Global Editions

موسیقی اور ٹیکنالوجی کا سنگم

ابو سرخیل
ٹیکنالوجی سے پاکستانی موسیقی کا انسانی عنصر ختم ہوتا جارہا ہے، لیکن ساتھ ہی موسیقاروں کے ذرائع معاش اور پورٹ فولیو میں اضافہ ممکن ہوا ہے۔

شعبہ موسیقی میں لفظ ”آندولن“ سے مراد ساز میں ایسی حرکت ہے جس سے اگلا ساز بھی متاثر ہوتا ہے۔ لیکن میکال حسن بینڈ کے لیے یہ محض ایک لفظ نہيں ہے۔ آندولن میکال حسن بینڈ کا 2009ء کا مقبول ترین گانا تھا، اور ان کے کئی شیدائیوں کا خیال ہے کہ یہ لفظ ان کی پچھلی دو دہائیوں کی تاریخ کی بہترین عکاسی بھی کرتا ہے۔

اس گانے کو پانچویں لاہور میوزک میٹ میں ہمیشہ کی طرح پوری مہارت سے بجایا گیا۔ لیکن آج میکال حسن بینڈ کو نئی حقیقتوں کا سامنا ہے، جس میں سے سب سے بڑا چیلینج اس ڈیجیٹل دور میں نوجوانوں تک اپنی موسیقی پہنچانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہيں فیس بک اور یوٹیوب جیسے سوشل میڈيا پلیٹ فارمز پر خود کو پیش پیش رکھنے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔

میکال حسن ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کو بتاتے ہيں کہ ”چاہے تھیئٹر ہو یا موسیقی، نظم ہو یا رقص، روایتی میڈیا کو فن میں کوئی دلچسپی نہيں ہے۔ ٹی وی چینلز کارپوریٹ اشتہاروں کے علاوہ کسی بھی قسم کی موسیقی نہيں چلانا چاہتے، جن میں نہ تو گہرائی ہے اور نہ ہی جان۔ اسی لیے ڈیجیٹل میڈیا کا بھرپور استعمال کرنا نہایت ضروری ہے۔“

حسن کا خیال ہے کہ سوشل میڈیا سے فنکاروں کو جہاں فائدہ پہنچا ہے، وہاں بہت نقصان بھی ہوا ہے۔ ایک طرف تو انہيں اپنی موسیقی اپنے شائقین تک پہنچانے کے نت نئے طریقے دستیاب ہوئے ہیں، لیکن دوسری طرف انٹرنیٹ پر فنکاروں کی بھرمار کے باعث ان کی موسیقی کی اثراندازی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ حسن کی نظر میں قدرتی دلچسپی بڑھانے کا واحد طریقہ لائیو تقریبات ہیں۔ وہ کہتے ہيں کہ ”یہ ایک اچھے فنکار کا، یعنی ایک ایسا فنکار کا جو آلات بجا بھی سکتا ہے اور گانا بھی گا سکتا ہے، اکلوتا پیمانہ ہونا چاہیے۔“

پچھلے چند مہینوں سے میکال حسن بینڈ لائیو کانسرٹس کررہے ہیں، جن میں لاہور اور اسلام آباد میں ”پیپسی بیٹل آف دی بینڈز“ (Pepsi Battle of the Bands) اور کوبلمپی میوزک فیسٹول (Koplumpi Music Festivals) جیسے پروگرامز شامل ہیں۔

ان پروگرامز میں ان کے نئے گلوکار، 18 سالہ رساب میر، کو بھی سامنے آنے کا موقع ملا ہے۔

نئی ٹیکنالوجیز کے باعث ریکارڈنگز میں غلطی کی گنجائش بالکل ختم ہوگئی ہے، لیکن طاہرہ سید جیسے سینئر گلوکاروں کا خیال ہے کہ موسیقار کی غلطیوں کو مکمل طور پر چھپالینے سے شعبہ موسیقی کو فائدہ نہيں بلکہ نقصان پہنچے گا۔

حال ہی میں میر نے میکال حسن بینڈ کا ماضی کا انتہائی مقبول گانا ”چل بلیا“ اپنی آواز میں پیش کیا تھا۔  اس گانے کی میوزک ویڈیو مکمل طور پر سٹوڈیو میں شوٹ کی گئی ہے، جس میں ہمیں موجودہ دور میں شعبہ موسیقی میں استعمال ہونے والی جدید ٹیکنالوجیز کی جھلک نظر آتی ہے۔ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان میں لائیو میوزک کے زوال کی سب سے بڑی وجہ اسی قسم کی ٹیکنالوجی ہے۔

شعبہ موسیقی میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی روداد

موسیقی کی ریکارڈنگ میں پہلا انقلاب 1877ء میں اس وقت آیا جب تھامس ایڈیسن (Thomas Edison) نے فونوگراف ایجاد کیا۔ 1920ء کی دہائی میں آواز کیپچر کرنے والے مائیکروفون ایجاد ہوئے، جس سے آواز کے معیار میں بہت بہتری ممکن ہوئی۔ 1932ء میں بی بی سی مقناطیسی وائر ریکارڈنگ کا فائدہ اٹھانے والا پہلا ادارہ بن گیا۔ لیکن مقناطیسی وائر ریکارڈرز دوسری جنگ عظیم کے بعد صحیح معنوں میں مقبول ہونا شروع ہوئے۔ 1950ء کی دہائی میں پہلی بار دو ٹریک پر مشتمل ریکارڈنگ کی بنیاد رکھی گئی اور اگلی دہائی میں اس کی جگہ چار ٹریک پر مشتمل ریکارڈنگ نے لے لی۔ ڈیجیٹل ریکارڈنگ کا دور 1980ء میں شروع ہوا اور کمپیکٹ ڈسک اور ڈیجیٹل آڈیو ٹیپس نظر آنے لگے۔ اکیسویں صدی کی ابتداء میں کمپیوٹر سافٹ ویئر متعارف ہوا، اور اس طرح وینائل ریکارڈز سے سی ڈی تک کا ایک صدی لمبا سفر طے ہوا۔

پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) اور ریڈيو پاکستان نے ان تیزی سے تبدیل ہونے والی ٹیکنالوجیز سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ ایک زمانے میں موسیقاروں کے لیے صرف ریئل ٹائم گلوکاری ممکن تھی، لیکن پھر ایک وقت ایسا آیا جب میوزک پروڈيوسرز کے لیے مقناطیسی ٹیپ کو جوڑ توڑ کر گانوں میں ترمیم کرنے کی گنجائش پیدا ہوئی جس کے باعث گلوکاروں کے لیے ری ٹیک ممکن ہوئے۔

پانچ دہائیوں سے غزل اور لوک موسیقی کی دنیا میں اپنا لوہا منوانے والی گلوکارہ طاہرہ سید ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کو بتاتی ہيں کہ ”پہلا انقلاب اس وقت آیا جب ہم نے موسیقی پہلے سے ریکارڈ کرنے کے بعد ٹی وی پر صرف لپ سنکنگ (lip-syncing) کرنا شروع کی۔ میں شروع میں صرف ریئل ٹائم میں گانے گایا کرتی تھی، لیکن پھر ایک وقت آیا جب ای ایم آئی کے میوزک سٹوڈیو میں مجھ سے دس ٹیک کروائے جانے لگے۔ اس کے بعد دو یا تین ٹیکس کو قینچی سے کاٹ کر ایک ساتھ جوڑ دیا جاتا تھا۔ پھر مزید بہتر ٹیکنالوجی متعارف ہوئی اور ہم صرف تھوڑے تھوڑے کرکے گانے ریکارڈ کرواتے اور پھر میوزک سسٹمز کی مدد سے ہماری غلطیوں کی اصلاح کرلی جاتی۔ اس کے بعد ٹیکنالوجی تیزی سے آگے بڑھی اور گانے میں ایک ایک لفظ تبدیل کرنے کی سہولت دستیاب ہوئی۔“

نئی ٹیکنالوجیز کے باعث ریکارڈنگز میں غلطی کی گنجائش بالکل ختم ہوگئی ہے، لیکن طاہرہ سید جیسے سینئر گلوکاروں کا خیال ہے کہ موسیقار کی غلطیوں کو مکمل طور پر چھپالینے سے شعبہ موسیقی کو فائدہ نہيں بلکہ نقصان پہنچے گا۔ ان کے مطابق اس سے موسیقی میں ٹیکنالوجی کا عنصر زيادہ اور انسانی عنصر کم ہوتا جائے گا۔ اگر آٹوٹیونرز (auto-tuners) استعمال کرکے موسیقار کی آواز ہی سدھارنی ہے تو گلوکاری سیکھنے کا کیا فائدہ؟

کیا کمپیوٹرز کی وجہ سے انسانی فنکاروں کی ضرورت ختم ہوتی جارہی ہے؟

پاکستانی موسیقی میں ٹیکنالوجی کے اثرات نظر آتے ہيں اور اس کی ایک بہت اچھی مثال فلمی صنعت میں پائی جاتی ہے۔ پاکستانی موسیقی کا بیشتر حصہ فلمی صنعت کے لیے تیار کیا جاتا ہے، لیکن اب درجنوں موسیقار جو ایک زمانے میں کسی ایک فلم سٹوڈیو کے لیے کام کیا کرتے تھے، کمپیوٹر ٹیکنولوجیز کے باعث بے روزگار ہوچکے ہيں۔ ورچول سٹوڈيو ٹیکنالوجی کے ذریعے مختلف اقسام کی ترامیم ممکن ہیں لیکن اب چونکہ لائیو میوزک کا رواج ختم ہوگیا ہے، سگنل کے نقصان اور شور کا خاتمہ اور نوٹس سنکرونائزیشن جیسے بنیادی ٹیکنالوجیکل کاموں کی بھی ضرورت ختم ہوگئی ہے۔

اس کے علاوہ الیکٹرانک ڈانس میوزک (Electronic Dance Music – EDM) کی وجہ سے روایتی دھنوں کو الیکٹرانک تالوں کے ساتھ سنکرونائز کرنا بھی بہت آسان ہوگیا ہے۔ اس سے نہ صرف پروڈکشن بلکہ سنگیت (موسیقی) کے لیے درکار افرادی قوت کی ضرورت ختم ہوگئی ہے، اور اب یوں لگتا ہے جیسے لفظ ”سنگت“ (یعنی صحبت) سے نکلنے والے لفظ ”سنگیت“ کے معنی ہی بدل گئے ہیں۔ بعض ٹی وی پروگرامز میں بینڈز یا گروپس کو ایک ساتھ موسیقی بجاتے ہوئے دکھایا جاتا ہے، لیکن ان میں بھی آواز کو سافٹ ویئر کی مدد سے ترمیم کیا جاتا ہے۔

کوک سٹوڈیو (Coke Studio)، پیپسی بیٹل آف دی بینڈز (Pepsi Battle of the Bands)، اور نیس کیفے بیس مینٹ (Nescafe Basement) جیسے پلیٹ فارمز سے وابستہ متعدد موسیقاروں نے ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کو بتایا کہ ان پروگرامز میں ناظرین کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ فنکار لائیو گانے گارہے ہيں لیکن درحقیقت ان پروگرامز کو نشر کرنے سے پہلے سافٹ ویئر کی مدد سے ان کی آوازوں اور موسیقی کی ٹیوننگ کی جاتی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ کارپوریٹ برانڈز کی وجہ سے انسانی عنصر مزيد ختم ہوتا جارہا ہے اور کاروباری ماڈلز کی کامیابی کے لیے ”بے عیب“ آواز اور مخصوص اقسام کی موسیقی کا فروغ ضروری ہوچکا ہے۔ اس پیش رفت کے جواب میں چند کلاسیکی موسیقی کے شیدائیوں نے صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے ”حقیقی موسیقی“ کو فروغ دینے کی ذمہ داری اٹھالی ہے۔

موسیقی سکھانے کے لیے استعمال کی جانے والی ٹیکنالوجی

موسیقی اور ثقافتی نقاد علی عدنان کا شمار انہی افراد میں ہوتا ہے۔ عدنان اب تک کراچی، لندن، ڈیلس اور ہانگ کانگ جیسے دنیا بھر کے بڑے بڑے شہروں میں قوالی کے متعلق 73 سے زائد سیمینار منعقد کرواچکے ہیں، جن میں اکثر فن موسیقی کے فروغ کے لیے قوالی کے پروگرامز بھی شامل کیے جاتے ہيں۔

عدنان ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کو بتاتے ہيں کہ ”ہمیں سامعین کو اچھی موسیقی سننے کی تربیت فراہم کرنی چاہیے۔ لوگ وہ گانے سنتے ہیں جو ان کی نظر میں ’فیشن‘ بن چکے ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان گانوں کی مقبولیت زيادہ عرصے تک قائم نہيں رہتی۔ کوک سٹوڈیو بھی اسی وجہ سے زوال کی طرف جارہا ہے۔ شروع میں تو لوگوں کو بہت مختلف لگا لیکن اب یہ آئيڈیا پرانا ہوچکا ہے۔“

پچھلے چند سالوں کے دوران ڈیجیٹل دنیا میں قوالی میں دلچسپی میں دوبارہ اضافہ نظر آنا شروع ہوا ہے۔ علی عدنان کا خیال ہے کہ اس کی بہت بڑی وجہ تصوف کے متعلق مباحثات، لیکچرز، پینٹنگز، فلموں اور کتابوں کی آن لائن دستیابی ہے۔ ان کے مطابق اگر سامعین کو قوالی کے متعلق زيادہ معلومات فراہم کی جائے گی تو نہ صرف ان کی دلچسپی برقرار رہے گی بلکہ ان میں اچھی موسیقی جانچنے اور اس کی قدر کرنے کی بھی صلاحیت پیدا ہوگی۔

عدنان جنوبی ایشیائی روایتی، لوک اور کلاسیکی موسیقی کے 80,000 گھنٹوں لمبی ریکارڈنگز کو درست لیبلنگ اور کاپی رائٹ کے قوانین کی تعمیل کو یقینی بناتے ہوئے ڈيجیٹل شکل میں تبدیل کرچکے ہيں۔  اس میں سے 10,000 گھنٹوں کی ریکارڈنگز لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس (National College of Arts) کو عطیہ کی گئی ہیں۔ عدنان کے فیس بک اور یوٹیوب پر پیجز بھی موجود ہيں جہاں وہ موسیقی کے متعلق لیکچرز اپ لوڈ کرتے ہيں۔ ان کا خیال ہے کہ موسیقاروں کے علاوہ، موسیقی کے متعلق معلومات فراہم کرنے والے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بھی کثیرالجہتی نشریات کو یقینی بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا چاہیے۔ وہ کہتے ہيں کہ ”آن لائن موسیقی میں آگاہی، تعلیم اور ہدایات کا عنصر شامل کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر روشن آراء کا راگ شدھ کلیان سننے والوں کو ایک ہاٹ لنک کے ذریعے اس راگ کے علاوہ روشن آراء کی گلوکاری کے متعلق بنیادی معلومات پیش کی جاسکتی ہے۔“

ٹیکنالوجی کی مدد سے موسیقی کی دنیا میں قدم رکھنے والوں کے لیے بھی موسیقی سیکھنا زيادہ آسان ہورہا ہے۔ اب اساتذہ آن لائن ہی دنیا کے دوسرے کونے میں بیٹھے کسی کو بھی موسیقی سکھا سکتے ہيں۔ اس کے علاوہ، iLEHRA اور iTANPURA جیسی ایپس کے ذریعے تانپورہ اور تبلہ جیسے آلات بجانا بھی سکھایا جاسکتا ہے۔ تاہم ان ایپس کے استعمال کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ موسیقی سیکھنے کے خواہش مند افراد کو اپنے سامنے آلہ رکھنے کی ضرورت نہيں ہوتی۔

ریکارڈنگ ٹیکنالوجی میں تو تبدیلی آہی چکی ہے لیکن ساتھ ہی موسیقاروں کے شائقین تک موسیقی پہنچانے کے طریقوں میں بھی انقلاب نظر آیا ہے۔ جس صدی میں وینائل ریکارڈز اور سی ڈی متعارف ہوئے، اسی کے اختتام پر الیکٹرانک طور پر اینکوڈ شدہ موسیقی اور mp3 فارمیٹ عام ہونے لگے۔ 

بلیک پیرٹ سٹوڈیوز

ڈیجیٹل میڈيا

ریکارڈنگ ٹیکنالوجی میں تو تبدیلی آہی چکی ہے لیکن ساتھ ہی موسیقاروں کے شائقین تک موسیقی پہنچانے کے طریقوں میں بھی انقلاب نظر آیا ہے۔ جس صدی میں وینائل ریکارڈز اور سی ڈی متعارف ہوئے، اسی کے اختتام پر الیکٹرانک طور پر اینکوڈ شدہ موسیقی اور mp3 فارمیٹ عام ہونے لگے۔ پچھلی دو دہائیوں کے دوران انٹرنیٹ سٹریمنگ نے بھی زور پکڑ لیا ہے۔

آئی ٹیونز نے موسیقی کی خریداری کے تصور کو اور 2006ء میں سپاٹیفائی (Spotify) نے اکیسویں صدی میں موسیقی کی نشریات کے میدان کو پوری طرح بدل کر رکھ دیا۔ فروری 2015ء میں متعارف ہونے والی موسیقی سٹریمنگ کی ایپ پٹاری پاکستانی سپاٹیفائی بننے کی کوشش کررہی ہے۔ پٹاری ٹاپ چارٹس (Top Charts) کی میزبانی کرنے والے موسیقار اور مبصر علی آفتاب سعید کا کہنا ہے کہ پٹاری پر چارٹس کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس ڈیجیٹل دور میں وہی موسیقار آگے بڑھ رہے ہيں جو شائقین کو دوسروں سے مختلف قسم کی موسیقی پیش کرنے میں کامیاب ثابت ہوتے ہيں۔ وہ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کو بتاتے ہيں کہ ”اس ایپ سے آزاد موسیقار کو سب سے زيادہ فائدہ پہنچا ہے۔ پٹاری کے ٹاپ فائیو (Top 5) چارٹس میں عوامی طور پر مقبول موسیقی شاید ہی کبھی نظر آتی ہو۔ ہم مقامی اور دیسی فن کو فروغ دیتے ہيں۔ پٹاری نے حال ہی میں علاقائی موسیقی کی بہت بڑی لائبریری بھی متعارف کی ہے۔“

پٹاری اور تازی جیسی ایپس نے کئی موسیقاروں کے لیے پاکستانی موسیقی میں روئیلٹیز کا دیرینہ مسئلہ بھی حل کرلیا ہے۔ پٹاری نے ای ایم آئی اور پی ٹی وی کی لائبریریوں سے باقاعدہ طور پر موسیقی نشر کرنے کے حقوق خریدے ہیں اور اب ان کی نظریں ریڈیو پاکستان پر جمی ہوئی ہیں۔ موسیقاروں کو معاوضے کے طور پر پٹاری کے اشتہارات اور سبسکرپشنز سے حاصل کردہ رقم کا کچھ حصہ ملتا ہے۔

پٹاری جیسی ڈيجیٹل موسیقی کی نشریات کی کمپنیاں دو دہائی قبل نیپسٹر جیسی پیئر ٹو پیئر (peer-to-peer) موسیقی کی سہولیات کی وجہ سے کھڑے ہونے والے کاپی رائٹ کے مسائل کے بھی حل پیش کررہی ہیں۔ سعید بتاتے ہیں کہ کسی ڈسٹریبیوشن کی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بعد، فنکاروں کی گانوں کی چوری کے متعلق فکریں ختم ہوجاتی ہيں۔ یوٹیوب پر گانا لگ بھی جائے تو دیکھنے والوں کو فنکار کے کاپی رائٹ کے متعلق مطلع کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، فنکاروں کو اس ویڈيو سے حاصل کردہ آمدنی میں سے حصہ ضرور ملتا ہے۔

تاہم سعید اعتراف کرتے ہيں کہ ڈیجٹائزیشن کے فوائد کے ساتھ ساتھ نقصانات بھی موجود ہيں۔ وہ بتاتے ہيں کہ”اس وقت موسیقی بجانے کے لیے کئی اقسام کے میڈیا کا استعمال کیا جارہا ہے، جس کے باعث ہمارے لیے ٹی وی سپیکرز سے لے کر موبائل فونز، ہر قسم کے آلات پر ٹیسٹنگ کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ ہمیں اکثر موسیقی کے معیار پر بھی سمجھوتہ کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے کیونکہ ممکن ہے کہ جو آواز سٹوڈيو کے سپیکرز پر اچھی لگ رہی ہو وہ سمارٹ فون کے سپیکر کے لیے بہت زيادہ اونچی ہو۔“

یہ پراسیس ٹھیک اسی طرح ہے جس طرح ڈیجیٹل میڈیا بنانے والی کمپنیاں ویب سائٹس ڈیزائن کرتے وقت ان کی متعدد آلات پر ٹیسٹنگ کرتی ہيں، اور اکثر لے آؤٹ کو ان آلات کے مطابق ڈھالنے پر توجہ دیتی ہيں جہاں سے انہيں سب سے زيادہ ٹریفک موصول ہورہی ہو۔

بزنس ماڈلز کس طرح متاثر ہوئے ہيں؟

کئی ناقدین کا خیال ہے کہ کارپوریشنز کی مداخلت، ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار، اور نشریاتی پلیٹ فارمز کے مفادات کے باعث موسیقی فن کم اور ”اشتہاربازی“ زيادہ ہوچکی ہے۔

پٹاری کے سابق چیف آپریٹنگ افسر احمر نقوی کا کہنا ہے کہ ”المیہ یہ ہے کہ ماضی میں کبھی بھی مقامی موسیقی پر اتنی زیادہ رقم نہيں خرچ کی گئی جتنی کہ اب کی جارہی ہے۔ لیکن موسیقی کارپوریٹ مارکیٹنگ کے زمرے میں شامل ہوگئی ہے۔ پٹاری جیسی موسیقی کی ایپس کو کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان میں سے کچھ مسائل کا تعلق پاکستان میں معاوضے کی ادائيگی کا رجحان موجود نہ ہونے سے ہے۔ دوسرے مسائل کا تعلق اس بات سے ہے کہ پاکستان میں ایسے بہت کم افراد ہیں جو موسیقی سننے کے لیے پیسے خرچ کرنا چاہتے ہيں۔“

اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پٹاری جیسی ایپس کو منافع کمانے کے لیے اپنے اصولوں کی قربانی دے کر کارپوریشنز کا رخ کرنا پڑا۔ اب بڑے بڑے برانڈز پٹاری کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنے اشتہاری گانے پیش کرتے ہيں۔ نقوی کے مطابق اس پیش رفت کے باعث پٹاری اب مخص موسیقی نشر کرنے والی کمپنی نہيں رہی، بلکہ اب اسے ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ریکارڈ لیبلنگ، پبلک ریلیشنز اور ایونٹس منعقد کرنے کی ذمہ داریاں بھی سنبھالنی پڑ رہی ہيں۔

تاہم کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ موسیقی میں کارپوریشنز کا عمل دخل اس صنعت کے لیے نقصان دہ نہيں ہے۔ ان کے مطابق کوک سٹوڈيو، پیپسی بیٹل آف دی بینڈز اور نیس کیفے بیس مینٹ جیسے پروگرامز سے نہ صرف مقامی موسیقی کو تقویت ملے گی بلکہ کئی اطراز موسیقی کو ناپید ہونے سے بچانا بھی ممکن ہوگا۔

کوک سٹوڈیو

ایک طرف تو مقامی موسیقی کی پائیداری کے متعلق شک و شبہات موجود ہيں لیکن دوسری طرف کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جب بڑے بڑے برانڈز مقامی فنکاروں کی موسیقی کو فروغ دیتے ہیں تو پاکستان کی موسیقی کی صنعت کو وہ معاونت ملتی ہے جو اسے ماضی میں کبھی نہيں مل سکی۔

کوک سٹوڈيو سیزن 11 کے پروڈیوسر علی حمزہ کہتے ہيں کہ ”اگر کارپوریٹ پروگرامز اشتہاربازی کرنا چاہتے ہيں تو اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہوگی۔ کسی بھی کمپنی سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ثقافت یا معاشرے یا فنون لطیفہ کو فروغ دے، بہت بڑی بے وقوقی ہوگی۔ یہ ان کا کام نہيں ہے۔ ہمارے پاس موسیقی کے لیے انفراسٹرکچر کا اس قدر فقدان ہے کہ اب فنکار اس قسم کے پلیٹ فارمز کی توجہ کھینچنے کی کوشش کررہے ہيں۔ ان کا مقصد ایسے فنکاروں کو مواقع فراہم کرنے، بجٹ دینا، اور اچھے گانوں کو دوسروں تک پہنچانا ہے۔“

ماضی میں علی حمزہ نوری نامی راک بینڈ سے وابستہ تھے اور انہيں اچھے سے معلوم ہے کہ ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے کسی مقامی بینڈ کو کس طرح فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ 2000ء میں نوری نے اپنے کانسرٹ میں پہلی بار ”مجھے روکو“ پیش کیا، لیکن کازا (Kazaa) جیسے پیئر ٹو پیئر پلیٹ فارمز کی بدولت سامعین اس گانے کے بول سے پہلے سے ہی اچھی طرح واقف تھے۔ اسی دوران انڈس میوزک (Indus Music) جیسے ٹی وی چینلز بھی لانچ کیے گئے جن کے باعث نوری، میکال حسن بینڈ، اور اینٹیٹی پیراڈائم (Entity Paradigm) جیسے بینڈز کی موسیقی گھر گھر تک پہنچنا شروع ہوئی۔

حمزہ کہتے ہيں کہ ”اس وقت زندگی بہت آسان تھی۔ اب پلیٹ فارمز کے علاوہ، معیارات بھی عالمی پیمانے پر پھیلے ہوئے ہيں۔ موجودہ زمانے کے فنکار اپنے شائقین کی توجہ پانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کررہے ہیں، لیکن ساتھ ہی انہيں پرانے زمانے کے فنکاروں کے ساتھ بھی مقابلہ کرنا پڑرہا ہے جن کی موسیقی اتنے بڑے پیمانے پر تو نہیں پھیلی ہوئی، لیکن جنہوں نے اتنے عرصے میں بہت نام کمایا ہے۔ ٹیکنالوجی کی بدولت نوجوان اب بہت کچھ کرسکتے ہيں جو پہلے ممکن نہيں تھا۔ میرا خیال ہے کہ ان کی صلاحیتیں ہم سے کہیں زيادہ ہیں۔“

ایک طرف تو کسی گانے کی تخلیق کے لیے ضروری افراد کی تعداد میں کمی کو خاصی تنقید کا نشانہ بنایا گيا ہے لیکن دوسری طرف کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی بدولت موسیقاروں کو زيادہ اختیار حاصل ہوا ہے۔ انہیں دستیاب ٹولز میں اضافے کی باعث ان کے لیے اپنے شائقین کو زيادہ موسیقی پیش کرنا  اور ان کے طرز کے مطابق شائقین کی نشاندہی کرنا، دونوں ہی زيادہ آسان ہوگئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جہاں ٹیکنالوجی کی مدد سے مقامی موسیقاروں کو آگے بڑھنے کا موقع ملا ہے، وہیں پر انہیں مقامی موسیقی پر کام کرنے کی ترغیب بھی دی جاتی ہیں۔

تاہم ابھی بھی مقامی ثقافت کے باعث موسیقاروں کی راہ میں کئی رکاوٹیں حائل ہيں۔ پاکستانی معاشرے میں ابھی بھی موسیقی کو قابل قبول نہيں سمجھا جاتا اور اسی لیے موسیقاروں کے لیے کم عمر سے تربیت حاصل کرنا کافی مشکل ثابت ہوتا ہے۔

اس بے حرکتی کے نتیجے میں موسیقار نو آبجیکشن سرٹیفیکیٹس (No Objection Certificate) اور ٹیکسیشن جیسی حکومتی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے سے قاصر رہے ہيں۔ کئی افراد کا خیال ہے کہ لائیو اور دل سے نکلنے والی موسیقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ٹیکنالوجی نہيں بلکہ حکومت کی ناقص پالیسیاں ہيں۔

علی حمزہ کہتے ہيں کہ ”ترقی یافتہ ذہنیت رکھنے والے افراد یہ بات اچھے سے جانتے ہيں کہ کسی معاشرے کی ثقافت کی فروغ کے لیے موسیقی کا کردار کس قدر اہم ہے اور موسیقی کی پہچان قا‏ئم کرنا ضروری ہے۔ دوسری طرف، موسیقاروں کو بھی زیادہ تعداد میں اور خودمختار طور پر موسیقی پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ موسیقی کی صنعت کو پروان چڑھانے کے لیے سینئر موسیقاروں کو مل کر کوئی حل ڈھونڈنا ہوگا۔“


کنور خلدون شاہد لاہور میں رہائش پذیر صحافی ہيں۔

تحریر: کنور خلدون شاہد

مترجم: صوفیہ ضمیر

Read in English

Authors

*

Top