Global Editions

قیام پاکستان کی کہانی ڈیجیٹل میوزیم کی زبانی

تقسیم ہند اور اس کے بعد کے واقعات کی تاریخ: 1940ء کی دہائی سے 1960ء کی دہائی تک

لاہور میں واقع نیشنل ہسٹری میوزیم شہریوں خصوصی طور پر ٹیکنالوجی کی معلومات رکھنے والے نوجوانوں کی دلچسپی کے لیے وی آر اور ہولوگرافک ڈسپلیز جیسی جدید ترین ٹیکنالوجیز کا استعمال کررہا ہے۔

ہرعجائب گھر میں ماضی اور حال کا پیچیدہ اور منفرد امتزاج نظر آتا ہے اور ماضی میں استعمال ہونے والے مواد پیش کر کے شائقین کو اپنے آج کے متعلق سوچنے کا موقع میسر ہوتا ہے۔

برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کا لوگو

جدید انفارمیشن اور ٹیلی کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز نے اب عجائب گھروں میں ایک نئی جان پھونکی ہے۔ پاکستان کے زیادہ تر عجائب گھر آج بھی اپنے شائقین کو معلومات پیش کرنے کے لیے روایتی طریقوں پر ہی انحصار کررہے ہيں

لیکن لاہور میں واقع نیشنل ہسٹری میوزیم یا این ایچ ایم (National History Museum -NHM)  عوام کوبالخصوص ٹیکنالوجی کی سمجھ بوجھ رکھنے والے نوجوانوں کی دلچسپی میں اضافہ کرنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔

گریٹر اقبال پارک میں واقع ایک چھوٹی سی عمارت میں قائم کردہ این ایچ ایم تک عوام کو 2018ء میں رسائی حاصل ہوئی تھی۔ یہ عجائب گھر پنجاب کی صوبائی حکومت اور تقسیم ہند کی زبانی تاریخ ریکارڈ کرنے والی غیرمنافع بخش تنظیم سیٹیزنز آرکائیو آف پاکستان یا سی اے پی (Citizens Archive of Pakistan - CAP) کا مشترکہ پراجیکٹ ہے۔

آڈیو ویژول طریقے استعمال کرکے برصغیر کی تاریخ کے اہم واقعات کی زبانی روداد سنائی جاتی ہے۔

جب صوبائی انتظامیہ نے سی اے پی کو اس عجائب گھر میں شامل کیے جانے والے مواد کا انتخاب کرنے کی ذمہ داری سونپی ،اس وقت تک ان کے پاس آڈيو ویژول شکل میں زبانی تاریخوں کی بہت بڑی تعداد جمع ہوچکی تھی۔ سی اے پی لاہور کی جنرل مینیجر اور این ایچ ایم کی ڈائریکٹر حباء علی کہتی ہیں‘‘ ہم شروع سے ہی ایسی جگہ کی تلاش میں تھے جہاں عوام ہمارے ذخیرے  سے فائدہ اٹھا سکے۔’’

اس عجائب گھر میں مقبول ثقافتی آرٹیفیکٹس کی نمائش کی گئی ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ این ایچ ایم دنیا بھر کےمشہور ترین عجائب گھروں سے متاثر ہو کر بنایا گيا ہے۔ پچھلے آٹھ سالوں میں سی اے پی کی ٹیم اور ڈیزائن ریسرچرز نے لندن میں واقع برٹش میوزیم، البرٹ اینڈ میری میوزیم اور برٹش لائبریری، پولینڈ کے دارالحکومت وارساء کے پولن میوزیم آف جیوش ہسٹری (Polin Museum of Jewish History)، ہنگری کے شہر بوڈاپیسٹ میں واقع بیسویں صدی کی فاشسٹ اور آمرانہ حکومتوں سے وابستہ نمائشوں پر مشتمل مشہور عجائب گھر ہاؤس آف ٹیرر (House of Terror) اور واشنگٹن ڈی سی میں واقع سمتھسونین میوزیمز میں استعمال کی جانے والی ٹیکنالوجیز کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد لاہور میں ایک ایسا عجائب گھر قائم کیا ہے جس میں انٹریکٹو ڈسپلیز کی مدد سے پاکستان کا ماضی پیش کیا گیا ہے۔

پاکستان تک کے سفر کی نمائش

اس عجائب گھر  میں آنے والے سب سے پہلے ہال نمبر 1 میں داخل ہوتے ہیں۔ یہاں انہیں مختلف آڈیو وژول طریقوں سے برصغیر میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی آمد سے لے کر 1940ء کی دہائی تک، جب تحریک آزادی زور پکڑ رہی تھی، اہم تاریخی واقعات دکھائے جاتے ہیں۔ اس حصے میں قرارداد لاہور، جناح اور گاندھی کے مذاکرات، 3 جون کے منصوبے اور 1947ء کے قانون آزادی ہند کو فیچر کیا گيا ہے۔

ایک انٹریکٹو ڈسپلے کی مدد سے طلباء کو جناح گاندھی مذاکرات کے متعلق معلومات فراہم کی جارہی ہے۔

دستاویزات، ویڈیوز اور وائس اوورز سمیت تمام مشمولات کو ڈیجٹل شکل میں تبدیل کرکے اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں پیش کیا گيا ہے۔

ہال نمبر 2 میں تقسیم ہند سے گزرنے والے لوگوں کے انٹرویوز کو آڈیو وژول ڈسپلیز کی مدد سے پیش کیا گیا ہے۔ یہ تمام انٹرویوز سی اے پی کے اورل ہسٹری پراجیکٹ (Oral History Project) کی سینکڑوں گھنٹوں پر مشتمل آڈيو ریکارڈنگز سے حاصل کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس ہال میں تقسیم ہند کے فسادات کے متعلق ایک ویڈیو ڈسپلے بھی موجود ہے۔

ہال نمبر 3 میں شمالی پاکستان ریلویز کی ایک ویگن میں سیٹ اپ کردہ ورچول ریئلٹی ڈسپلے کی مدد سے آپ 1947ء میں پاکستان میں آنے والی ایک چھوٹی بچی کی نظروں سے تقسیم ہند کا سفر دیکھ سکتے ہیں۔

علی اس ورچول ڈسپلے کے متعلق بتاتی ہیں ‘‘ٹیکنالوجی کے استعمال سے عجائب گھر کے وزیٹرز کے لیے ہمارے آبا و اجداد اور مجموعی ماضی کی کہانیوں کے ساتھ جذباتی تعلق قائم کرنا ممکن ہوا ہے۔’’

علی تقسیم ہند سے قبل حاصل کیے جانے والے سکوں کے ڈسپلے کے بارے میں بتاتی ہيں کہ ان سکوں کا بغور مطالعہ کرنے میں معاونت فراہم کرنے کے لیے کسٹمائزڈ ایپلیکیشنز تیار کی گئیں تھیں۔ وہ کہتی ہیں ‘‘وزیٹرز زوم ان کرکے یہاں موجود سکوں کی باریکیوں کو دیکھ سکتے ہیں۔ ہمارے ‘‘ہیروز’’ کی نمائش میں بھی اسی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گيا ہے۔ ہر ہیرو کو ایک خصوصی طریقے سے پیش کیا گيا ہے اور نمائش کے ساتھ موجود سکرینوں پر ان کے متعلق مزید معلومات فراہم کی گئی ہیں۔’’

اس عجائب گھر میں مہاجرین کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والی جنوب مغربی ریل ویز کے ویگن کی نقل رکھی گئی ہے۔

ویگن کا اندرونی حصہ۔ زبانی قصوں اور وی آر اینیمیشنز کی مدد سے شائقین کو ہجرت کا منظر بہت قریب سے دکھایا جاتا ہے۔

‘‘ماضی کا کیمرہ’’ نامی بوتھ میں ڈیجٹل ٹیکنالوجی کی مدد سے وزیٹرز کو بھی تاریخی تصاویر میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک خصوصی ڈیجیٹل کیمرے کی مدد سے ان کی تصویر کھینچی جاتی ہے، جس کے بعد اسے قائد اعظم اور دیگر تاریخی شخصیتوں کے ساتھ ضم کرکے ایک بلیک اینڈ وائٹ پرنٹ آؤٹ نکالا جاتا ہے۔

اس ہال میں تقسیم ہند کے نتیجے میں قائم کردہ واہگہ ریلوے سٹیشن اور پناہ گزین کے کیمپس کی روایتی نمائشوں کے علاوہ پاکستان کی ابتدائی حکومت کے قیام کے متعلق ڈسپلیز بھی موجود ہیں۔ نیز، قومی، سول اور فوجی میڈلز کی بھی نمائش کی گئی ہے۔

این ایچ ایم میں پاکستان  کے فلموں اور موسیقی کو بھی دکھایا گیا ہے۔ ہال نمبر 4 میں فلم اور موسیقی کی صنعتوں کے متعدد ڈسپلیز موجود ہیں اور وزیٹرز کلاسیکی پاکستانی گانوں یا مقبول فلموں کے کلپس دیکھ سکتے ہيں۔ اس کے علاوہ ہال نمبر 5 میں پاکستان کے کھیلوں کی تاریخ کی نمائش کی گئی ہے۔

این ایچ ایم کے مینیجر اویس ملک کے مطابق اس عجائب گھر کا ایک اہم ہدف تاریخ میں دلچسپی پیدا کرنا ہے۔

اس گیلری میں تحریک آزادی کے اہم کرداروں کے مجسمے اور تصاویر کی نمائش کی گئی ہے۔

اس سال مارچ میں این ايچ ام نے وی آر جیسی ایکسٹینڈڈ ریئلٹی سولیوشنز فراہم کرنے والی کمپنی ونیلا آرکیڈ (Vanilla Arcade‎) کے ساتھ مل کر ایک ہولوگرافک ڈسپلے تیار کیا ہے جس میں قائداعظم کو قرار داد لاہور پیش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

آنے والے دنوں میں این ایچ ایم دو نئی نمائشیں منعقد کرنے والا  ہے جن میں سے ایک کا تعلق پاکستان کے مختلف آئین اور دوسری کا تعلق دانشور شخصیات، مصنفین اور شاعروں سے ہوگا۔

اس کے علاوہ اس وقت این ایچ ایم کی نقشہ بندی جاری ہے جس کے بعد اس کی مختلف نمائشیں بذریعہ انٹرنیٹ بھی قابل رسائی ہوں گی۔ تاہم علی کہتی ہيں کہ اس مرحلے پر بعد میں عملدرآمد کیا جائے گا۔ وہ کہتی ہیں‘‘ اس وقت ہم پاکستان میں عجائب گھروں کی مقبولیت میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں اور این ايچ ایم کا بھی یہی مقصد ہے۔ ہماری پوری توجہ لوگوں کو اس عجائب گھر میں لانے پر مرکوز ہے۔’’

احمد رضا لاہور سے تعلق  رکھنے والے صحافی ہیں۔

تحریر: احمد رضا      (Ahmad Raza)

Read in English

Authors
Top