Global Editions

مصنوعی ذہانت کے معاونین کم فہم کیوں ہيں؟ ہم اس کی وجہ جاننے والے ہیں

ایک نئے ٹیسٹ سے ثابت ہوسکتا ہے کہ جب زبان کی بات ہورہی تو آج کے بہترین مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی صلاحیتیں بنیادی طور پر محدود ہيں۔

سری اور الیکسا کو اب تک مکمل طور پر کامیابی حاصل نہيں ہوئی ہے، لیکن امید کی جاتی ہے کہ مشین لرننگ میں متواتر پیش رفت کے بعد وہ بہت جلد اچھے معاون ثابت ہوسکیں گے۔ تاہم ایک نئے ٹیسٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کے نظاموں کو زبان پر عبور حاصل کرنا ہے تو ہمیں ایک بنیادی طور پر مختلف طریقہ کار کی ضرورت ہوگی۔

سیٹل میں واقع غیر منافع بخش تنطیم ایلن انسٹی ٹیوٹ برائے مصنوعی ذہانت (Allen Institute for AI - AI2) میں محققین کی طرف سے تیار کرد ہ AI2 ریزنگ چیلنج (AI2 Reasoning Challenge - ARC) میں ابتدائی سکول کی سطح کے ملٹپل چوائس کے سوالات پوچھے جائيں گے۔۔ ہر سوال میں کچھ حد تک دنیا کے متعلق بنیادی سمجھ بوجھ کی ضرورت ہوگی۔ ایک متعلقہ ریسرچ پیپر میں اس پراجیکٹ کے متعلق تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔

ایک سوال ملاحظہ کريں: "مندرجہ ذیل میں سے کون سی چیز قدرتی مواد سے نہیں بنائی گئی ہے؟ (A) کاٹن شرٹ (B) ایک لکڑی کی کرسی (C) پلاسٹک کا چمچ (D) گھاس کی ٹوکری"۔

آپ کے لیے اس سوال کا جواب دینا صرف اسی صورت میں آسان ہوگا اگر آپ کو معلوم ہوگا کہ پلاسٹک زمین میں اگتا نہيں ہے۔ یہ اس قسم کا سوال ہے کہ اس کا جواب کوئی بچہ بھی آسانی سے دے سکتا ہے۔

وائس معاوننین، چیٹ پاٹ اور ترجمہ کرنے کے سافٹ ویئر تفہیم کی یہ صلاحیت نہيں رکھتے ہيں، اور یہی وجہ ہے کہ وہ بہت جلدی بوکھلا جاتے ہیں۔

مشین لرننگ پر انحصار کرنے والے زبان کے نظام اس صورت میں ایسے سوالات کے صحیح صحیح جواب دے سکتے ہيں اگر انہوں نے ماضی میں اس قسم کی چیزیں دیکھی ہوں۔ مثال کے طور پر کئی ہزار آئی ٹی سپورٹ کے چیٹس پر تربیت حاصل کرنے والا پروگرام چند مخصوص صورتوں میں ٹیک سپورٹ کے معاون کے طور پر کام کرسکتا ہے۔ تاہم اگر اس سے ایسا کوئی سوال پوچھ لیا جائے جس میں زيادہ وسیع پیمانے پر معلومات کی ضرورت ہو تو وہ آپ کو جواب نہيں دے پائے گا۔

اے آر سی کے پراجیکٹ کے لیڈ محقق پیٹر کلارک (Peter Clark) کہتے ہیں "زبان کے معاملے میں ہمیں پوری تصویر دیکھنے کے لیے بنیادی عقل و فہم کی ضرورت ہوتی ہے۔ مشینیں یہ صلاحیت نہيں رکھتی ہیں، اور انہیں صرف وہی نظر آتا ہے جو ان کے سامنے صاف صاف لکھا ہوا ہو۔ اس کا مطلب ہے کہ انہیں کسی بھی متن کے پیچھے اس کے مفروضات بھی نظر نہیں آتے ہیں۔"

یہ نیا ٹیسٹ AI2 کی طرف سے مصنوعی ذہانت کے نظاموں کو دنیا کے متعلق سمجھ بوجھ فراہم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اس کی اہمیت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی زبان کے نظام کی سمجھ بوجھ کا تعین کافی پیچیدہ ثابت ہوسکتا ہے۔

مثال کے طور پر، جنوری میں مائیکروسافٹ اور علی بابا کے محققین نے ایسے سوال و جواب کے پروگرام تیار کیے جن کی سٹین فورڈ سوال کے ڈیٹا سیٹ نامی ایک چھوٹے سے ٹیسٹ میں انسانوں کے مقابلے میں کارکردگی بہت بہتر رہی۔ اس کے ساتھ ہی اخبار کی سرخیوں میں اعلان کیا گيا کہ مصنوعی ذہانت کے پروگراموں کی پڑھنے کی صلاحیت انسانوں سے بہت بہتر ہے۔ لیکن جب زیادہ پیچیدہ یا معلومات کے دوسرے ذرائع پر انحصار کرنے والے سوالات پوچھے گئے تو یہ پروگرام ناکام ہوگئے۔

ٹیکنالوجی کی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا سلسلہ اسی طرح جاری رکھیں گی۔ مائیکروسافٹ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ایک ایسا سافٹ ویئر تیار کیا ہے جو انگریزی زبان کی خبروں کا چینی زبان میں، اور چینی زبان کی خبروں کا انگریزی زبان میں ترجمہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور آزاد رضاکاروں کے مطابق اس کے نتائج پیشہ ورانہ مترجموں کے کام کے برابر ہیں۔ درستی کی اس شرح کے حصول کے لیے اس کمپنی کے محققین نے اعلی قسم کی ڈیپ لرننگ تکنیکوں کا فائدہ اٹھایا۔ یوں تو اس قسم کے نظام کے کافی زيادہ فوائد سامنے آسکتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر اسے کوئی عام گفتگو یا کسی مختلف موضوع کے متعلق متن فراہم کیا جائے، تو اس سسٹم کو کافی دشواریوں کا سامنا ہوگا۔

نیو یارک یونیورسٹی کے پروفیسر گیری مارکس (Gary Marcus) نے مصنوعی ذہانت میں بنیادی عقل و فہم کی اہمیت پر بہت زور دیا ہے، اور ان کے مطابق AI2 کے نتائج بہت امید افزا ہیں۔ ان کے کہنا ہے "میں سمجھتا ہوں کہ مشین لرننگ کے شعبے میں جو سرسرے قسم کے معیار لگائے گئے ہیں، یہ اس کا بہت بڑا توڑ ہے۔ اس سے مصنوعی ذہانت کے محققین زیادہ محنت کرنے اور زیادہ بہتر نتائج کا مظاہرہ کرنے پر مجبور ہوجائيں گے۔"

تحریر: ول نائٹ( Will Knight)

Read in English

Authors
Top