Global Editions

سمندری کچرےکے خلاف جنگ

چند گنے چنے سند یافتہ غوطہ خور 1980ء کی دہائی سے بحیرہ عرب سے کچرا صاف کرنے کی کوششیں کررہے ہيں، لیکن ابھی بھی بہت کام باقی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی مچھیروں کی آبادی کے ساتھ شراکت داری کرکےسمندری علاقہ جات کا ماحول دوست طریقے سے انتظام اس مسئلہ کا پائیدار حل ثابت ہوسکتا ہے۔

غوطہ خوروں کو سمندر کی گہرائیوں میں کتنا کچرا ملتا ہے؟ آپ سنیں گے تو آپ حیران رہ جائيں گے۔ سمندر کی سطح پر سٹائروفوم کے برتن، کانٹے، چمچے، پلاسٹک کی تھیلیاں اور چپل جوتے تو ملیں گے ہی، لیکن جیسے جیسے آپ مزید گہرائی کی طرف جائيں گے، آپ کو پلاسٹک کی تھیلیاں، چپس اور بسکٹس کے خالی پیکٹ، اور مچھلی کے جال بھی نظر آئيں گے۔ اس کے علاوہ زنانہ زیرجامہ جیسی چیزیںبھی ہوں گی جنہيں دیکھ کر آپ سوچ میں پڑ جائيں گے کہ یہ سب یہاں کیسے پہنچا ۔

غوطہ خوری کے پیشہ ورانہ مرکز سکوبا ایڈوینچرز (Scuba Adventures) کے سربراہ سید منظور احمد کا شمار نامور سکوبا ڈائیونگ کے تربیتی مرکز پروفیشنل ایسوسی ایشن آف ڈائیونگ انسٹرکٹرز ( Professional Association of Diving Instructors - PADI) کے ان گنے چنے پاکستانی غوطہ
خوروں میں ہوتا ہے جنہوں نے سمندر سے ملبے کا خاتمہ کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔

وہ 1998ء سے سمندر کے فرش کی صفائی کررہے ہيں، لیکن اس کے باوجود بھی وہ اعتراف کرتے ہيں کہ ابھی بھی بہت کام باقی ہے۔

46 سالہ ثاقب محمود اور ان کے تین ساتھی احمد کے ساتھ مل کر پچھلے دو سالوں سے بلوچستان کے دریائے حب سے نو کلومیٹر دور بحیرہ عرب میں واقع چرنا آئی لینڈ کے اطراف کچرا اٹھانے کی کوششیں کررہے ہیں۔

محمود نے 2016ء میں تربیت فراہم کرنے کے لیے سرٹیفکیشن حاصل کرلی تھی، اور انہوں نے حال ہی میں سمندری تحفظ پر کام کرنے کے لیے کلائیمیٹ ایکس (Climate X) نامی ایک تنظیم بنائی ہے۔ اس کے علاوہ وہ ماحولیاتی و ثقافتی سیاحت، تعلیم اور ایڈوکیسی جیسے کئی اقدامات پر بھی کام کررہے ہیں۔

روایات اور سائنس کا انضمام
سمندروں کی صفائی آسان کام نہيں ہے، اور اب تک ایسی کوئی مشین ایجاد نہيں ہوئی ہے جس کی مدد سے سمندری فرش سے چٹانوں، مونگوں اور حیوانات کو نقصان پہنچائے بغیر کچرے کی صفائی کی جاسکے۔

محمود بتاتے ہیں کہ اس وقت مقامی معلومات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان مقامات کی نشاندہی کی جاتی ہے جہاں مچھیرے زیادہ نظر آتے ہيں، کیونکہ وہ ایسے علاقوں ميں اپنے جال بھی یہاں چھوڑ دیتے ہيں۔ اس کے علاوہ وہ اور ان کی ٹیم سونر آلات کی مدد سے سمندری فرش کا جغرافیائی مطالعہ بھی کرتے ہيں۔ ان کا کہنا ہے ‘‘اگر بحری فرش پتھریلا ہوگا اور اس کی گہرائی کم ہوگی تو اس میں پلاسٹک اور مچھلی پکڑنے کے جالوں کے پھنسنے کا امکان بھی زيادہ ہوگا۔’’
محمود اور ان کی ٹیم پاکستان بھرسے 700 سے زائد سند یافتہ سکوبا ڈائیورز میں سے دو درجن کے قریب غوطہ خوروں کو تربیت بھی فراہم کررہی ہے۔ وہ بڑے افسوس کے ساتھ کہتے ہیں ‘‘ہم جتنی بھی صفائی کرلیں، سمندر کی لہریں کہيں نہ کہیں سے مزید کچرا لے کر آہی جاتی ہیں۔’’ لیکن اس کے باوجود بھی انہوں نے اپنی صفائی کی مہم ترک نہيں کی۔

سمندر سے نکلنے والے کچرے کو زمین پر لانے کے بعد، احمد اسے بڑے احتیاط سےچھانٹتے ہیں اور اس کچرےکا وزن کرتےہيں اور ریکارڈز تیار کرتے ہيں۔ ان کے پاس 2013ء سے ریکارڈز موجود ہيں، اور وہ بتاتے ہيں ‘‘یہ اس وجہ سے بہت ضروری ہے کیونکہ اگر آگے چل کر کوئی سمندر صاف کرنے کا فیصلہ کرے یا پلاسٹک پر پابندی لگانے کا فیصلہ کرے، تو ہمارے پاس ڈیٹا موجود ہوگا۔’’ وہ مزید بتاتے ہيں کہ یہ لوگوں میں آگاہی پھیلانے کا واحد طریقہ ہے۔
احمد اور محمود دونوں ہی پراجیکٹ آگاہی (AWARE) کی کچرے کے خلاف مہم یعنی ڈرائیو اگینسٹ ڈیبری (Dive Against Debris) کی ٹیم کا حصہ ہیں، جس میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے سکوبا ڈائیورز کو سمندری ملبے کی صفائی اور ہر 60 منٹ لمبے غوطوں کے دوران جمع کردہ کچرے کی اقسام، مقدار اور مقامات کے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ یہ پروگرام 2011ء میں شروع ہوا تھا، اور اب تک 114 ممالک سے تعلق رکھنے والے 50,000 سے زائد غوطہ خور دس لاکھ سے زيادہ چیزوں پر مشتمل کچرا جمع کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

گھوسٹ مچھلی پکڑنے کے جال
غوطہ خوروں کو جتنی پریشانی گھوسٹ جالوں کی وجہ سے ہوتی ہے، وہ کسی دوسری قسم کے کچرے سے نہیں ہوتی۔

جنگلی حیات کے تحفظ کی بین الاقوامی تنظیم ڈبلیو ڈبلیو ایف یعنی ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچرپاکستان کے سمندری پروگرام کے مینیجر عمیر شاہد بتاتے ہیں کہ متروکہ، گم شدہ یا پھینکے جانے والے مچھلی پکڑنے کے سامان کو اس وجہ سے ‘گھوسٹ جال’ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ سمندر میں نظر نہيں آتے ہيں، جس وجہ سے ان میں سمندری جانور پھنس جاتے ہیں۔’’وہ مزید بتاتے ہيں کہ ان جالوں میں پھنسنے والے کسی بھی جانور کا بچنا ناممکن ہے، چاہے وہ کچھوے ہوں، یا ڈولفن یا وہیل ہوں، یا شارک یا رے ہوں۔

محمود کہتے ہيں ‘‘اگر یہ بے پرواہی اور کوتاہی جانورں کے ساتھ ظلم نہیں ہے تو اور کیا ہے؟’’ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام اور ادارہ برائے خوراک و زراعت کے اندازوں کے مطابق سمندر کے مجموعی کچرے کا 10 فیصد حصہ ان مچھلی پکڑنے کے جالوں پر مشتمل ہے۔

وہ کہتے ہيں’’لوگ زمینی جانوروں پر ظلم کی مذمت کرتے ہیں، لیکن سمندری جانوروں کے ساتھ ہونے والے ظلم پر کوئی بات نہيں کرتا۔ جال میں پھنسنے والا کچھوا سانس لینے کے لیے اوپر نہيں آسکتا ہے، جس کی وجہ سے وہ ڈوب جاتا ہے، اور بہت تکلیف دہ موت مرتا ہے۔‘‘ وہ مزید بتاتے ہيں کہ انہوں نے اکثر کچھوؤں کو اس حالت میں دیکھا ہے۔

تاہم گھوسٹ جالوں کو نکالنا ہر کسی کے بس کی بات نہيں ہے، اور صرف تربیت یافتہ افراد ہی یہ کام کرسکتے ہيں۔ احمد بتاتے ہيں ‘‘اس کا ایک خاص طریقہ ہے۔ غوطہ خور کو پانی کے نیچے چاقو سے جال کو اس طرح کاٹنا چاہیے کہ بادبان کو کم سے کم نقصان پہنچے۔ رسیوں کو کھینچ کر اوپر کھینچا نہیں جاسکتا۔’’ وہ مزيد بتاتے ہیں کہ احتیاط نہ برتی جائے تو غوطہ خور خود بھی جال میں پھنس کر ڈوب کر مر سکتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ اناڑیوں کا کام نہيں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاونتی غوطہ خوروں کو تعینات کیا جاتا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان اولیو رڈلی پراجیکٹ (Olive Ridley Project) کے ساتھ شراکت کر کے سمندر اور کچھوؤں کے گھونسلوں سے مچھلی پکڑنے کے سامان کے محفوظ بازیابی کے سلسلے میں مقامی مچھیروں کے ساتھ کام کررہا ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان کہتے ہيں ’’2016ء سے اب تک سمندر سے 1,000 کلوگرام سامان نکالا جاچکا ہے۔‘‘

پلاسٹک کا بھنور
سمندر کی تباہی میں صرف مچھلی پکڑنے کے جالوں کا ہی ہاتھ نہيں ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق ہر سال اسی لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ پلاسٹک سمندروں تک پہنچتا ہے، جس میں سے 80 فیصد زمین سے آتا ہے۔ اس ملبے میں سے 236،000 ٹن مائیکروپلاسٹک پر مشتمل ہے۔

احمد کہتے ہيں’’بڑی تھیلیوں کی وجہ سے سمندری جانوروں کا دم تو گھٹتا ہی ہے، لیکن سب سے زيادہ نقصان ان مائیکروپلاسٹکس (جو 0.5 ملی میٹر اور 5 ملی میٹر کے درمیان ہيں) کی وجہ سے پہنچتا ہے جو نظر نہيں آتے۔ جب سمندری جانور یہ پلاسٹک کھا لیتے ہيں تو آخرکار یہ پلاسٹک ہماری غذا میں بھی شامل ہوجاتا ہے۔ بعض دفعہ کچھوے جیلی فش اور پلاسٹک کی تھیلیوں کے درمیان امتیاز نہيں کرپاتے۔‘‘

احمد بتاتے ہیں کہ آج سمندر میں پلاسٹک کے کچرے کے مستقل گردش کرنے والے بھنور پیدا ہوچکے ہيں۔ اس وقت دنیا میں پانچ ایسے بھنور موجود ہيں، جن میں سے دو بحر شمال میں اور دو بحر الکاہل میں واقع ہیں۔ ان میں سے گریٹ پیسیفک کے کچرے کے ڈھیر (جس کی پیشگوئی 1970ء کی دہائی میں کی گئی تھی، لیکن انکشاف 1997ء میں چارلز مور نے کیا تھا) کا رقبہ 16 لاکھ مربع کلومیٹر ہے، جو فرانس کے رقبے سے تین گنا زیادہ ہے۔ پانچویں بھنور، جس کا انکشاف بحر ہند میں 2010ء میں ہوا تھا، افریقہ اور آسٹریلیا کے درمیان واقع ہے۔

مچھلی کی تعداد میں کمی
محمود پچھلے 20 سال سے پاکستان کے علاوہ جنوبی افریقہ، کینیا، زینزی بار اور تنزانیہ جیسے ممالک میں بھی غوطہ خوری کررہے ہیں، اور ان کے مطابق اس دوران مچھلیوں اور مچھلیوں کی اقسام کی تعداد میں قابل قدر کمی نظر آئی ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ اس کی سب سے بڑی وجہ پانی کا معیار ہے۔ ‘‘کائی میں اضافہ ہورہا ہے، جس سے پانی کا رنگ تبدیل ہو کر سبز ہورہا ہے۔ یہ سمندر میں صنعتی اور بلدیاتی اخراج کی مقدار بڑھنے کی علامت ہے، جو پانی میں آکسیجن کی کمی اور سمندری پودوں اور جانوروں کے نقصان کی وجہ بن رہی ہے۔’’

چرنا آئی لینڈ
پچھلے چند سالوں میں چرنا آئی لینڈ میں سیاحت میں اچانک اضافہ ہوگیا ہے، اور احمد جیسے سمندری محافظوں کے مطابق اس کی وجہ سے اس جزیرے اور اس کے اطراف کا پانی تباہ و برباد ہوگیا ہے۔ اس وقت دو درجن سے زيادہ کمپنیاں نوجوانوں کو اس جزیرے تک لے آتی ہیں، جہاں وہ چٹانوں سے چھلانگیں لگا کر سنارکلنگ سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

پاکستان کی پہلی خاتون سکوبا ڈائیور روشین علی، جنہوں نے 2004ء میں غوطہ خوری شروع کی تھی، کہتی ہیں ‘‘نوزائیدہ مونگوں کے اوپر ہی لنگر ڈال دیا جاتا ہے، اور سیاح پانی میں پلاسٹک کے ریپر اور پانی کی بوتلیں پھینکنا شروع کردیتے ہیں۔’’ روشین اب پاکستان میں نہیں رہتی ہیں، لیکن ان کا شوق اسی طرح برقرار ہے۔

انہیں چرنا کے نئے مونگوں پر سیاحت کے منفی اثرات دیکھ کر بہت تکلیف ہوتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ‘‘تیراک، سنارکلرز اور بادبانوں پر چلنے والے افراد تصویریں کھینچنے کے لیے ان مونگوں پر کھڑے ہوجاتے ہيں، جس کی وجہ سے وہ ٹوٹ جاتے ہیں۔’’ وہ مزید بتاتی ہیں کہ اگر آلودگی کی رفتار اسی طرح برقرار رہی تو چند سالوں میں چرنا کے اطراف کچھ بھی نہيں بچے گا۔ ‘‘ہم نے حکومت سے اس علاقے کو سمندری قومی تحفظ کا علاقہ قرار دینے کی درخواست کی تھی، لیکن انہیں بالکل بھی پرواہ نہيں ہے۔’’ روشین امید کرتی ہیں کہ نئی حکومت سمندر کی تباہ کاری کو روکنے کے لیے اقدامات کرے گی۔

مقامی طور پر منظم کردہ سمندری علاقہ جات
احمد اور محمود دونوں ہی اچھی طرح جانتے ہیں کہ سمندری ملبے کے خلاف جنگ میں وقت ان کا ساتھ نہيں دے گا۔ پابندیوں کی نہ تو کوئی قانونی حیثیت ہے، اور نہ ہی ان کا احترام کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق آلودگی کا واحد حل یہی ہے کہ ہم مقامی باشندوں کے ساتھ شراکت کرکےکچرے کو سمندر میں جانے سے روکیں۔

انہوں نے سینڈسپٹ اور فرینچ بیچ کے درمیان 6,000 افراد کی آبادی پر مشتمل عبدالرحمان گوٹھ میں واقع جھونپڑیوں میں رہنے والے مچھیروں سے مدد حاصل کرنے کی ٹھانی۔ احمد اور محمود نے ان مچھیروں کے ساتھ شراکت داری کر کے ان کے گاؤں کو ایک سمندری تحفظاتی علاقے، یعنی مقامی طور پر منظم کردہ سمندری علاقے میں تبدیل کرنے کی مہم شروع کی۔

اس مقامی طور پر منظم کردہ علاقے کے منصوبےمیں پوری کمیونٹی کو مالی طور پر فائدہ پہنچانے کا بھی انتظام ہے۔ احمد بتاتے ہیں’’ہم یہ بات اچھی طرح جانتے ہيں کہ مچھیرے جن سمندری وسائل کا اتنے عرصے سے فائدہ اٹھارہے تھے، وہ اب ختم ہورہے ہیں، اور ان کی غربت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ہم ان لوگوں کو پیسے کمانے کا ایک متبادل اور پائیدار طریقہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتانے کی کوشش کررہے ہيں کہ زیادہ مچھلی پکڑنے اور جال سمندر میں چھوڑدینے سے سمندری جانوروں کے علاوہ ان کے ذریعہ معاش کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔‘‘

دونوں غوطہ خوروں نے مچھیروں کے ساتھ مل کر گاؤں میں دو کمروں پر مشتمل قیام گاہ کی بنیاد رکھی ہے، جو سیاحوں کو کرائے پر دی جاتی ہے۔ احمد بتاتے ہیں ’’ہم نے اشتہاری مہم نہيں چلائی ہے، لیکن اب تک 100 سے زیادہ افراد نے اس قیام گاہ سے فائدہ اٹھایا ہے۔ ہمارا صرف ایک ہی اصول ہے: سیاح نہ تو اپنا کھانا ساتھ لاسکتے ہیں اور نہ ہی ایک دفعہ استعمال ہونے والا پلاسٹک۔ گاؤں کے رہائشی کھانے کے آرڈر لے کر ان کے لیے کھانا پکائيں گے۔‘‘

اس کے علاوہ، کایاکنگ، بنانا بوٹس اور سنورکلنگ جیسے واٹر سپورٹس بھی متعارف کروائے گئے ہیں۔ تاہم ماحول دوست نہ ہونے کی وجہ سے جیٹ سکینگ جیسے موٹرائزڈ سپورٹس کی سخت ممانعت ہے۔ نیز مقامی افراد کو پلاسٹک کے گھوسٹ جالوں کو بریس لیٹ اور تھیلوں جیسے اشیاء تیار کرنے کی بھی تربیت فراہم کی جارہی ہے، جنہيں بعد میں فروخت کیا جائے گا۔

اس پراجیکٹ کی سب سے نمایاں خصوصیت غوطہ خوری سے واقفیت رکھنے والے نوجوانوں کو گاؤں میں قائم کردہ تربیتی مرکز میں سکوبا ڈائیونگ کی تربیت کی فراہمی ہے۔ احمد بتاتے ہيں کہ اگلے مرحلے میں انہيں پانی سے کچرا نکالنےکی تربیت فراہم کی جائے گی۔

بیس سالہ نوشاد علی کا شمار ان چار نوجوانوں ميں ہوتا ہے جنہيں احمد کی ٹیم تربیت فراہم کررہی ہے۔ علی اور اس کے دوستوں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، وہ سمندر کے اطراف کھیلتے آرہے ہیں۔ سات سال کی عمر میں علی تیل کے خالی کنستروں یا لکڑیوں کو کشتی کی شکل دے کر پانی میں نکل جایا کرتا تھا۔ وہ بتاتا ہے کہ وہ لکڑی کے سرف بورڈ پر لہروں پر سرفنگ بھی کیا کرتا تھا۔ علی جب تھوڑا بڑا ہوا تو وہ پانچ فٹ گہرے پانی میں جا کر بندوق سے مچھلیوں کا شکار بھی کرنے لگا۔ شروع میں تو اسے جالوں میں پھنس کر مر جانے والے کچھوے دیکھنے کے باوجود بھی کوئی فرق نہيں پڑا، لیکن اس سال جب اس نے ایک جال میں پھنسے ہوئے ایک جانور کو سسک سسک کر مرتے ہوئے دیکھا تو اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔

احمد کو یقین ہے کہ ان کا پراجیکٹ کامیاب رہے گا، اور جلد ہی عبدالرحمان گوٹھ کے اطراف موجود دوسرے گاؤں بھی ان کے نقش قدم پر چلنا شروع کريں گے۔ وہ کہتے ہيں ’’ آنے والی نسلوں کو سمندری وسائل کی دیکھ بھال کرنے کا اختیار فراہم کرنا بہت ضروری ہے۔‘‘

صوبہ بلوچستان میں پسنی سے 39 کلومیٹر دور واقع 400 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے سنسان استولا آئی لینڈ کو ماورائے ساحل ہونے کی وجہ سے انسانی سرگرمیوں سے محفوظ ہونے کے باوجود سمندری طور پر محفوظ علاقہ قرار دیا جاچکا ہے، اور احمد اور محمود دونوں چاہتے ہيں کہ پاکستانی حکومت پورے 1,046 کلومیٹر پرمشتمل ساحل کو بھی یہی تحفظ فراہم کرے۔

تاہم، محمود اعتراف کرتے ہيں کہ حکومت کو تمام محفوظ علاقہ جات کا انتظام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہیں پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ یا مکمل طور پر نجی طور پر بھی چلایا جاسکتا ہے۔ دنیا کے کئی حصوں میں اس قسم کی شراکت داری مقامی طور پر منظم کردہ علاقہ جات کی شکل میں سامنے آئی ہے، جنہیں جنوب مشرقی ایشیا اور پیسیفک میں مقامی طور پر منظم کردہ علاقے کے نیٹ ورک کی تشکیل کے ذریعے 2000ء میں رسمی شکل دی گئی تھی۔ محمود کہتے ہیں ‘‘اس سے سب کو ہی فائدہ ہوگا۔ ماحولیاتی سیاحت سے متبادل ذریعہ معاش بھی فراہم ہوتا ہے، اور سمندری جانور بھی پروان چڑھتے ہيں۔’’

زوفین ٹی ابراہیم کراچی سے تعلق رکھنے والی فری لانس صحافی ہيں۔

تحریر: زوفین ٹی ابراہیم (Zofeen T. Ebrahim)

Read in English

Authors
Top