Global Editions

ایک نئی دنیا

ابو سرخیل
کرونا وائرس کے باعث عالمی معیشت کی تبدیلی میں ڈیجٹائزیشن کا بہت بڑا ہاتھ ہوگا۔ مستقبل کی نئی معیشتیں کیا شکل اختیار کریں گی؟

نیٹ فلکس پر نشر ہونے والی انتہائی مقبول ٹی وی سیریز منی ہائسٹ (‏Money Heist) کے چوتھے سیزن کی  پہلی قسط میں پاکستان میں رہائش پذیر ڈاکٹر احمد کہتے ہیں: Una incisión de 15 centimetros entre la sexta y séptima costilla (چھٹی اور ساتویں پسلی کے درمیان 15 سینٹی میٹر کے فاصلے پر کٹ لگاؤ۔) اور ٹوکیو ان کی ہدایات کے مطابق نیروبی کی سرجری میں لگ جاتی ہے۔ ٹیلی میڈیسن دوسری پاکستانی سہولت ہے جس سے منی ہائسٹ میں دکھایا جانے والا ہسپانوی گینگ بذریعہ انٹرنیٹ مستفید ہورہا ہے۔

نیروبی کی اس سرجری کا شمار کرونا وائرس کی وبا کی ابتداء کے بعد 3 اپریل کو شروع ہونے والی منی ہائسٹ کے چوتھے سیزن کے دلچسپ ترین سینز میں ہوتا ہے۔ ٹیلی سرجری یا کسی ڈکیتی کے لیے ہیکنگ کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا کچھ خاص اچھی مثالیں تو نہيں ہیں، لیکن اس بات سے انکار نہيں کیا جاسکتا کہ covid-19 کے باعث گرتی پڑتی عالمی معیشت کو بچانے کے لیے ٹیکنالوجی کا کردار بہت اہم ثابت ہوسکتا ہے۔

کیا ٹیکنالوجی ہماری ڈوبتی ہوئی نیّا کو پار لگا سکتی ہے؟ 

پاکستان میں کافی عرصے سے  ٹیکنالوجی کے استعمال کے متعلق مطالبہ جات میں اضافہ ہونا  شروع ہوگیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے لے کر وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چودھری تک، متعدد سینئر حکومتی افسران نیشنل اسمبلی کے سیشنز سمیت کئی حکومتی امور میں ٹیکنالوجی کی عملدرآمدگی کی حمایت کرتے ہوئے نظر آئے ہيں۔

World Bank’s Digital Pakistan: A business and trade assessment report

ٹیلی نار کی طرف سے شائع ہونے والی ایک بین الاقوامی ریسرچ رپورٹ میں اس بات کو اجاگر کیا گيا ہے کہ covid-19 کی بدولت بہت تیزی سے ٹیکنالوجیکل اور مالی تبدیلیاں سامنے آرہی ہیں، جن سے عالمی معیشتیں اور معاشرے مکمل طور پر تبدیل ہو کر رہ جائيں گے۔ اس رپورٹ میں مزید بتایا گيا ہے کہ اس وبا کی وجہ سے کام کرنے کے نئے طریقوں نے جنم لیا ہے اور لوگوں کو ملازمت کے سلسلے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں بھی بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
عالمی بینک کی رپورٹ  ’Digital Pakistan: Business and Trade Assessment‘ کے مطابق انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بدولت پاکستان کے برآمدات کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی استعمال کرنے والی سہولیات سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کی مالی بہتری بھی ممکن ہے۔

واپسی کا کوئی راستہ نہيں ہے

عالمی معیشت کی تعمیر نو میں ٹیکنالوجی کے کردار کو دیکھنے والے مالی ماہرین سب سے پہلے covid-19 کے دوران اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مالی مشکلات کی نوعیت سمجھنے پر زور دیتے ہیں۔ کرونا وائرس کے معیشت پر قلیل المیعاد اثرات ابھی سے سامنے آرہے ہيں اور ان کی پیشگوئی کرنا بھی بہت آسان ہے، لیکن اس وقت اس وبا کے طویل المیعاد نتائج کے متعلق پیشگوئی کرنا بہت دشوار ثابت ہوگا۔

تاہم ماہر اقتصادیات،  اور Fifty Things That Made the Modern Economy کے مصنف ٹم ہارفورڈ (Tim Harford) کے مطابق ان طویل المیعاد اثرات کی پیشگوئی کرنا زيادہ اہم ہے۔ وہ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کو بتاتے ہيں کہ ”ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ یہ وائرس آگے چل کر کیا شکل اپناتا ہے۔ کیا یہ اسی طرح پھیلتا رہے گا؟ کیا ہم اس پر قابو پانے میں کامیاب ہوجائيں گے؟ یا ہم اس کے ساتھ گزارا کرنا سیکھ لیں گے؟ سب کچھ انہی سوالات کے جوابات پر منحصر ہے۔“

ہارفورڈ اس بات سے متفق ہیں کہ کرونا وائس کے باعث معیشت مستقل طور پر تبدیل ہوجائے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ معیشت ایک ربڑ بینڈ کی طرح نہيں ہے جو اپنی پرانی حالت پر آجائے گی، بلکہ پلاسٹک کی ایک تھیلی کی طرح ہے، جسے اگر کھینچا جائے تو اس کی شکل مستقل طور پر ہی بگڑی ہی رہتی ہے۔

متعدد مالی ماہرین کے تخمینوں کے مطابق، لوگوں کے کام کرنے کے طریقے بھی مستقل طور پر تبدیل ہوجائيں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ کمپنیاں اب دوسرے شہروں اور دوسرے ممالک میں رہائش پذیر افراد سے کام کروانا شروع کر دیں گی، جس کے نتیجے میں ان ملازمین کو بڑے شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے بعد اس پیش رفت کے باعث گلوبوٹکس (globotics) اور ٹیلی مائیگرینٹس (telemigrants) کا دور شروع ہو سکتا ہے۔

گلوبوٹکس کا کردار
سینٹر فار اکنامک پالیسی ریسرچ (Centre for Economic Policy Research) کے سابق صدراور The Globotics Upheaval: Globalization, Robotics and The Future of Work کے مصنف رچرڈ بالڈون (Richard Baldwin) نے کرونا وائرس سے کافی عرصہ پہلے ہی کہا تھا کہ ٹیکنالوجی کے باعث روایتی تخلیق کاری پر منحصر ترقی ایک دن ختم ہوجائے گی اور اس کی جگہ ڈیجٹائزیشن اور گلوبلائزیشن لے لے گی۔

بالڈون کہتے ہیں کہ اب covid-19 کے باعث بے روزگاری، ڈیجٹائيزیشن، قرضوں اور ملازمین کے آن لائن کام کرنے کے سبب دفاتر کے غیرضروری اخراجات میں اضافوں کی وجہ سے اس تبدیلی کی رفتار میں بہت تیزی سے اضافہ ہوگا۔

بالڈون مزيد بتاتے ہیں کہ روزگار میں جاری کمی کے باعث ملازمت کی ضروریات میں بھی تبدیلی ہوگی، کیونکہ نئے ملازمین بھرتی کرنے والی کمپنی، اپنے موجودہ عملے کو برقرار رکھنے والی کمپنی سے مختلف لائحہ عمل اپناتی ہے۔ اس کے علاوہ، اضافی ملازمین کو فارغ کرنے کے بعد، دفاتر کی خالی جگہ ”ٹیلی مائیگرینٹس“ کے لیے استعمال ہونا شروع ہو جائے گی۔

بالڈون کا یہ بھی خیال ہے کہ ان ’وائٹ کالر روبوٹس‘ (white collar robots) میں اضافے کے ساتھ کم آمدنی رکھنے والے ممالک سے تعلق رکھنے والے زیادہ افراد کی بھی سہولیات حاصل کی جائيں گی اور ان ممالک میں رہائش پذیر مصنوعی ذہانت اور ترقی یافتہ ممالک میں ضروری سمجھی جانے والی مہارتوں پر عبور رکھنے والوں کی مانگ میں بہت اضافہ ہوگا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ڈیجٹل صلاحیتیں رکھنے والے ملازمین ترقی یافتہ ممالک میں زیادہ اہم کردار ادا کر پائيں گے؟

ٹیلی مائگرینٹس کا استعمال

رچرڈ بالڈون ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کو بتاتے ہيں کہ ”اس وقت سب سے زيادہ آئی ٹی کے کام ہی آؤٹ سورس کیے جاتے ہيں۔ تاہم ان میں مصنوعی ذہانت کی ملازمتیں کم اور کال سینٹرز، بیک آفسز، کاپی رائٹنگ، ڈیزائننگ، وغیرہ جیسے کام زیادہ ہوتے ہيں، جن کے لیے زيادہ تکنیکی صلاحیتیں درکار نہيں ہوتی۔“

وہ اپنی کتاب The Global Upheaval میں لکھتے ہيں کہ دنیا بھر کے ایک چوتھائی کے قریب فری لانسرز کا تعلق پاکستان اور بنگلہ دیش سے ہے۔ اس کتاب میں ہیتھرسیج (Hathersage) نامی کمپنی کی مثال پیش کی گئی ہے جو اپنا کام نہایت کم قیمت میں انجام دینے کے لیے لاہور میں رہائش پذیر انجنیئرز سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔

بالڈون پچھلے چند سالوں کے دوران فلپائن کی نوجوان نسل کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں کامیابی کی مثال پیش کرتے ہوئے کہتے ہيں کہ دنیا بھر میں ‘جوان، پڑھے لکھے، اور مواصلت کی صلاحیتیں رکھنے والے’ افراد کی مانگ میں بہت اضافہ ہوگا۔ تاہم پاکستان میں covid-19 کے باعث یہ نوجوان اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

بالڈون اعتراف کرتے ہيں کہ ٹیلی مائیگرنٹس کے لیے کسی دوسری ثقافت کی معلومات پر منحصر کام بہت مشکل ہوگا۔ جب ہم نے ان سے پاکستانیوں کے معاوضے میں قابل قدر فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے، ان کے پاپ کلچر کے باعث مغربی روایات کے متعلق سمجھ بوجھ کی بدولت ایسی ملازمتیں کرنے میں کامیابی کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا کہ ”ایسا ممکن ہے، لیکن پوری طرح نہيں۔ مارکیٹنگ جیسے کاموں میں صارفین کے متعلق گہری معلومات درکار ہوتی ہے، جو محض فلمیں دیکھ کر حاصل نہيں کی جاسکتی!“

امدادی پیکیجز

گلوبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور ٹیلی مائگریشن سے پاکستان میں ٹیکنالوجی میں مہارت رکھنے والے چند نوجوانوں کو تو مواقع دستیاب ہوئے ہیں، لیکن ساتھ ہی ایسے کئی افراد ہیں جنہيں covid-19 کے لاک ڈاؤنز کے باعث حد سے زيادہ پریشانی کا سامنا ہوا ہے، جو وبا کے خاتمے کے بعد بھی جاری رہے گا۔

کرونا وائرس کی وبا شروع ہونے کے بعد سے پاکستان نے متعدد عالمی تنظیموں سے امداد کی درخواست کی ہے۔ اپریل میں پاکستان کے بیل آؤٹ پیکیج کی نگرانی کرنے والے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے ریپڈ فنانسنگ انسٹرومینٹ (Rapid Financing Instrument) کے تحت پاکستان کے لیے 1.386 ارب ڈالر کے امدادی پیکیج کی منظوری دے دی۔ اس کے کچھ عرصہ قبل G-20 ممالک نے عارضی طور پر قرض کی اقساط کا مطالبہ نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ جون میں قرض خواہ ممالک پر مشتمل پیرس کلب (Paris Club) نے بھی عارضی طور پر پاکستان کے قرض کی اقساط کی ادائيگی کا مطالبہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

اپنے کم آمدنی رکھنے والے طبقے کو درپیش مالی بحران کے اثرات میں کمی کے لیے اس مالی امداد کے باوجود بھی پاکستانی حکومت covid-19 سے سب سے زيادہ متاثر ہونے والے اس طبقے کے لیے پالیسیاں عملدرآمد کرنے سے قاصر رہی ہے۔

کئی ناقدین کے مطابق، اس کی سب سے اچھی مثال مالی سال 2020ء تا 2021ء کے وفاقی اور صوبائی بجٹوں میں نظر آتی ہے، جن کو دیکھ کر ”ایسا بالکل بھی نہيں لگتا ہے کہ یہ ملک کسی وبا کا شکار ہے۔“

انسان کہاں جائيں؟

سوروس اکنامک ڈویلپمنٹ (Soros Economic Development) کی سابقہ نائب صدر اور انسٹی ٹیوٹ فار ڈیولمپنٹ اینڈ ایکنامک آلٹرنیٹوز (Institute for Development and Economic Alternatives – IDEAS) کی شریک بانی فوزیہ نقوی نے موجودہ حکومت کو بجٹ کے حوالے سے متعدد ناقص فیصلوں کے باعث خوب تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو عطیہ دینے والے اور بین الاقوامی اداروں نے مالی امداد تو فراہم کی ہے، لیکن یہ کسی بھی صورت میں حکومت کی وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کردہ پالیسیوں میں نظر نہيں آتی۔

نقوی کے مطابق حکومت کو نجی شعبے کو امداد فراہم کرنے کے بجائے بے نظیر انکم سپورٹ اور احساس پروگرامز جیسے منصوبہ جات میں مزید توسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتی ہيں کہ معاشرے کے پسماندہ ترین طبقوں کی امداد کے لیے ٹیکنالوجی، ڈیجٹائزیشن اور ای کامرس کا بھرپور فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ”ان سماجی فلاح و بہبود کے پروگرامز کو مزید وسیع کرنے کے لیے زيادہ سے زيادہ حد تک اختراعی طریقہ کار اپنانے کی ضرورت ہے۔ یہاں ڈیٹا اور ای کامرس جیسی ٹیکنالوجیز بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہیں۔ پاکستان کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہاں ایسے نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جو ٹیکنالوجی استعمال کرنا جانتے ہيں۔“

حکومتی نمائندگان covid-19 کا مقابلہ کرنے کے لیے فلاح و بہبود کے پروگرامز کی ضرورت سے انکار نہیں کرتے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ نجی شعبے کو بھی امداد فراہم کرنا ضروری ہے، تاکہ ملازمت کے مواقع پیدا کر کے معیشت کو بحال کیا جاسکے۔ ان کے مطابق جہاں کرونا وائرس کے باعث عالمی معیشت بیٹھ گئی ہے، وہیں پاکستان کی قسمت کے دروازے کھل گئے ہیں۔

سندھ اسمبلی نے وائرس کے خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے ورچول سیشن منعقد کیا۔

کریڈٹ:سدرہ عمران اور اے ایف پی، ماسکس کے علاوہ، پاکستانی حکومت زيادہ پیچیدہ طبی سامان تخلیق کرنے کی توقع رکھتی ہے۔

قسمت کے دروازے پر دستک

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے مالی مشیر اور سابق کیئرٹیکر وزیر مالیات سلمان شاہ اعتراف کرتے ہيں کہ پاکستان کو شروع میں عالمی معیشت کے نقصان کے باعث مشکلات کا سامنا ہوگا۔ تاہم ان کا خیال ہے کہ اسی معیشت کے بدلتے ہوئے رجحانوں کے باعث پاکستان کو آگے چل کر بہت فائدہ پہنچے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی میں مہارت رکھنے والے نوجوانوں اور مقامی کاروباروں کے لیے بہت اچھا موقع ثابت ہوگا۔

شاہ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کو بتاتے ہيں کہ ”covid-19 کی اس عالمی وبا کے کم ہونے کے بعد پوری دنیا کا چین پر انحصار کم ہوجائے گا۔ اس سے پاکستان جیسے ممالک کو، جہاں نہ صرف آبادی بہت زیادہ ہے، بلکہ آبادی کا بیشتر حصہ نوجوانوں پر بھی مشتمل ہے، بہت فائدہ پہنچے گا۔ پاکستان چین کی طرح گلوبلائزيشن کا مرکز بن سکتا ہے۔“

شاہ مزید بتاتے ہيں کہ اس وقت پاکستان کی بہت بڑی تعداد covid-19 کے باعث اپنی ملازمتوں سے محروم ہوچکی ہے، اور اسی چیز کا فائدہ اٹھا کر طویل المیعاد درآمدات میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ تجارتی مداخلتوں کے باعث پاکستان کے درآمدات متاثر ہوں گے، لہٰذا ہمیں اپنی مصنوعات بنانے کی کوشش کرنی چاہیے، جس سے مقامی کاروباروں کو بہت فائدہ پہنچے گا۔

شاہ صحت کے شعبے کی مثال پیش کرتے ہوئے کہتے ہيں کہ پاکستان میں اب ماسکس اور ہیلتھ کیئر کے عملے کے لیے دیگر تحفظاتی سامان بننا شروع ہوچکا ہے، اور انہيں امید ہے کہ آگے چل کر یہ ملک وینٹی لیٹرز جیسے پیچیدہ آلات بھی بنانے میں کامیاب ہوجائے گا۔

ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستانی حکومت عالمی تجزيہ کاروں سے متفق ہے کہ covid-19 کے بدولت عالمی معیشت پوری طرح تبدیل ہو کر رہ جائے گی۔ حکومت نے ریموٹ طور پر کام کرنے والے باصلاحیت ملازمین کو اپنی سہولیات پیش کرنے اور مقامی کاروباروں کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری پاکستانی عوام پر چھوڑ رکھی ہے۔

ان کے ہاتھ میں صرف اور صرف ایک ہی ہنر ہے، اور وہ ہے ٹیکنالوجی۔ نسل در نسل ڈیجٹائزیشن معاشی تبدیلیوں میں بہت اہم کردار ادا کررہی ہے،  اور اب ٹیکنالوجی انسانیت کی نیّا کو یا تو پار لگائے گی یا دوسری طرف مکمل طور پر ڈبو دے گی۔


کنور خلدون شاہد لاہور میں رہائش پذیر صحافی ہیں۔

Read in English

Authors

*

Top