Global Editions

جسم پر چپک کر صحت کی صورتحال بتانے والا سٹیکر

دور جدید میں ٹیکنالوجی کے فروغ نے انسان کو اس کی صحت کے حوالے سے آگاہ رہنے پر مجبور کر دیا ہے اور یہ اچھا بھی ہے کیونکہ بیماریاں بڑھنے سے پہلے ہی علاج ممکن ہو جاتا ہے اور اس طرح انسان کئی طرح کی پریشانیوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ حال ہی میں ایک ایسا آلہ ایجاد کیا گیا ہے جو انسانی جسم پر ایک ٹیٹو کی طرح چپک جاتا ہے اور اسے چلانے کے لئے بیٹریوں کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ یہ آلہ آپکے سمارٹ فون سے منسلک ہو کر سمارٹ فون کی توانائی ہی استعمال کرتا ہے۔ جسم سے چپک کر صحت کی صورتحال سے آگاہ کرنے والا آلہ یونیورسٹی آف ایلینوائے کے جان راجرز سے تیار کیا ہے۔ یہ آلہ انسانی جلد سے چپک کر دل کی دھڑکنوں اور جسم کے درجہ حرارت مانیٹر کرتا ہے۔ اس آلے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایک تو یہ جسم سے چپک جاتا ہے اور دوسرا یہ کہ اس آلے کو کام میں لانے کے لئے یا چلانے کے لئے بیٹری سے منسلک نہیں کیا گیا یہ آلہ سمارٹ فون سے منسلک ہوتا ہے اور سمارٹ فون سے ہی توانائی حاصل کرتا ہے۔ سمارٹ فون سے خارج ہونے والے ریڈیو سگنل ہی اس آلے کو توانائی فراہم کرتے ہیں اور انہی سگنلز کی مدد سے آلہ انسانی جسم سے حاصل ہونے والی معلومات سمارٹ فون میں منتقل کرتا رہتا ہے۔ اس حوالے سے راجرز کا کہنا تھا کہ بیڑیوں کی عدم موجودگی اور سمارٹ فون سے منسلک ہونے کی وجہ سے یہ آلہ مارکیٹ میں موجود دیگر آلات سے نسبتاً کم قیمت پر دستیاب ہو گا اور کم وزن ہونے کی وجہ سے استعمال میں بھی آسان ہوگا اور جسم پر موجود رہنے کی وجہ سے صارف کو بھی کسی قسم کی کوفت کا سامنا نہیں کرنا پڑےگا۔ یہ آلہ نہایت حساس سینسرز سے مزین ہے اور اس میں دو چھوٹی ایل ای ڈی لائٹس بھی نصب ہیں جو دل کی دھڑکن کو مختلف رنگوں کی روشنی سے نمایاں کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس آلے کو نہایت چھوٹے سرکٹ جس میں میٹل وائرز نصب ہیں سے تیار کیا گیا ہے۔ راجرز کی جانب سے تیار کردہ اس آلے کے بارے میں تفصیلی رپورٹ معروف جریدے سائنس ایڈوانسز Science Advances میں شائع ہوئی ہے جس میں اس آلے کی کارکردگی کے بارے میں تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس آلے کی مدد سے نہ صرف دل کی دھڑکنوں کو مانیٹر کیا جا سکتا ہے بلکہ اس کی مدد سے خون میں آکسیجن کی مقدار کا بھی تعین کیا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جسم کے درجہ حرارت کو بھی مانیٹر کیا جاتاہے۔ اس حوالے سے آلے میں موجود ایل ای ڈی لائٹس روشنی کے فرق سے صورتحال کی عکاسی کرتی ہیں۔

تحریر: کیتھرائن بورزیک (Katherine Bourzac)

Read in English

Authors

*

Top