Global Editions

غذائی پیداوار میں اضافے کےلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

اب ہم شاید زیادہ مسابقتی اور جدید بنیادوں پر استوار ایک نئی غذائی معیشت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ماضی میں ہماری غذائی ٹیکنالوجی تمام تر مقدار اورپیمانے تک محدود رہی ہےلیکن  اب سوال یہ پیدا ہورہاہے کہ ہم تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو کس طرح کم قیمت  غذا فراہم کر سکتے  ہیں۔ ماضی میں ایکڑوں پر پھیلی ہوئی فصلوں کو بڑے بیوپاریوں کو فروخت کردیا جاتا تھااوران کے ہاتھوں سے ہو کر غذا سپر سٹورز یا پھر چھوٹے دکانداروں کے پاس پہنچ جاتی تھی لیکن اب جدید غذائی ٹیکنالوجی مختلف سمت میں جارہی ہے۔ نئےجدید پیداواری طریقوں کےذریعے پیداوار بڑھنے سے بڑوں کے ساتھ چھوٹے کاشتکاروں کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 2050 تک دنیا کی آبادی 9ارب 60کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ اس آبادی کی غذائی ضروریات  پوری کرنے کے لئےپیداوار میں اضافہ ضروری ہے  اب جدید ٹیکنالوجی اور اختراعات کی مدد سے زراعت اور غذائی پیداواربڑھانے کے لئے بڑے پیمانے پر کام ہو رہا ہے۔عام افراد کو غذا سے متعلق موبائل فون کے ذریعے معلومات کے حصول، ان کے تجزئیے سے بہت مددمل رہی  ہے۔ جس کے سبب غذائی کمپنیاں، پرچون فروش اور کاشتکاروں کو غذا کی قیمتیں کم کرنے پر مجبورہوتی  ہیں۔ اسی طرح زرعی فارمز پر سوفٹ وئیرز کے ذریعے ڈیٹا کے تجزئیے نے زراعت کے تمام کاموں کو کاشتکاروں کیلئے مزید قابل رسا ئی اور سہل بنا دیا ہے۔ آج امریکہ میں ٹریکٹروں، ادویات سپرے کرنے والی اور فصلوں کی کٹائی میں مدد دینے والی مشینوں میں ڈیٹا جمع کرنے، ان کا تجزیہ کرنے کے آلات نصب ہوتے ہیں۔ مٹی کی زرخیزی اور موسم کی صورتحال سے متعلق معلومات ملنے سے کاشتکار زیادہ مستعدی سے کھیتوں میں پانی، بیج اورکھاد کے استعمال سے متعلق  بروقت فیصلہ کرسکتا ہے، نیز جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے باوجود اپنی پیداواری لاگت کم کر سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے نئی غذائی معیشت کا آغاز ہو سکتا ہے۔ اس نئے مسابقتی ماحول نے سالہا سال سے مارکیٹ پر قابض صنعتی گروہ پر نئے سرمایہ داروں کے بڑے گروہ کو سبقت لے جانے کے مواقع فراہم کئے ہیں۔ بزنس رپورٹ کی تحقیق میں اس تبدیلی کی وجوہات تلاش کی گئی ہیں جس کے مطابق اس میں  نئی غذائی کمپنیوں میں سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی مدد سے نئی غذائوں کو متعارف کروانے، ہماری خریداری اور کھانے پینے کی عادات شامل ہیں۔ امریکہ میں جنوری 2013سے لے کردسمبر 2014تک 47 فنڈ غذا اور زراعت میں سرمایہ کاری کیلئے متعارف کروائے گئے۔ 2013 میں غذا پر سرمایہ کاری 288 ملین ڈالر تھی جو 2014میں  بڑھ کرایک ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ گوگل وینچرز اور سلیکون ویلی کے سرمایہ کار بھی نئی غذا کو متعارف کروانے میں تخلیقی نقطہ نظر سے کام لے رہےہیں۔ جس میں اعلیٰ درجے کےآٹے سے بنی پروٹین بارزاور دیگر غذا جو اگرچہ کم مقدار میں ہوتی ہیں لیکن صارفین کیلئے اہم  ہیں ۔ یورپی یونین بہت سے غذائی پروگرام میںسرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ جینیاتی اور مالیکولر ٹیکنالوجی استعمال کرکے  فاضل غذا کو محفوظ کرنے کے نئے طریقے تلاش کئے جائیں۔

تحریر : نانیٹو بائرنزNanette Byrnes

Read in English

Authors
Top