Global Editions

کینسر کے شکار افراد میں اس مرض کی پیش رفت کی پیشگوئی کے لیے ایک نقشہ بنایا جارہا ہے

ریسرچرز بگ ڈیٹا کی مدد سے کینسر کی تشخیص کے بعد زندہ بچنے کے امکانات اور مختلف جینز کے درمیان تعلقات کی کھوج لگانے کوشش کررہے ہیں۔

جان لیوہ اقسام کے ٹیومرز اور بے ضرر قسم کے ٹیومرز کے درمیان امتیاز کرنے والی جینیاتی تبدیلیوں کے متعلق سمجھ بوجھ حاصل کر کے ڈاکٹرز مریضوں کا بہتر طور پر علاج کرسکتے ہیں۔

سویڈن سے تعلق رکھنے والے چند ریسرچرز ایک نیا کیٹالاگلانچ کرنے والے ہیں جس میں ان جینیائی تبدیلیوں کا نقشہ کھینچ کر پیش کیا جانے والا ہے۔ اس نقشے میں کئی مختلف کینسرز سے تعلق رکھنے والے ہزاروں جینز کو مریض کے زندہ بچنے کے امکانات سے تعلقات قائم کرنے کے علاوہ نئی ادویات کے ٹارگیٹس کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

یہ نیا نقشہ National Cancer Institute کے Cancer Genome Atlas جیسے ٹیومرز کے سیمپلز کے عوامی ڈیٹابیسز میں جمع کردہ ڈیٹا کو ترتیب دینے کی ایک کوشش ہے۔ اس کا مقصد معلومات، جیسے کہ کینسر کی علامات، کا حصول ہے جس سے کینسر کی بہتر ادویات اور تشخیص ممکن ہوسکے۔

یہ نقشہ تیار کرنے کے لیے سویڈن کے روئیل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (Royal Institute of Technology) کے مائیکروبائیولوجی کے پروفیسر میتھیس اہلن (Mathias Uhlén) کی سربراہی میں ریسرچرز کی ایک ٹیم نے ایک سپرکمپیوٹر کی مدد سے آٹھ ہزار ٹیومر کے سیمپلز سے 17 اقسام کے انسانی کینسرز کا تجزیہ کیا۔ اہلن کے مطابق ان کی ٹیم ان تبدیلیوں کی وجہ بننے والے جینومز میں مجموعی تبدیلیاں تلاش کررہی تھی۔

اس کے بعد انھوں نے ان کینسر سیلز میں موجود تمام جینز کا نقشہ تیار کرکے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ان جینز سے حاصل ہونے والے پروٹینز سے مریضوں کے زندہ بچنے کے امکانات پر کیا فرق پڑتا ہے۔ جینز میں پروٹینز تخلیق کرنے کی ہدایات موجود ہوتی ہیں اور جینز کے ایکسپریشن کے مطابق ان کی تیار کردہ پروٹینز کی تعداد میں تبدیلی ہوتی ہے۔ ان پروٹینز کا کینسر جیسے امراض پر کافی گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔

ریسرچرز نے نوٹ کیا کہ مختلف قسم کے کینسرز میں پروٹینز کی بہت مختلف تعداد نظر آتی ہے، اور ان کے مطابق اس وجہ سے ہر ٹیومر کی مختلف نوعیت کی وجہ سے کینسر کے شکار ہر شخص کے لیے مختلف علاج فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

ان ریسرچرز کے مطابق دو ہزار سے زیادہ جینز کسی مریض کے زندہ بچنے کے امکان کو متاثر کرتی ہیں، جس کا انحصار کینسر کی قسم اور ٹیومر کے لوکیشن پر ہے۔ بعض دفعہ زيادہ ایکسپریشن کا مظاہرہ کرنے والے جینز کے بہتر نتائج سامنے آئے اور بعض دفعہ نتائج زيادہ خراب رہے۔ ان نتائج کی تفصیلات جریدے سائنس میں فراہم کی گئی ہیں۔

اہلن اور ان کی ٹیم نے مزيد دو ہزار سے زائد جینز کی نشاندہی کی ہے جو ٹیومر کے بڑھنے کو روک سکتے تھے، لیکن ان کے مطابق دوا سے علاج کرنے کی صورت میں مریضوں کی طبیعت مزید بگڑ سکتی ہے۔ ان کا اندازہ ہے کہ 80 فیصد ٹیومرز میں پائے جانے والے 32 جینز کا ادویات سے علاج ممکن ہے۔

ماضی میں ریسرچرز کینسر کی وجہ بننے والی جینیائی تبدیلیوں کی نشاندہی کے لیے ڈی این اے سیکوینسنگ پر کام کررہے تھے۔ یہ نیا نقشہ بنانے کے لیے سائنسدانوں نے کینسر کی وجہ سے جینز کی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے آر این اے کی سیکوینسنگ کا استعمال کیا ہے۔

الومینا (Illumina) نامی جین سیکوینسنگ کی کمپنی میں آنکولوجی کے نائب صدر جان لیٹ (John Leite) کا کہنا ہے کہ کینسر کی تشکیل کے پیچھے جو میکانزمز ہیں انھیں سمجھنے کے لیے وافر مقدار میں حیاتیاتی معلومات درکار ہوگی، جس کے بعد ریسرچرز اور ڈاکٹر مریض کے لیے مناسب علاج تلاش کرسکیں گے۔ یہ نیا نقشہ اس سلسلے میں بہت فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔

نیو یارک کے جینوم سنٹر (New York Genome Centre) میں کمپیوٹیشنل بائیولوجی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نکولس روبن (Nicolas Robine) کہتے ہیں کہ اس نقشے سے ریسرچرز کو بہت فائدہ ہوگا، لیکن ڈاکٹرز اس کی مدد سے اپنے مریضوں میں کینسر کی پیش رفت کا کس حد تک اندازہ لگا سکتے ہیں؟ اس کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جاسکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں "اس میں صرف اپنی پروفائل ڈال کر ایک سیدھا جواب حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے۔"

یہ نقشہ 2003ء میں شروع ہونے والے ایک سویڈش پروگرام کا حصہ تھا جس میں جسم کے 20 ہزار جینز سے تخلیق کردہ پروٹینز کا نقشہ کھینچنے کی کوشش کی گئی تھی۔

تحریر: ایملی ملن (Emily Mullin)

Read in English

Authors
Top