Global Editions

جین تھراپی سے”ہیموفیلیا “کےعلاج میں کامیابی

ہیموفیلیا کے مرض کے علاج کیلئے جین تھراپی پر بہت کام ہو رہا ہے لیکن صرف ہیموفیلیا ہی کیوں ، جین تھراپی سے دیگر ایسی بیماریوں پر بھی کام لیا جاسکتا ہے جن کے علاج میں تاحال کامیابی نہیں ہو سکی۔ اس سال کے آغاز میں بل ماریٹس (Bill Mauritis) فلاڈلفیا کے کلینک کی انتظار گاہ میں آئی وی کے ذریعے ایک کھرب وائرس اپنے جسم میں داخل کروانے کا انتظار کررہا تھا۔ ماریٹس ہیموفیلیا بی (Hemophilia B)مرض کا شکار تھا جس کی وجہ سے اس کےجسم میں فیکٹر نائن (Factor IX) پیدا نہیں ہورہا ، یہ ایک پروٹین ہے جو خون جمانا شروع کر دیتی ہے۔ ہیموفیلیا کی وجہ سے اسے خون جمنے اور جوڑوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ لاحق ہے۔وہ دس سال کی عمر سے متبادل پروٹین کے انجیکشن پر انحصار کررہے ہیں۔ انجینئرنگ ڈیزائنر ماریٹس نے اپریل میں ایک طبی تجزیہ میں شرکت کی جس میں اس کے جسم میں فیکٹر نائن کے جین کا کوڈ ترتیب دے کر وائرس داخل کئے گئے۔ فلاڈیلفیا کی کمپنی سپارکس تھراپیوٹکس (Sparks Therapeutics)جین تھراپی کے تجربات اور ان کا تجزیہ کررہی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ فیکٹر نائن کے چاروں مریضوں کی جین تھراپی سے اوسطاً 30فیصد صحت بہتر ہوئی ہے۔ بلیڈنگ سے بچنے کیلئے یہ اوسط کافی ہے۔ ماریٹس کیلئے بھی فیکٹر نائن کے متبادل انجیکشن لگوانے کے مقابلے میں بہتر ہے کیونکہ اس نے اپریل سے متبادل انجیکشن نہیں لگوائے۔

اگرچہ جین تھراپی کی پہلے بھی کوشش کی گئی ہے لیکن سپارکس کمپنی کی جین تھراپی اس لئے مختلف ہے کہ یہ سابقہ کوششوں کے تسلسل کے ساتھ بہتر ہورہی ہے۔ یونیورسٹی کالج لندن میں ماہر امراض خون ایڈورڈ ٹڈنہام (Adward Tuddenham)کہتے ہیں کہ اس وقت یہ جین تھراپی بہت بہتر کام کرتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ ماریٹس کی طرح جن لوگوں پر جین تھراپی آزمائی گئی تو اس کے نتائج خاصے تسلی بخش نکلے ،ویسے بھی سائنسدان تین دہائیوں سے جین تھراپی کیلئے کوششیں کررہے ہیں۔ غیر معمولی بیماری کیلئے دو جینز کے طریقہ علاج کی یورپ میں اجازت دی گئی ہےاس میں انسانی جسم کے دفاعی نظام کی خرابی بھی شامل ہے۔لیکن ہیموفیلیا کے مرض میں علاج کیلئے دشواری آسکتی ہے۔ یہ مرض پانچ ہزار میں سے ایک مرد کو ہوتا ہے (خواتین شاذونادراس مرض کا شکار ہوتی ہیں)۔ اسی لئے خون کی تبدیلی کیلئے سالانہ دس ارب ڈالر خرچ کئے جاتے ہیں۔ ماہر امراض خون اور سپارکس کی صدر وبانی “کیتھرین ہائی (Katherine High)کہتی ہیں کہ صرف ایک بڑے پیمانے پر کیا گیا تجزیہ ہی بتا سکتا ہے کہ سپارکس کا طریقہ علاج کام کررہا ہے یا نہیں ۔ سپارکس کی اور بھی مدمقابل کمپنیاں ہیں۔ جین تھراپی کا طریقہ علاج اس وقت عروج پر ہے اور اس کیلئے 70مصنوعات ٹیسٹ کیلئے تیار ہیں۔ کمپنیاں یونی کیور (UniQure)، بیکسالٹا (Baxalta) بھی ہیموفیلیا بی کیلئے ادویات تیار کررہی ہیں۔ جبکہ بائیومارین (BioMarin) کمپنی ہیموفیلیا اے کیلئے جینیاتی دوا تیار کررہی ہے۔ یہ مرض زیادہ عام ہے اس دوا کا آٹھ مریضوں پر تجربہ کیا جاچکا ہے۔ ٹنڈنہام اس کمپنی کی ادویات کو بھی سپارکس کی دواؤں کی طرح موثر قرار دیتے ہیں۔

بعض سائنسدان تو کہتے ہیں کہ کامیابی کا اعلان کرنے کی اتنی کیا جلدی ہے جبکہ مریضوںمیں بیماری ابھی ختم نہیں ہوئی۔ فرانس میں قائم انسرم ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (INSERM Research Institute)میں جین تھراپی سائنسدان فیڈیرائیکو منگوزی(Federico Mingozzi)کا کہناہے کہ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ انہوں نے علاج دریافت کرلیا ہے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ اس کے نتائج مسلسل مثبت آرہے ہیں۔ جین تھراپی کی کامیابی اسی میں ہے کہ اسے جاری رکھا جائے۔ سابق صدر ورلڈ فیڈریشن آف ہیموفیلیا اور وکیل مارک سکنر (Mark Skinner)کہتے ہیں کہ انہیں اپنے شدید نوعیت کے ہیموفیلیا مرض کیلئے 750,000ڈالر کی ضرورت رہتی ہے۔ سپارکس کے طریقہ علاج کا آغاز اس وقت ہوا جب پروفیسر کیتھرین ہائی نے 1989ءکتوں میں خون کے کینسر کے علاج میں مدد کی اور ایک دہائی کے اندر اب تک 100کتوں کا کامیابی سے علاج کیا جا چکا ہے۔ کیتھرین نے 2006ء میں اپنے تجربات سے ظاہر کیا کہ انسانوں میں فیکٹر نائن کے علاج کیلئے جین تھراپی کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ لیکن مدافعتی ردعمل کا اثر کتوں میں کبھی نہیں دیکھا گیا۔ کیتھرین کہتی ہیں کہ سپارکس کو ایسی دوا کی ضرورت ہے جو مرض کے دوران جسم کے مدافعتی نظام کو سہارا دے سکے اور جو فیکٹر نائن کیخلاف مدافعتی نظام کو بہتر کرے۔ اس عمل کیلئے جگر سے ڈی این اے لے کر وائرس داخل کیا گیا جہاں سے فیکٹر نائن کا مرض شروع ہوتا ہے۔

اس تھراپی کو اٹلی کے ایک غیر معمولی کیس نے بھی معروف کیا۔ ایک صحت مند آدمی کی ٹانگ میں خون جم گیا جو سنگین صورت اختیار کرگیا۔ اس کا یہ مرض بتدریج فیکٹر نائن میں بدل گیا۔ لیکن کیتھرین کی ذہین ٹیم نے غیر معمولی طور پر فعال پیڈؤا (Padua)نامی جین لے کر اس پر دوا آزمائی۔ جس نے بہت اچھا اثر ڈالا۔ سپارکس کی لیب میں کیتھرین نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ سپارکس کی لیبارٹری میں ایسے آلات موجود ہیں جو انسانی جسم میں جین داخل کرتےہیں، یہ جین سیدھا جگر کے خلیات پر اثر کرتا ہے جہاں پر نیا ڈی این اے تیار ہو جاتا ہے۔

مسئلہ یہ ہےکہ 40فیصد تک ہیموفیلیا کے علاج میں مدد نہیں ملی۔ کیونکہ اس کے علاج کیلئے جس وائرس کے مدد لی گئی وہ اسی طرح کاتھا جس سے ہیموفیلیا کا مرض لاحق ہوا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سے لوگوں نے وائرس پر مشتمل ایسی ادویات لینی شروع کیں جو سپارکس کے طریقہ علاج سے مختلف تھیں۔ ایسے مریضوں کو سپارکس کے علاج سے الگ کردیا گیا۔ سپارک کے ایک سائنسدان زیویرئ اینگوئلا (Xavier Anguela)کہتے ہیں کہ اگر انہوں نے ہیموفیلیا کو شکست دیدی تو وہ تیزی سے دیگر ناقابل علاج بیماریوں پر بھی کام شروع کردیں گے۔ جین تھراپی کیلئے ہیموفیلیا ہی آخری بیماری نہیں جس کا علاج کیا جائے۔ یہ صر ف ایک آغاز ہے۔

تحریر: انٹونیو ریگالڈو (Antonio Regalado)

Read in English

Authors

*

Top