Global Editions

انٹرنیٹ کی بڑی ٹیک کمپنیوں سے آزادی

کلائوڈفلئیر کا "گیٹ وے" کا نظام ڈی سنٹرلائزڈویب کے دروازے کھولتا ہے۔

شاید بلاک چین کی طرف سے کیا گیا سب سے بڑے دعویٰ یہ ہے کہ وہ اس طرح کی ٹیکنالوجی اور دیگر نئے قسم کے انٹرنیٹ کی بنیاد بنا رکھ سکتے ہیں جس میں ویب سائٹ تک رسائی کا کنٹرول کچھ بڑی کارپوریشنز جیسا کہ گو گل اور ایمزون کی بجائےصارفین کے درمیان تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ خیال یہ ہے کہ اس طرح کا ایک تقسیم شدہ (یا ڈی سنٹرلائزڈ) ویب کا نظام سروس سے انکار جیسے حملوں، سنسرشپ اور یہاں تک کہ قدرتی آفات سے محفوظ ہو گا۔ وہاں کوئی ایسا نقطہ نہیں رہ جائے گا جو سسٹم کو ڈائون کر سکے۔

ڈی سنٹرلائزڈویب کے اجزاء پہلے سے ہی ابھر رہے ہیں لیکن یہ اہم وقت کے لئے تیار نہیں ہیں۔کلائوڈ فلئیر(Cloudflare) ایک کمپنی ہے جو دور دراز سرورز پر انٹرنیٹ کے مواد کو الگورتھم کا استعمال کرتے ہوئے صارفین کوجلدی جتنی جلدی ممکن ہو، پہنچاتی ہے۔ کلائوڈ فلئیر انٹرنیٹ کے نظام میں تبدیلی کے لئے مدد کرنا چاہتا ہے۔ اس حوالے سے پہلا قدم یہ ہےکہ کمپنی نے"گیٹ وے" بنایا ہے جس پر کوئی بھی کسی ویب سائٹ سے چلا سکتا ہے اور اس میں سٹور شدہ ڈیٹا کوفائل شئیرنگ نیٹ ورک جسے انٹرپلینیٹری فائل سسٹم (Interplanetary File System-IPFS) کہا جاتا ہے ، کے ذریعہ استعمال کرنا شروع کر سکتا ہے۔

کلائوڈ فلئیر کا مقصد ہے کہ آئی پی ایف ایس کوچار حروف والے انٹرنیٹ محور کے ایک جائز متبادل کے طور پر پیش کیا جائےجو تقریبا ہر ویب ایڈریس کے شروع میں ہوتا ہے: ایچ ٹی ٹی پی (HTTP)جو ہائپر ٹیکسٹ ٹرانسفر پروٹوکول کہلاتا ہے)۔ ایچ ٹی ٹی پی انٹرنیٹ کے صارفین کو معلومات فراہم کرنے کاایک مقررہ اصول ہے۔ایچ ٹی ٹی پی کے برعکس، جس میں ڈیٹا کےمقام کی شناخت ہوتی ہے، آئی پی ایف ایس میں ڈیٹا کی کرپیٹوگرافک فنگر پرنٹس سے شناخت ہوتی ہے جس کا جعلی ورژن نہیں بنایا جا سکتا۔ ڈیٹا ذخیرہ والے سرور کے آئی پی ایڈریس کا حوالہ دینے کی بجائے ، آئی پی ایف ایس کے صارفین مواد کی فنگر پرنٹ سے درخواست کرتے ہیں۔

کلاؤڈفلئیر کے کرپٹو گرافی کےسربراہ نک سلیوان(Nick Sullivan) کہتے ہیں کہ یہ اپروچ انٹرنیٹ کوزیادہ قابل اعتماد بناسکتی ہے کیونکہ صارفین کو ڈیٹا کے لئے تیسرے فریقوں پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ "اگر آپ جانتے ہیں کہ آپ کس چیز کو حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں تو آپ کسی اور چیز کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے دھوکہ میں نہیں آتے ہیں۔" آئی پی ایف ایس نیٹ ورک کا کام فائل شئیرنگ جیسی سروسز دینا ہے جیسا کہ بٹ ٹورنٹ (BitTorrent) ۔جب تک کوئی نیٹ ورک پر کوئی ڈیجیٹل اثاثہ جیسا کہ ویڈیو فائل یا ویب صفحہ کااشتراک کررہا ہے، تو پروٹوکول اس صارف کو درخواست پر یہ دستیاب کر سکتا ہے۔

یہاں کیچ ہے (اصل میں دو کیچ): اس کو استعمال کرنا مشکل ہےاور زیادہ تر صارفین کے لئے اس کا احساس بہت سست ہے۔ اس نقطے پر کلائوڈ فلئیر کا خیال ہے کہ یہ فرق ڈال سکتا ہے۔ کمپنی پہلے ہی دنیا بھر کے 154 ڈیٹا مراکز میں مقبول صفحات، فائلیں اور دیگر مواد کی کے کیشے (Cache) کو ذخیرہ رکھتا ہے اور ان فائلوں کو صارفین کی درخواست پر فراہم کرتا ہے۔ اپنے گیٹ وے کے نظام کے آغاز سے کلائوڈ فلئیر تیزی سے بڑےپیمانے پر آئی پی ایف ایس کے ذریعہ ڈیٹا پیش کر سکتا ہے۔

کرپٹوکٹیز(Cryptokitties) کے معاملے پر غور کریں جو کہ ایک ایسا کھیل ہے جس میں ایتھریم سمارٹ معاہدے کے تحت لوگ ڈیجیٹل بلیوں کی نسل بڑھاتے ہیں۔ ہر بلی کی ملکیت اور اور ڈیجیٹل "جینیٹکس" کو ایتھریم کے بلاک چین پر ٹریک کیا سکتا ہے۔ یہ ڈی سنٹرلائزڈ ہیں۔شریک بانی ڈائیٹر شرلی کا کہنا ہے کہ ان کی تصاویر ایمیزون سرور پر رہتی ہیں کیونکہ ان کو ڈی سنٹرلائزڈ طریقے سے سٹور کرنا اچھا آپشن نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلاشبہ ان کو بلاک چین پر سٹور کرنا بہت مہنگا کام ہو گا اوروہ سست اور قابل اعتماد نہیں چونکہ وہ آئی پی ایف ایس کا استعمال کرتے ہوئے ویب سائٹ سے تصاویر ڈائون لوڈ کر سکتے ہیں۔ لیکن کلائوڈ فئیر کے گیٹ وے کی کارکردگی نے کمپنی کو آئی پی ایف ایس سنجیدگی سے استعمال کرنے پر مجبور کیا ہے۔

ظاہر ہے، گیٹ وے خود سنٹرلائزڈ ہے کیونکہ یہ خود ایک سنگل کمپنی کے کنٹرول میں ہے لیکن کلائوڈ فلئیر کا کہنا ہے کہ آئی پی ایف ایس کے طریقےکا فائدہ اٹھایا گیا ہے جس سے صارفین ہی سائٹ مالکان کمپنی کے صیح ڈیٹا پر اعتماد کرتے ہیں۔ کلائوڈ فلئیرنیٹ ورک سے مواد کو تبدیل یا ہٹا یانہیں جا سکتا اور اگر یہ گیٹ وے بند کر دیتا ہے تو مواد وہیں موجود رہے گا۔ لہٰذا جب تک اس کے مکمل طور پر ڈی سنٹرلائز ڈکا تجربہ نہیں کر لیا جاتا، یہ علامتی طور پرپہلے والے نظام سے کم سنٹرلائزڈ ہے۔

تحریر: مائیک آرکٹ

Read in English

Authors
Top