Global Editions

ایک نئے طرز کے ایئرکنڈشنر سے بجلی کے اخراجات میں 70 فیصد تک کمی ممکن ہے

ریڈیشن خارج کرنے والی نئی ٹیکنالوجی سے نئی اور پرانی عمارتوں میں بجلی کے استعمال میں قابل قدر کمی ممکن ہے۔

سکائی کول سسٹمز (SkyCool Systems) کے شریک بانی ایلی گولڈ سٹین (Eli Goldstein) نے ایک روز کیلیفورنیا کے شہر برلنگیم (Burlingame) میں واقع اپنی کمپنی کے گیراج میں سے چند چوکور چاندی کے رنگ کے پینلز نکال کر پارکنگ لاٹ میں رکھ دیے۔

المونیم فوائل کی طرح کی کسی فلم سے ڈھکے ہوئے ان پینلز کو کئی نالیوں اور تھرمامیٹرز سے دھات کی ایک فریم کے ساتھ جوڑ کر ان کا رخ سورج کی طرف کردیا گیا تھا۔

اس روز درجہ حرارت 104 ڈگری فارنہائٹ تھا اور بے ایریا میں گرمی کی لہر شروع ہونے والی تھی۔ یہ پینلز چولہے کی طرح تپ رہے تھے۔

ان پینلز کا کام ہی یہی ہے۔ سکائی کول کے پینلز ہائی ٹیک آئينوں کی طرح ہیں، جنھیں ریڈيشن کے خلاء میں اخراج کے ذریعے ایئرکنڈشننگ سسٹمز سے زيادہ موثر کولنگ فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے عمارتوں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے درکار توانائی میں 10 سے 70 فیصد تک کمی ممکن ہے، جس کی وجہ سے امریکہ میں بجلی کی مانگ کے علاوہ گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں بھی کمی ہوگی۔

اس کے طریقہ کار کو سمجھنے کے لیے تھوڑی سائنس سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہر ایک چیز روشنی کی پوشیدہ شکل انفراریڈ ریڈیشن کی شکل میں گرمائش خارج کرتی ہے۔ جب ہم گرم کپڑے پہنتے ہیں، اس گرمائش کو روک لیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ہمارا جسم گرم رہتا ہے۔ کرہ ہوا (atmosphere) بھی گرمی کے کچھ حصے کی پانی کے مالیکیولز کی شکل میں عکاسی کرتے ہیں۔

تاہم درمیانی انفراریڈ رینج کی (یعنی کہ آٹھ اور تیرہ مائکرومیٹر کے درمیان طول موج (wavelength) رکھنے والی) چند لہریں خلاء کے ایک ایسے گوشے سے نکلنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں جسے سائنسدانوں نے “خلاء میں کھلنے والی کھڑکی” کا نام دیا ہے۔ اس زد میں ریڈیشن خارج کرنے والے مواد ریڈیشن کو خلاء کے ٹھنڈے حصوں میں، بلکہ ٹھنڈے اوپری ہوائی کرہ میں، خارج کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی سطح کا درجہ حرارت کم ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گاڑیوں کی کھڑکیوں اور گھاس پر اس وقت بھی برف جمتی ہے جب درجہ حرارت نقطہ انجماد (freezing point) سے زيادہ ہو۔

اس قدرتی میکانزم سے فائدہ اٹھانا اس وجہ سے کافی مشکل ثابت ہورہا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ سورج کی گرمی سے ٹھنڈ کے اثرات کم ہوجاتے ہیں۔ تاہم، 2014ء میں نیچر (Nature) نامی جریدے میں شائع ہونے والی ریسرچ کے مطابق سکائی کول سسٹمز کے سائنسدانوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے ایک ایسا مواد تیار کیا ہے جو 97 فیصد دھوپ کی روشنی کی عکاسی کرتے ہوئے کرہ ہوا سے اخراج کی زد میں انفراریڈ روشنی خارج کرتا ہے۔ چھت پر دھوپ میں رکھنے کے بعد اس مواد کا درجہ حرارت اطراف کے درحہ حرارت سے 4.9 ڈگری کم تھا، یعنی کہ فی مربع میٹر 40.1 واٹس کی کولنگ کی قوت پاور حاصل ہوئی تھی۔

اس پراجیکٹ پر کام کرنے والے تین ریسرچرز نے اس ٹیکنالوجی سے مالی فائدہ حاصل کرنے کے لیے سکائی کول سسٹمز قائم کی تھی۔ گولڈ سٹین اس کمپنی کے چیف ٹیکنالوجی افسر ہیں، آسوتھ رمن (Aaswath Raman) پیپر کے مصنف اور چیف ایگزیکٹو ہیں اور سٹان فورڈ یونیورسٹی میں الیکٹرکل انجنیئرنگ کے پروفیسر شان ہوئی فین (Shanhui Fan) اس کمپنی میں مشیر کے عہدے پر فائز ہیں۔

پچھلے ہفتے ان ریسرچرز نے نیچر انرجی (Nature Energy) میں شائع ہونے والے ایک پیپر میں ثابت کیا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کے پیمانےکو وسیع کرکے بہتے ہوئے پانی کو ٹھنڈا کیا جاسکتا ہے۔ وہ پینلز کے نیچے پانی کی پتلی نالیاں گزارنے کے بعد تین دن میں پانی کی درجہ حرارت میں پانچ ڈگری سنٹی گریڈ کی کمی کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو ایئرکنڈشنرز اور ریفریجریٹرز میں استعمال ہونے والے کنڈنسرز کی جگہ یا ان کے ساتھ استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ریسرچرز نے ایک ماڈل کے ذریعے ثابت کیا کہ لاس ویگاس کی ایک دو منزلہ عمارت میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے بجلی کی مانگ میں 21 فیصد کمی ممکن ہوسکتی ہے۔

اس سسٹم کو عمارتوں کے موجودہ سسٹمز میں نصب کرکے بھی بجلی کے اخراجات کو کم کیا جاسکتا ہے، اور اس کا مطلب ہے کہ اس سے ایک وسیع مارکیٹ کو فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے۔ امریکہ کی 14 فیصدہ بجلی رہائشی اور تجارتی عمارتوں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ 2012ء میں سکائی کول کے ریسرچرز کو 30 لاکھ ڈالر فراہم کرنے والے ڈپارٹمنٹ آف انرجی (Department of Energy) کے پراجیکٹ ARPA-E کو معلوم ہوا ہے کہ ریڈیشن خارج کرنے والے پینلز اس استعمال میں دس سے بیس فیصد کی کمی پیدا کرکے بجلی کی چوٹی کی مانگ میں کمی لاسکتے ہیں۔

پیسیفک نارتھ ویسٹ نیشنل لیباریٹری (Pacific Northwest National Laboratory) میں توانائی کے تجزیہ کار نک فرنینڈيز (Nick Fernandez) کہتے ہیں کہ نئی عمارتوں کی تعمیر کے دوران ریڈیٹیو کولنگ کے نظام انسٹال کرنے کی صورت میں بجلی کی زيادہ بچت ممکن ہے۔ ان کے 2015ء میں شائع ہونے والے سیمولیشن کے تجزیے کے مطابق اگر اس سسٹم کے ساتھ ایک ہائيڈرونک ریڈينٹ کولنگ سسٹم لگا دیا جائے، جس میں ہوا کے بجائے پانی کی گردش ہوتی ہے، تو گرمی، ٹھنڈک اور ہواداری کے اخراجات میں 70 فیصد تک بچت ممکن ہوگی۔

سکائی کول کے علاوہ دوسری کمپنیاں بھی اس قسم کے پراجیکٹس پر کام کررہی ہیں۔ فروری میں سائنس (Science) نامی جریدے میں شائع ہونے والے ایک پیپر میں یونیورسٹی آف کولوراڈو، بولڈر، کے انجنیئرز کی ایک ٹیم نے ایک ایسے گلاس پولیمرہائبرڈ مادے کی تفصیلات فراہم کی ہیں جس میں “دوپہر کے وقت دھوپ میں رکھنے کے بعد 93 (واٹ فی مربع میٹر) کی ریڈیٹیو کولنگ پاور حاصل ہوئی تھی۔” اس یونیورسٹی کی ایک اشاعت کے مطابق ان ریسرچرز نے بتایا ہے کہ انھوں نے فلم کی طرح کے اس مواد کے تخلیق کے اخراجات میں کمی لانے کا بھی طریقہ ڈھونڈ نکالا ہے، جس کی وجہ سے رہائشی اور تجارتی صنعتوں میں اس کا استعمال منافع بخش ثابت ہوسکتا ہے۔

سٹان فورڈ کی ٹیم کی طرح CU بولڈر کے ریسرچرز نے بھی ARPA-E سے رقم حاصل کی تھی، اور پیٹنٹ کی درخواست دینے کے بعد ریڈی کول (Radi-Cool) نامی کمپنی قائم کی۔ اس کمپنی کے سی ای او اور پیپر کے شریک مصنف، میکانیکل انجنیئرنگ کے پروفیسر رونگ گوئی یینگ (Ronggui Yang) کے مطابق کمپنی کے سائنسدانوں کے ممکنہ سرمایہ کاروں اور تخلیق کاروں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

سکائی کول کے ریسرچرز محدود وفاقی اور نجی فنڈنگ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور اب ان مواد کی اثراندازی کو بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس کمپنی کے سی ای او رمن نے اس کی قیمتوں کے بارے میں بات کرنے سے انکار کردیا، لیکن وہ یہ کہتے ہیں کہ طویل المیعاد توانائی کی بچت کی وجہ سے ابتدائی اخراجات جلد ہی وصول ہوجائیں گے۔ پیسیفک نارتھ ویسٹ لیب کی تحقیق میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ اگر سکائی کول کے چھت پر لگایا جانے والا ریڈیٹر پر 58 سینٹ فی مربع فٹ کی لاگت ہوئی تو ابتدائی اخراجات پانچ سال کے اندر وصول ہوجائیں گے۔

اس وقت سنٹرل ویلی میں برلنگیم سے دو گھنٹے کی دوری پر واقع کیلیفورنیا کے شہر ڈیوس میں اپنے تازہ ترین پینلز کی موجودہ ایئرکنڈشننگ اور تجارتی ریفریجریشن کے سسٹمز کے ساتھ استعمال کرنے کے حوالے کی ٹیسٹنگ جاری ہے۔

اس کے بعد سکائی کول اگلے سال کسی کسٹمر یا پارٹنر کو وسیع پیمانے پر مظاہرہ دینے کی توقع کرتے ہیں۔ وہ اپنی توجہ ان کاروباروں پر مرکوز کريں گے جنھیں وسیع پیمانے پر کولنگ کی ضرورت ہوتی ہے، جیسے کہ سپرمارکیٹس اور ڈیٹا سنٹرز، جہاں بہت کم وقت میں بہت زیادہ بچت ممکن ہے۔ ممکنہ صارفین سے مذاکرات جاری ہیں۔

تحریر: جیمز ٹیمپل

Read in English

Authors

*

Top