Global Editions

ٹیکنالوجی کی مدد سے شہری مسائل کا حل

آپ کے گھر سے متصل سڑک پر موجود گٹر کھلا ہو تو اس سے نہ صرف فضا میں تعفن پھیل جاتا ہے بلکہ گزرنے میں بھی شدید رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ فضا میں موجود زہریلی گیسوں کی وجہ سے پھیلنے والا تعفن نہ صرف صحت کے لئے مضر ہے بلکہ یہ مسلسل ذہنی کوفت کا سبب بھی بنتا ہے۔ تاہم آپ یہ مسئلہ فوری طور پر حل کرنا چاہیں گے تاکہ آپ کم از کم سکون کا سانس تو لے سکیں۔ تاہم آپ کریں گے کیا؟

آپ اس مسئلے کے حل کے لئے اپنی یونین کونسل سے رابطہ کریں گے تاکہ آپ کا منتخب کونسلر اس مسئلے کے حل کے لئے حرکت میں آئے اور متعلقہ ادارے کو ہدایت کرے کہ یہ مسئلہ فوری حل ہونا چاہیے۔ تاہم اس معاملے میں ایک قباحت اور بھی ہے۔ یقینناً اس حلقے میں صرف آپ اکیلے تو ہی اس طرح کے مسئلے کا شکار نہیں ہونگے علاقے کے کئی دوسرے مکین بھی اسی طرح کے مسائل کا شکار ہوں گے اور آپکا کونسلر اگر دل وجان سے اپنے حلقے کے عوام کی خدمت بھی کرتا ہو اور اپنے کام سے مخلص بھی ہو، آپ کی طرح ان کے مسائل کا بھی حل چاہتا ہو گا تاہم کام کی زیادتی کی وجہ سے کونسلر کے لئے یہ ممکن نہیں ہو گا کہ وہ ہر شکایت کا فالواپ رکھے اور کام میں ہونے والی پیشرفت سے آگاہ رہ سکے۔

پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے اس مسئلے کے حل کے لئے ایک ایپلی کیشن تیار کی ہے جسے سمارٹ فون کی مدد سے استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ عوام الناس کی شکایات کے ازالے کے لئے ہونے والی پیشرفت سے آگاہ رہا جا سکے۔ پی آئی ٹی بی کی جانب سے تیار کی جانیوالی اس ایپلی کیشن کا نام فکس اٹ Fix-It رکھا گیا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ کونسلر حضرات کی جانب سے متعلقہ محکموں کو بھجوائی جانیوالی شکایات پر عمل درآمد یا پیشرفت سے آگاہ رہا جا سکے اور عوامی شکایات کا جلدازجلد ازالہ ممکن ہو سکے۔ اب یونین کونسلز کو پنجاب فکس اٹ ایپلی کیشن تک رسائی دی جا چکی ہے تاکہ وہ عوامی شکایات کے ازالے کے لئے کی جانیوالی کوششوں کی رفتار سے آگاہ رہ سکیں۔ یہ ایپلی کیشن اینڈروائیڈ اور آئی فون آپریٹنگ سسٹمزکے لئے دستیاب ہو گی۔

اس ایپلی کیشن کے ذریعے شکایت کے اندارج کے لئے کونسلر کھلے ہوئے گٹر کی تصویر اپنے سمارٹ فون کے ذریعے حاصل کریگا جیو ٹیگنگ کے سبب مقام کا تعین کیا جائیگا اس کے بعد وہ کٹیگری کا انتخاب کریگا اور اپنے ریمارکس لکھ کر شکایت کو ارسال کر دیگا۔ یہ شکایت فوری طور پر متعلقہ میونسپل ڈیپارٹمنٹ کے متعلقہ افسر تک پہنچا دی جائیگی۔ کھلے گٹروں کے حوالے یہ شکایت واسا تک پہنچائی جائیگی۔

پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے سینئیر پروگرام مینیجر عزیر شاہد کا کہنا ہے کہ اس ایپلی کیشن کا استعمال نہایت سادہ ہے اور ٹیکنالوجی سے کم سے کم واقفیت رکھنے والا بھی اس کو آسانی کے ساتھ استعمال کر سکتا ہے۔ شکایت کو درج کرانے کے لئے صرف جگہوں پر اندراج کی ضرورت ہے تاکہ شکایت سے متعلقہ محکمے کا تعین ہو سکے۔

جیسے ہی شکایت وصول ہو گی سسٹم ازخود اس شکایت کو متعلقہ محکمے کے متعلقہ فرد تک پہنچا دیگا اس کے بعد یہ محکمے کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔ گرائونڈ سٹاف کو صرف ایپلی کیشن اوپن کرنا ہے اور شکایت اور مقام کی تفصیل حاصل کرنا ہے۔ اس کے بعد ان کے پاس دو آپشنز ہیں یا تو وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ مسئلہ حل کیا جا چکا ہے اور وہ اسی مقام کی تصویر لے کر ایپلی کیشن کے ذریعے اپ لوڈ کر سکتے ہیں یا ہو یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ان سے متعلقہ کام نہیں ہے۔

ہر مرتبہ جیسے ہی کوئی شکایت درج کرائی جاتی ہے ایک ایس ایم ایس تین پارٹیز کو بھجوا دیا جاتا ہے۔ ایک شکایت کنندہ کو، دوسرا متعلقہ سرکاری محکمے کے مینجنگ ڈائریکٹر کو اور تیسرا مئیر کے دفتر میں نامزد شخصیت کو۔ اس تمام عمل میں یہ یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے کہ عوامی شکایت کا روزانہ کی بنیاد پر ازالہ ہو اور اس میں تاخیر ممکن نہ ہو سکے۔

اس ایپلی کیشن کے استعمال کے لئے تربیتی سیشنز کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اس حوالے سے لاہور کی 267 یونین کونسلز کے نمائندوں کے لئے ایک پائلٹ پراجیکٹ کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ واسا اور لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی، میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور نے اس ایپلی کیشن کا استعمال شروع کردیا ہے۔ اس حوالے سے شاہد کا کہنا تھا کہ اگر سب کچھ درست رہا تو اس ایپلی کیشن کا دائرہ پنجاب بھر میں پھیلا دیا جائیگا۔

تحریر: ماہ رخ سرور (Mahrukh Sarwar)

Read in English

Authors
Top