے لیے کئی صدیوں سے بھٹی کا استعمال کیا جاتا رہا ہے، لیکن بوسٹن میٹل نے ایک بیٹری کی قسم کی چیز تیار کی ہے، جسے الیکٹرولائٹک سیل کہا جاتا ہے۔ اس سیل میں خام دھات کو پراسیس کرنے کے کاربن کے بجائے بجلی کا استعمال کیا جاتا ہے۔

اگر اس ٹیکنالوجی کو وسیع پیمانے پر کم قیمت میں تیار کرنا ممکن ہوجائے تو عالمی معیشت کے سب سے مشکل سے صاف ہونے والے شعبوں میں سے ایک، اور ماحولیاتی آلودگی کے سب سے بڑے صنعتی ذریعے سے گرین ہاؤس گیس کے اخراجات صاف کرنا ممکن ہوسکے گا۔

اس پر چھ سال سے کام کرنے کے بعد اب نو افراد پر مشتمل یہ کمپنی اگلے مرحلے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اگر وہ فنڈنگ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے تو وہ مظاہرے کے لیے ایک بڑا کارخانہ تیار کرکے سٹیل کی تخلیق کے لیے صنعتی پیمانے پر سیل تیار کريں گے۔

کاربن میں کمی

اس وقت سٹیل بنانے کے لیے آئرن آکسائيڈ کو کوئلے سے حاصل کرنے سخت اور مسام دار مواد کوک کے ساتھ ایک بھٹی میں ڈالا جاتا ہے۔ انتہائی تیز درجہ حرارت کی وجہ سے یہ کوک کاربن مونوآکسائيڈ کی شکل اختیار کرتا ہے، جو اس فولاد سے آکسیجن کھینچ لیتا ہے۔ اس سے "پگ آئرن" نامی درمیانی دھات پیدا ہوتی ہے جو کاربن ڈائی آکسائيڈ کے ساتھ ہوا میں خارج ہوجاتی ہے۔

ان تمام مراحل سے سالانہ بنیاد پر ہوا میں 1.7 گیگا ٹن کاربن ڈائی آکسائيڈ خارج ہوتا ہے، جو سائنس میں شائع ہونے والے ایک حالیہ پیپر کے مطابق عالمی کاربن ڈائی آکسائيڈ کے اخراجات کا 5 فیصد حصہ ہے۔ اس میں بھٹیوں کو چلانے کے لیے ضروری ایندھن شامل نہيں کیا گيا ہے۔

اس مطالعے کے بانی اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا اروین میں ارتھ سسٹم کے سائنسدان سٹیون ڈیوس کہتے ہيں "گاڑیاں، عمارتیں، اور پلوں، سب ہی میں سٹیل کا استعمال ہوتا ہے۔ یہ صورتحال تبدیل ہونے کے کوئی آثار نہيں ہیں، اور جب تک ایسا نہيں ہوتا، ہمیں اس پورے عمل میں کاربن کا عمل دخل ختم کرنے کا طریقہ کار ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔"

تاہم مکمل طور پر اخراجات ختم کرنے کے لیے یا تو ایسی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہوگی جو کاربن ڈائی آکسائيڈ کو سٹیل سے خارج ہونے سے پہلے روک دے، جو مہنگی اور تکنیکی طور پر مشکل ثابت ہوگی، یا ایسے مواد درکار ہوں گے جو آئرن آکسائيڈ کو آکسیجن سے علیحدہ کرسکيں۔

چاند فتح کرنا

ایم آئی ٹی کے ایک کیمیادان ڈولنڈ سیڈوویے (Donald Sadoway) نے 2000ء کی دہائی سے ایک حل پر کام کرنا شروع کردیا تھا۔

ناسا نے قمری بیسز قائم کرنے کے لیے چاند کی سطح سے آکیسجن حاصل کرنے والی پہلی ریسرچ ٹیم کو ڈھائی لاکھ ڈالر کے انعام کا وعدہ کیا تھا۔ سیڈووے نے قمری پتھروں سے آکیسجن نکالنے کے لیے مرکبات کو توڑنے کے لیے برقی کرنٹ پیدا کرنے والے الیکٹرولٹک سیل استعمال کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ اس کے نتیجے میں پگھلی ہوئی دھات پیدا ہوئی تھی، جسے دیکھنے کے بعد انہوں نے زمین پر دھات پراسیس کرنے کے لیے اسی قسم کے طریقہ کار کو آگے بڑھانا شروع کیا۔

تاہم سٹیل جیسی دھات بنانے کے لیے کم قیمت مواد سے تیار کردہ اینڈو کی بھی ضرورت ہوتی ہے، جسے تیز درجہ حرارت کے نتیجے میں زنگ نہيں لگے گا اور جو آئرن آکسائيڈ کے ساتھ جلدی ردعمل کا اظہار نہيں کرے گی۔ 2013ء میں سیڈووے اور ایم آئی ٹی میں دھاتوں کے ریسرچر انٹوائن ایلانور (Antoine Allanore) کے نیچر میں شائع ہونے والے ایک پیپر کے مطابق کرومیم پر مشتمل مرکب دھاتوں سے بنائے جانے والے اینوڈز یہ تمام کام کرسکتے ہيں۔

اس سے ایک سال قبل سیڈووے، ایلانور اور ان کے اور پارٹنر نے مل کر بوسٹن الیکٹرومیٹالرجکل (Boston Electrometallurgical) نامی کمپنی قائم کی، جو اب بوسٹن میٹل کے نام سے جانی جاتی ہے۔

یہ کمپنی اب تک 1.3 کروڑ ڈالر کی رقم جمع کرنے میں کامیاب ہوچکی ہے، جس کا بیشتر حصہ برازیل سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کار انگو وینڈر (Ingo Wender)، امریکہ محکمہ توانائی، اور قومی سائنس کے ادارے سے حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کاروباری معاملات مکمل ہونے تک آنے والی سرمایہ کاری کے ذرائع کے بارے میں بتانے سے انکار کردیا۔

ایک ہچکچاتی ہوئی صنعت

بوسٹن میٹل کے ایک کمرے میں ایک الیکٹرولٹک سیل رکھا ہوا ہے۔ سیلنڈر کی شکل کی یہ سیل مخصوص درجات کی سٹیل بنانے کے لیے استعمال ہونے والے ہائی مارجن رکھنے والے مواد، جسے فیروالوائے کہا جاتا ہے، بنانے کے لیے استعمال کی جائے گی، جو اس سٹارٹ اپ کمپنی کی پہلی مارکیٹ ہوگی۔

اس سلنڈر میں ایک "چمنی" لگی ہوئی ہے، جو درحقیقت ایک اینوڈ ہے۔ نچلے حصے میں دھات کی پتلی سی پٹی کیتھوڈ کا کام کرتی ہے۔ یہ مثبت اور منفی الیکٹروڈز مل کر ایک پمپ کی طرح کام کرتے ہوئے الیکٹرونز کو چیمبر میں موجود دھاتی معدنیات اور دیگر آکسائيڈ سے بنے الیکٹرولائٹ سے گزارتے ہيں۔

اس الیکٹرولائٹ میں استعمال ہونے والے اجزا اس سٹارٹ اپ کمپنی کی بنیادی ٹیکنالوجی کا اہم عنصر ہیں۔ جہاں تک سٹیل کا تعلق ہے، دوسرے آکسائيڈز تیز درجہ حرارت پر محلول کا کام کرتے ہيں، اور خود بگڑے بغیر آئرن آکسائيڈ کو گھولتے ہیں۔

بوسٹل میٹل کے الیکرولٹک سیلز میں بجلی کی مدد سے دھات کو کس طرح پراسیس کیا جاتا ہے؟

جیسے جیسے یہ محلول بجلی کے کرنٹ سے گرم ہوتا ہے، فولاد سے آکسیجن علیحدہ ہو کر اوپر کی طرف آجاتا ہے، اور دھات نیچے جمع ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد آپریٹر سامنے موجود سوراخ میں دراڑ پیدا کرتے ہيں، جس کے نتیجے میں پگھلی ہوئی دھات باہر نکلتی ہے۔

سٹیل بنانے کے عمل میں کاربن کے استعمال کا ایک فائدہ یہ ہے کہ درست تناسب میں کاربن استعمال کرنے کی صورت میں سٹیل کی مضبوطی میں اضافہ مکمن ہے۔ اس کمپنی کے ڈائریکٹر برائے سٹریٹیجی ایڈم راؤورڈنک (Adam Rauwerdink) نے ایک ای میل میں بتایا کہ مخصوص درجات کے سٹیل پیدا کرنے کے لیے دھات کے ٹھنڈنے ہونے کے دوران کاربن اور دوسرے اجزا شامل کیے جاسکتے ہيں۔

اب سوال یہ ہے کہ سٹیل بنانے والی صنعت اس نئی مصنوعے کو استعمال کرنے پر کس طرح آمادہ ہوگی؟ کیا یہ نئی دھات اس قدر مضبوط ہوگی کہ اس سے اونچی عمارتیں کھڑی کی جاسکيں؟

کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے کیمیا دان نیتھن لوئیس (Nathan Lewis) کہتے ہيں "سٹیل کی میکانیکی خصوصیات قائم رکھنے کے لیے کاربن کی ضرورت پڑتی ہے۔ اور سٹیل کی صنعت اس وقت اس عمل کو تبدیل کرنے سے کترارہی ہے۔"

آیندہ مراحل

پچھلے سال ٹیڈو کارنیرو (Tadeu Carneiro) نے بوسٹن میٹل میں چیف ایگزیکٹو افسر کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ اس سے پہلے وہ برازیل میں واقع سی بی ایم ایم نامی کمپنی میں کام کرتے تھے، جو سپرکنڈکٹنگ مرکب دھاتوں میں استعمال ہونے والی نیوبیم نامی دھات بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ہے۔

کارنیرو موٹے چشمے پہنے ایک وہائٹ بورڈ پر کیمیائی فارمولے لکھ کر اپنی کمپنی کی حکمت عملی سمجھا رہے ہيں۔ ان کے مطابق ان کا تین سالہ منصوبہ فیرو مرکب دھاتیں بنانے والے کارخانے کی تعمیر ہے۔ اس دوران، یہ کمپنی سٹیل بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر کام کرنے والا سیل تخلیق کرنا شروع کردے گی، اور انہيں امید ہے کہ یہ ہدف سات سالوں میں حاصل ہوجائے گا۔

اگر بوسٹن میٹل یہ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائيں تو ان کے لیے متعدد کاروباری مواقع دستیاب ہوں گے، جن میں اس ٹیکنالوجی کی لائسنسنگ، دھات کے تخلیق کاروں کے ساتھ شراکت داری، یا براہ راست دھات کی تخلیق شامل ہيں۔

تاہم، جب تک یہ مصنوعہ تجارتی پیمانے پر تخلیق اور ٹیسٹ نہيں ہوجاتا ہے، اس کے اخراجات اور کارکردگی کے بارے میں کچھ بھی کہا نہيں جاسکتا ہے۔ نیز، سٹیل کی صنعت میں جتنے ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے جو کئی دہائیوں تک چلنے والی ہے، لہٰذا اسی قیمت میں ماحول دوست متبادل تخلیق کرنے سے صنعت میں انقلاب نہيں آئے گا۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ سٹیل کی صنعت کا بیشتر حصہ غریب یا مالی طور پر کمزور ممالک میں کام کررہا ہے۔

ڈیوس کہتے ہیں "اگر ہم آج بہترین ٹیکنالوجی ایجاد بھی کرلیں، تو اسے استعمال کرنے میں شاید کئی دہائیاں لگ جائيں۔"

کارنیرو اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان کی کمپنی کو ابھی بھی کئی تکنیکی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں "فیراڈیک ایفیشنسی" (faradaic efficiency)، یعنی دھات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے الیکٹرانز کا تناسب میں اضافہ، تھرمل اثراندازی یعنی دھات کی مخصوص تعداد پیدا کنے کے لیے ضروری کلوواٹ گھنٹوں کی تعداد میں کمی، اور کرومیم پر مشتمل مرکب دھات کے اینوڈ کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا جس کا اب تک صرف لیب میں مظاہرہ کیا گیا ہو، شامل ہیں۔

تاہم انہيں یقین ہے کہ بوسٹن میٹل ان چیلنجز کو حل کرنے، ٹیکنالوجی کو کم قیمت ثابت کرنے اور صنعت کو آمادہ کرنے میں کامیاب ہوجائيں گے۔

ایک کھرب ڈالر کی مالیت رکھنے والی سٹیل کی صنعت میں انقلاب لانے ابھی دور کی بات ہے۔ تاہم اگر یہ سٹارٹ اپ کمپنی یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائے کہ ان کی طریقہ کار صنعتی پیمانے پر کام کرسکتا ہے، تو ماحولیاتی تبدیلی سے وابستہ سب سے مشکل مسئلے کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔

تحریر: جیمز ٹیمپل (James Temple)

Read in English

Authors
Top