Global Editions

مشین لرننگ کے ذریعے پارکنسنز کا علاج کس طرح ممکن ہے؟

نام: کیتھارینا وولز (Katharina Volz)

عمر: 33 سال

ادارہ: اوکیمز ریزر (OccamzRazor)

جائے پیدائش: جرمنی

2016ء میں کیتھارینا وولز کو خبر ملی کہ ان کے ایک قریبی رشتہ دار پارکنسنز (Parkinson’s) کا شکار ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں سٹینفورڈ یونیورسٹی سے اپنا پی ایچ ڈی مکمل کیا تھا اور وہ اس وقت سٹیم سیلز پر ریسرچ کررہی تھیں۔ لیکن اس خبر سے سب کچھ بدل گيا۔

وولز کہتی ہیں کہ ”مجھے معلوم تھا کہ میں ان کے لیے بہت کچھ کرسکتی ہوں۔ بعض دفعہ ایسی خبریں سن کر آپ خود کو بہت بے بس محسوس کرتے ہيں۔ لیکن مجھے بے بسی کا احساس نہيں ہوا۔ میں جانتی تھی کہ میں اس بیماری کا علاج تلاش کرسکتی تھی اور میں نے اس کی ذمہ داری اٹھالی۔“ وولز اب اوکیمز ریزر نامی کمپنی کی سربراہی کررہی ہیں جو مشین لرننگ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پارکنسنز کا علاج تلاش کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

ماضی میں پارکنسنز کی تحقیق کا سب سے بڑا مسئلہ یہی رہا ہے کہ ماہرین صرف ایک ہی مخصوص پہلو پر توجہ دیتے تھے اور انہيں عام طور پر دوسرے پہلوؤں کے متعلق زيادہ معلومات نہيں ہوتی تھی۔ اس کے باعث ریسرچرز عام طور پر نئے انکشافات کی تحقیق نہيں کرپاتے تھے، جس کے نتیجے میں پارکنسنز کی پیش رفت کو سمجھنا مشکل ثابت ہوتا تھا۔

وولز کہتی ہيں کہ ”آپ کتنی ہی ذہین ریسرچر کیوں نہ ہوں، آپ کے لیے اس تمام معلومات کو جمع کرکے پارکنسنز کا ایک جامع نقشہ کھینچنا مشکل نہيں بلکہ ناممکن ہوگا۔ انسان اس قسم کے تجزيے کرنے کی صلاحیت نہيں رکھتے۔“

اس سلسلے میں مشین لرننگ بہت اہم ثابت ہوسکتی ہے۔ وولز کو جلد ہی احساس ہوگیا کہ کسی بھی موضوع پر شائع کیے جانے والے متعدد پیپرز اور ڈيٹا سیٹس پڑھنا اور ان کا تجزیہ کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہيں ہے، اور انہيں مصنوعی ذہانت کی ضرورت پڑے گی۔ وہ خود تو مشین لرننگ میں مہارت نہيں رکھتیں، لیکن انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ریسرچرز اور کمپیوٹیشنل بائیولوجی، ادویات کی تیاری، اور نیوروسائنس جیسے شعبہ جات کے ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم قائم کی۔ اس کے علاوہ، وولز گوگل کے سربراہ جیف ڈین (Jeff Dean) اور مائیکل جے فاکس فاؤنڈیشن (Michael J. Fox Foundation) جیسے سرمایہ کاروں سے فنڈنگ حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوئيں، جس کے بعد 2016ء میں اوکیمز ریزر کی بنیاد رکھی گئی۔

یہ کمپنی اس مرض کے علاج کے لیے دو طریقوں کا استعمال کررہی ہے۔ سب سے پہلے وہ پارکنسنز کے متعلق شائع شدہ مواد پڑھنے اور سمجھنے کے لیے پروگرام تیار کرہی ہے۔ اس کے علاوہ، وہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے جینومکس، پروٹیومکس، اور کلینیکل ڈيٹا سیٹس کے انضمام کے لیے مصنوعی ذہانت سے بھی فائدہ اٹھارہی ہے۔ ان کا مقصد اس مرض سے وابستہ نئے جینز اور نئے طریقہ کار کی پیشگوئی ہے جس کی لیباریٹری میں ٹیسٹنگ کی جاسکے۔

اس کے نتیجے میں ایک مکمل نقشہ تیار ہوسکتا ہے جس میں پارکنسنز کی وجوہات اور پیش رفت، ابتدائی مراحل میں تشخیص میں معاونت ثابت ہونے والی علامات، اور علاج کے مختلف طریقوں کی نشاندہی ممکن ہوسکے۔ اوکیمزریزر نے اس نقشے کو ”پارکنسم“ (Parkinsome) کا نام دیا ہے۔ یہ کمپنی اپنے نتائج کی تشخیص کے بعد ادویات کی تیاری کے لیے بائیوٹیک اور دواساز کمپنیوں کے ساتھ شراکت کرتی ہے۔

وولز اور ان کی ٹیم اس تکنیک کی مدد سے پارکنسنز کے علاوہ دوسرے پیچیدہ امراض کے لیے بھی اسی قسم کے نقشے تیار کرنا چاہتی ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ”کسی ایک مرض کی تحقیق سے دوسرے امراض کی تحقیق کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔ پارکنسنز عمررسیدگی کا مطالعہ کرنے کا ایک بہت اچھا طریقہ ہے۔“

تحریر: نیل وی پٹیل (Neel V. Patel)

تصویر: ڈیوڈ وینٹینر (David Vintiner)

Read in English

Authors

*

Top