Global Editions

اب کارکن بنیں گے بائیونک بوائز۔۔۔۔

جیسے جیسے روبوٹک ٹیکنالوجی میں ترقی اور اس پر اٹھنے والی لاگت میں کمی ہوتی جا رہی ہے اتنی ہی تیزی سے روبوٹک ایجادات میں بھی تیزی آتی جا رہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے اب کسی فیکٹری میں کام کرنے والے محنت کشوں کو بھی کسی حد تک روبوٹ بنایا جا سکے گا اور یہ روبوٹک ٹیکنالوجی کی یہ جہت بہت زیادہ قابل فہم اور کارکن دوست سمجھی جا رہی ہے۔ یونیورسٹی آف بارکلے کیلی فورنیا کے تحقیق کاروں نے حال ہی میں ایک ایسا Exoskeleton یعنی ظاہری ڈھانچہ تیار کیا ہے جو نہ صرف بائیونک ہے بلکہ وہ معذور افراد کو نقل و حرکت کے قابل بنانے میں بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بائیونک ڈھانچے کے ذریعے فیکٹری میں محنت کشوں کو کسی حد تک روبوٹک بھی بنایا جا سکتا ہے۔ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا بارکلے کے تحقیق کاروں نے اس حوالے Suit X تیار کیا ہے جس میں روبوٹک ٹیکنالوجیز تیار کی گئی ہیں۔ تحقیق کاروں نے تین طرح کے Suit X تیار کئے ہیں جن کی مدد سے کارکنوں کو زیادہ جسمانی مشقت کے ساتھ ساتھ کام کی جگہ پر ہونے والی انجریز سے بچایا جا سکتا ہے۔ تحقیق کاروں کی جانب سے تیار کردہ تین اقسام کے روبوٹک eXoskeleton تیار کئے ہیں جن میں backX، shoulderX اور legX شامل ہیں ان کی مدد سے انسانی جسم کے متذکرہ حصوں کے پٹھوں اور جوڑوں کو دباؤ سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے اور ان کی مدد سے کارکنوں زیادہ وزن کے اجسام آسانی سے اٹھانے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کو ہمایوں کازیرونی (Homayoon Kazerooni) لیب میں تیار کیا گیا ہے جس پر یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے پروفیسر برائے مکینکل انجیئنرنگ نے برسوں محنت کی ہے۔ اس روبوٹک سوٹ کے پہننے سے کمر کے پٹھوں پر دباؤ اور تناؤ میں ساٹھ فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے کازیرونی کا کہنا ہے کہ اگر آپ 75 پاؤنڈ تک کا وزن اٹھائیں تو آپ کمر کی تکلیف میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ اور اگر بیس پاؤنڈ کا وزن سارا دن اٹھائیں تو یہ آپ کو کمر کی انجری میں مبتلا کر سکتی ہے تاہم اس سوٹ کے پہننے سے کام کے دوران ایسی انجریز سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ SuitX کے تیار کنندگان نے حرکت سے معذور افراد کے لئے بھی ایک روبوٹک سوٹ تیار کیا ہے جسے فونکس Phoenix کا نام دیا گیا ہے۔ کمپنی نے Phoenix کے ہارڈوئیر کے بارے میں کسی قسم کی تفصیلات جاری نہیں کیں اور نہ ہی اس کی قیمت کے بارے میں آگاہ کیا ہے تاہم معلوم ہوا ہے کہ اس کی قیمت چالیس ہزار ڈالر ہو گی۔ روبوٹک ڈھانچے تیار کرنے کی کوشش کرنے والی یہ واحد کمپنی نہیں ہے کئی کمپنیاں جن میں بی ایم ڈبلیو بھی شامل ہے بائیونک ڈھانچے تیار کرنے کے لئے تجربات میں مصروف ہیں تاکہ کام کے مقامات پر کارکنوں کو انجریز سے محفوظ رکھا جا سکے اور ان کے کیرئیر کو بھی طویل کیا جا سکے۔

تحریر: ول نائیٹ (Will Knight)

Read in English

Authors

*

Top