Global Editions

برقی گاڑیوں کے اخراجات کم کرنے والی بیٹری بہت جلد متعارف ہونے والی ہے

ایک کمپنی اضافی مواد نکال کر بیٹری کی تخلیق کاری کے اخراجات کم کرنے کی کوششیں کررہی ہيں، اور اپنی پہلی فیکٹری بنانے کے لیے 2.2 کروڑ ڈالر حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوگئی ہے۔

2010ء میں ایم آئی ٹی کے دو مادیات کے سائنسدانوں نے بیٹریوں کے الیکٹروڈز میں غیرفعال مواد نکال کر کم قیمت اور بہتر بیٹریاں بنانے کے لیے 24M نامی کمپنی قائم کی تھی۔

اس بات کو آٹھ سال ہوگئے ہیں لیکن اب تک اس سٹارٹ اپ کمپنی کی مصنوعات قابل فروخت نہيں ہیں۔ لیکن اب چیف ایگزیکٹو رک فیلڈٹ (Rick Feldt) نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ ان کی کمپنی کے پائلٹ لیب میں بنائی جانے والی لیتھیم آئن کی بیٹریاں توانائی کی کثافت کے اعتبار سے مارکیٹ میں دستیاب بیٹریوں سے کہیں آگے نکل گئی ہیں۔ 24M اگلے سال ایک صنعتی پارٹنر کے ساتھ کام کرتے ہوئے ایک چھوٹا سا تجارتی پلانٹ تیار کرنے والے ہیں، اور انہيں امید ہیں کہ ان کی مصنوعات 2020ء تک، یعنی پانچ سال کی تاخیر کے بعد، دستیاب ہونا شروع ہوجائيں گے۔

زیادہ توانائی کی کثافت کی وجہ سے بیٹریوں کی قیمت اور لاگت دونوں ہی کم ہوں گی، اور وہ زيادہ جلدی چلیں گی، جس کا مطلب ہے کہ برقی گاڑیاں چلانے والوں کو پریشانی کا سامنا نہيں ہوگا، اور فونز کو دن بھر چلنے کے لیے بار بار چارج کرنے کی ضرورت نہيں رہے گی۔

یہ کمپنی جلد ہی 2.2 کروڑ ڈالر کی فنڈنگ حاصل کرنے میں کامیاب ہونے کے متعلق اعلان کرنے والی ہے، جسے وہ کارخانوں اور توانائی کی کثافت کو مزید بڑھانے کے لیے تحقیق میں لگانے والی ہے۔ اس سرمایہ کاری میں دو جاپانی کمپنیوں، یعنی سیرامکس اور الیکٹرانکس کی کمپنی کائیوسیرا گروپ اور کپڑے بنانے والی اور تجارتی کمپنی اٹوچو، کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔

ان بیٹریوں کو ابتدائی طور پر برقی گاڑیوں میں استعمال کیا جائے گا، لیکن اس کمپنی کے مطابق اس ٹیکنالوجی کو آگے چل کر گرڈ توانائی کے ذخیرے کو بہتر بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

24M لیتھیم آئن کی ڈیزائن کی پیچیدگی کو کم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ٹیسلا کی گاڑیوں میں استعمال ہونے والی غیرپیچیدہ بیٹری میں سیل میں برقی رو لے جانے والے الیکٹروڈز کو تہوں میں ترتیب دینے کے بعد انہيں آپس میں باندھ دیا جاتا ہے۔ 24M مختلف قسم کے مواد استعمال کرکے چار سے پانچ گنا زیادہ موٹے الیکٹروڈز بنا کر ان اینوڈز اور کیتھوڈز کو ایک ساتھ ایک ہی سال میں جوڑ سکتے ہیں۔

اس طرح تخلیق کاری کے کئی مراحل ختم ہوجائيں گے، اور پیتل، الومنیم، اور پلاسٹک جیسے غیرفعال مواد کی ضرورت کافی حد تک کم ہوجائے گی۔ اس طرح اخراجات اور توانائی کی ضروریات میں کمی واقع ہوگی، اور الیکٹروڈز کا بیشتر حصہ توانائی ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہوگا۔

24M کی بیٹریوں کی توانائی کی کثافت 280 اور 300 واٹ گھنٹے فی کلوگرام ہے، جو مارکیٹ میں موجود اعلٰی معیار کی بیٹریوں سے زیادہ ہے۔

یہ کمپنی ایک مختلف طریقہ کار پر بھی کام کررہی ہے جس کے ذریعے 500 واٹ گھنٹہ فی کلوگرام توانائی کی کثافت رکھنے والی لیتھیم آئن کی بیٹریاں تخلیق ہوسکیں گے۔ ان کے مطابق، وہ لیب میں یہ بات ثابت کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں کہ 350 واٹ گھنٹہ فی کلوگرام سے زيادہ کثافت رکھنے والی بیٹریاں بنائی جاسکتی ہیں۔ لیکن ان بیٹریوں کو ممکن بنانے کے لیے الیکٹروڈز کے درمیان بہت موٹا سیپریٹر ڈالنے کی ضرورت ہے، جسے تجارتی سطح پر کامیاب ہونے کے لیے چھوٹا کرنا ہوگا۔

دوسری کئی کمپنیاں اور محققین زیادہ توانائی کی کثافت کے مختلف طریقہ کار اپنانے کی کوشش کررہے ہیں، جن میں متبادل الیکٹروڈ کی کیمیات اور ٹھوس الیکٹرولائٹس دونوں شامل ہیں۔

یہ بات اب تک واضح نہيں ہے کہ کونسی کمپنیاں اور معیارات زیادہ کثافت کی دوڑ میں آگے نکلیں گے، لیکن یہ بات طے ہے کہ جو کمپنیاں ایسا کرنے میں کامیاب ہوجائيں گی، وہ آلات، گرڈز، گاڑیوں اور شاید ہوائی جہازوں کی بڑی تیزی سے بڑھنے والی مارکیٹس پر حاوی ہو جائيں گی۔

تحریر: جیمز ٹیمپل (James Temple)

Read in English

Authors
Top