Global Editions

فاربز میگزین کی "تھرٹی انڈر تھرٹی" فہرست میں نو پاکستانی شامل

فاربز میگزین نے 2019 کے لئے 30 سال سے کم 30افراد کی فہرست جاری کر دی ہے جس میں ایشیا سے نو پاکستانی شامل ہوئے۔نو میں سے سات نوجوان تبدیلی کے علمبردار شخصیات نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں حصہ ڈالا۔ ان پاکستانیوں نے تیرہ کیٹیگریز میں سے6میں اپنا نام پیدا کیا ہےجن کو فاربز نے ایشیا میں سے منتخب کیا ہے۔

زینب بی بی کو ـ"انڈسٹری، مینوفیکچرنگ اور انرجی ــ"کی کیٹگری میں شامل کیا گیا ہے۔ وہ پاکستان سوسائٹی فار گرین انرجی کی بانی ہیں۔ سوسائٹی 2013میں قائم کی گئی تاکہ قابل تجدید توانائی کے نئے طریقے ڈھونڈے جا سکیں۔ ان کی کمپنی نے کامیابی سے گندے ٹشو پیپر سے بائیو فیول بنایا ہے اور انہوں نے خشک سالی سے مقابلہ کرنے والا پوداکاملینا ساٹیوا(Camelina Sativa) متعارف کروایاجو کہ بائیو فیول بنا سکتا ہے۔ زینب بی بی نے ماضی میں پاکستان میں ماحول دوست اقدامات کے لئے عوامی حمایت پیدا کرنے پرکوئینز ینگ لیڈرز ایوارڈ(Queen's Young Leaders Award) حاصل کیا ہے۔

"انٹرپرائز ٹیکنالوجی" میں روشنی رائڈز کو شامل کیا گیا ہےجس نےخواتین مسافروں کے لئے دوستانہ پلیٹ فارم قائم کیا ہے۔ امریکہ کی رٹگرز یونیورسٹی سے چار ہم جماعتوں ہانہ لاکھانی، حسن عثمانی، گیا فاروقی اور منیب میاں نے روشنی رائڈز کی بنیاد رکھی کیا تاکہ ملک میں پناہ گزینوں کے لئے قابل اعتماد ٹرانسپورٹ کی خدمات فراہم کی جائیں۔ان کی کمپنی پناہ گزینوں کے لئے خاص روٹس پر سستا رکشہ کی سروس مہیا کرتی ہے جیسا کہ مارکیٹوں اور ہسپتالوں کےلئے۔  روشنی رائڈز نے 2017 میں 1 ملین ڈالر کا ہلٹ پرائز(Hult Prize) بھی جیتا تھا۔

جیسے جیسےماحولیاتی تبدیلی ترقی پذیر ممالک کے لئے تیزی سے اہم ہو تی جا رہی ہے، آبی ماہر لیلیٰ قصوری پائیدار ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔فاربز نے ان کا نام" ہیلتھ کئیر اورسائنس" کیٹگری میں شامل کیا ہے۔ انہوں نے ماحول دوست آبپاشی ، سیلاب کے خطرات کوکم کرنے اور دریا کے بیسن کی منصوبہ بندی پر کام کیا ہے۔ انہوں نے یہ کام بڑے اداروں جیسا کہ ورلڈ بینک، امریکی آرمی کی انجینئرنگ کور اور یو سی ڈیوس سینٹر فارواٹر شید کے ساتھ مل کر کیا ہے۔ قصوری اس وقت گلوبل گرین گروتھ انوسٹمنٹ کے پالیسی سلوشن ڈویژن میں آبی تجزیہ کار کے طور پر کام کر رہی ہیں۔

احمد رؤف عیسیٰ ملک کے ای کامرس سیکٹر پر کام کر رہے ہیں۔ وہ ابھی بزنس سکول میں ہیں لیکن وہ پاکستان میں ای کامرس کےسب سے بڑے پلیٹ فارم ٹیلی مارٹ کے شریک بانی ہیں۔ کمپنی کے پاس وسیع ہول سیل چینل بھی ہے جس میں 500سے زائدآن لائن ڈیلرز ہیں اور یہ بڑی فرموں جیسا کہ پراکٹر اینڈ گیمبل، لکی سیمنٹ اور یوفون کو خدمات فراہم کر رہی ہے۔عیسیٰ کا نام فاربزکی فہرست برائے "ری ٹیل اینڈ ای کامرس" میں شامل کیا گیا ہے۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کے علاوہ پاکستانیوں کا کام انٹرٹینمنٹ ​​اور کھیل کے ساتھ ساتھ سماجی شعبوں میں بھی تسلیم کیا گیا ہے۔

چترال سےکرشما علی اپنے آبائی شہر کی واحد خاتون فٹ بال کی کھلاڑی ہیں جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر کھیلتی ہیں۔ انہوں نے دبئی کےجوبلی گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے اور ان کی ٹیم آسٹریلین فٹبال انٹرنیشنل کپ میں حصہ لینے والی پاکستان کی واحد خواتین کی ٹیم تھی۔وہ چترال وومن سپورٹس کلب کی بھی بانی ہیں۔

زین اشرف کو سماجی انٹر پرینورز کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ وہ سیڈ آؤٹ کے بانی ہیں جو کہ پاکستان میں غربت ختم کرنے کے لئے پہلا کرائوڈ فنڈنگ پلیٹ فارم ہے اور بغیر سود کے مائیکروفنانسنگ کرتا ہے۔ کمپنی کے مطابق سیڈ آؤٹ میں قرضوں کی واپسی کی شرح 97 فیصد ہے اور اس نے538 مقامی انٹر پرینورز کو فنڈزاکٹھا کرنے میں مدد دی ہے۔ 2018 میں اشرف نے ترقیاتی کاموں میں اپنی کوششوں کے سبب کامن ویلتھ یوتھ ایوارڈ جیتا تھا۔

ٹیکنالوجی ریویو پاکستان

Read in English

Authors
Top