Global Editions

ٹک ٹاک کے ماڈریشن کے قواعد سے سیاسی مشمولات کو دبانے کی پالیسی واضح ہوگئی

جرمن اشاعت نیٹزپولیٹک (Netzpolitik) نے حال ہی میں ٹک ٹاک کے نئے ماڈریشن کے قواعد کا اقتباس شائع کیا ہے۔ اس دستاویز سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس ایپ کے ماڈریٹرز کو سیاسی اور احتجاجوں سے متعلق مشمولات حذف کرنے کی واضح ہدایات تو جاری نہيں کی گئی ہیں لیکن انہيں ان ویڈیوز کو مقبول ہونے سے روکنے کی ہر ممکنہ کوشش کرنے کا ضرور کہا گيا ہے۔

پس منظر: چینی ویڈیو ایپ ٹک ٹاک بہت زيادہ مقبول ثابت ہوئی ہے اور اس وقت امریکی قومی سیکورٹی ادارے اس ایپ کی تفتیش کررہے ہيں۔ سیاست دانوں کو اس بات کا ڈر ہے کہ ٹک ٹاک کو دوسرے ممالک سے جاری کردہ غلط معلومات کی تقسیم کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، جریدہ گارڈین (Guardian) کی ایک تحریر میں ٹک ٹاک کی طرف سے بیجنگ کو ناپسند مشمولات کی سینسرشپ کے تذکرے کے بعد اس ایپ کے متعلق خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ٹک ٹاک کی پیرنٹ کمپنی کا کہنا ہے کہ گارڈین میں شائع ہونے والی معلومات بہت پرانی ہے اور اس کے بعد سے ان کی پالیسیوں میں کافی تبدیلی آچکی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ان کا دعوی سچ ہو، لیکن نیٹزپولیٹک میں شائع ہونے والے قواعد اور گارڈین کی معلومات میں زیادہ فرق نہيں ہے۔

خبر: نیٹزپولیٹک کو معلومات فراہم کرنے والے ایک مخبر کے مطابق، ٹک ٹاک پر مشمولات کو چار زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے: ”حذف شدہ،“ ”صرف خود کو نظر آنے والا،“ (یعنی دوسرے افراد ان مشمولات کو نہيں دیکھ سکتے)، ”تجویز نہيں کی جاتی،“ اور ”فیڈ کے لیے غیرموزوں۔“ اگر کسی ویڈیو کو ان آخری دو زمروں میں شامل کردیا جائے تو ٹک ٹاک کا سرچ انجن اسے انڈیکس نہيں کرے گا۔ کسی ویڈیو کو ”فیڈ کے لیے غیرموزوں“ کے زمرے میں شامل کرنے کا مطلب ہے کہ اسے بذریعہ سرچ فنکشن تلاش کرنا بہت مشکل ثابت ہوگا۔

ان رہنما اصولوں کے تحت عام انتخابات کے دوران جاری کردہ سیاسی مشمولات کو ”تجویز نہيں کی جاتی“ کے زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ سیاسی مشمولات متعصب خطابوں اور پارٹی کے اشتہارات جیسے مواد پر مشتمل ہيں۔ پولیس سے تعلق رکھنے والے مشمولات، بشمول کسی پولیس سٹیشن یا قید میں بنائی جانے والی ویڈيوز، پر ”فیڈ کے لیے غیرموزوں“ کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔

اس دستاویز میں کچھ ترامیم بھی شامل ہیں۔ ایک زمانے میں ہنگاموں اور احتجاج سے وابستہ مواد، بشمول تبت، تائیوان، شمالی آئرلینڈ اور تیاننمین سکوائر کے متعلق ویڈیوز، پر ”تجویز نہيں کی جاتی“  کا لیبل لگایا جاتا تھا۔ لیکن اب نیٹز پولیٹک میں شائع ہونے والے رہنما اصولوں کے تحت اس قسم کے مواد کو اس زمرے کے بجائے ایک نئے زمرے میں شامل کیا جائے گا جسے ”حقیقی دنیا میں نقصان دہ“ کا نام دیا گیا ہے۔ ماڈریٹرز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اس قسم کی ویڈیوز کو ”فیڈ کے لیے غیرموزوں“ کے طور پر نشان زد نہ کیا جائے۔

ٹک ٹاک کا کیا کہنا ہے؟ ٹک ٹاک نے نیٹزپولیٹک کی رپورٹ کے جواب میں یہ دعوی کیا ہے کہ مشمولات کی ماڈریشن کے دوران سیاسی پہلوؤں کو خاطر میں نہيں لیا جاتا ہے، اور ان کے ماڈریشن سے وابستہ فیصلوں میں کسی بھی بیرونی حکومت کا عمل دخل نہيں ہے۔ ٹک ٹاک کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ سیاسی مظاہروں سے وابستہ ویڈیوز حذف نہيں کرتے۔ لیکن یہ سوال اب بھی قائم ہے کہ کیا ٹک ٹاک اپنے صارفین کی اس قسم کے مواد تک رسائی کرنے سے روکتا ہے یا نہیں؟

تحریر: اینجلا چین (Angela Chen)

تصویر: اے پی / ڈا چنگ (AP/ Da Qing)

Read in English

Authors

*

Top